دبئی (جنگ نیوز) سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پاک بھارت باہمی سیریز میں مسائل سیکورٹی سے نہیں بلکہ بھارتی سرکار اور بورڈ حکام کی بدنیتی کی وجہ سے پیدا ہوئے۔ خلیجی اخبار کو انٹرویو میں انہوں نے کئی انکشافات کیے۔ نجم سیٹھی نے بتایا کہ 2015 میں سابق بھارتی بورڈ چیف سری نواسن نے ممبئی میں مدعو کیا تاکہ نیوٹرل مقام پر پاک بھارت کرکٹ بحالی کے معاہدے پر بات ہو، لیکن ہوٹل میں گھنٹوں انتظار کے بعد میٹنگ بغیر وجہ منسوخ کر دی گئی اور بتایا گیا کہ انہیں ایئرپورٹ لے جانے کیلئے پولیس کھڑی ہے۔ بھارت نے متعدد بار سیریز منسوخ کیں، پاکستان نے عدالتی راستہ اختیار کیا، تاہم آئی سی سی کی تنازعات ریویو کمیٹی نے بھارت کا ساتھ دیا۔ ٹی20 ورلڈ کپ کے معاملے میں پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہوگیا، جبکہ انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے بورڈز مالی مفادات کے سبب خاموش رہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موجودہ موقف کو دہرایا جو چند روز پی سی بی چیف محسن نقوی نے پیش کیا تھا۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ ورلڈکپ تنازع پر پاکستان اور آئی سی سی میں غیر رسمی بیک چینل بات چیت جاری ہے، مگر پاکستان نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔ اگر سیمی فائنل یا فائنل میں بھارت سے ٹکراؤ ہوا تو پاکستان ممکنہ طور پر 15 فروری والا موقف اختیار کرے گا۔ اس میں آئی سی سی جو بھی کارروائی کرے، پاکستان چیلنج کرے گا، جس سے قانونی و سیاسی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔