• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نکاح... فطری ضرورت، عفت و عصمت کی حقیقی ضمانت

ڈاکٹر نعمان نعیم

اس میں کوئی شک نہیں کہ کارگاہِ عالم کا سارا نظام اس قانونِ ازواجی پر مبنی ہے اور کائنات میں جتنی چیزیں نظر آرہی ہیں سب اسی قانون کا کرشمہ اور مظہر ہیں۔ (سورۃالذّاریات:۴۹) یہ اور بات ہے کہ مخلوقات کا ہر طبقہ اپنی نوعیت، کیفیت اور فطری مقاصد کے لحاظ سے مختلف ہے، لیکن اصل زوجیت ان سب میں وہی ایک ہے۔

البتہ انواعِ حیوانات میں انسان کو خاص کرکے یہ ظاہر کیاگیا ہے کہ اس کے زوجین کا تعلق محض شہوانی نہ ہو، بلکہ محبّت اور انس کا تعلق ہو دل کے لگاؤ اور روحوں کے اتصال کا تعلق ہو۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے راز دار اور شریک رنج و راحت ہوں، ان کے درمیان ایسی معیت اور دائمی وابستگی ہو جیسی لباس اور جسم میں ہوتی ہے۔

دونوں صنفوں کا یہی تعلق دراصل انسانی تمدن کی عمارت کا سنگِ بنیاد ہے اس ربط و تعلق کے بغیر نہ انسانی تمدن کی تعمیر ممکن ہے اور نہ ہی کسی انسانی خاندان کی تنظیم۔ جب یہ قانونِ ازواجی خالقِ کائنات کی طرف سے ہے تو یہ کبھی صنفی میلان کو کچلنے اور فنا کرنے والا نہیں ہوسکتا۔ 

اس سے نفرت اور کلی اجتناب کی تعلیم دینے والا بھی نہیں ہوسکتا، بلکہ اس میں لازماً ایسی گنجائش رکھی گئی ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اس اقتضاء کو پورا کرسکے حیوانی سرشت کے اقتضاء اور کار خانہٴ قدرت کے مقرر کردہ اصول و طریقہ کو جاری رکھنے کے لیے قدرت نے صنفی انتشار کے تمام دروازے مسدود کردئیے،اور ”نکاح“ کی صورت میں صرف ایک دروازہ کھولا۔ کسی بھی آسمانی مذہب و شریعت نے اس کے بغیر مرد و عورت کے باہمی اجتماع کو جائز قرار نہیں دیا۔

پھر اسلامی شریعت میں یہاں تک حکم دیا گیا ہے کہ اس فطری ضرورت کو تم پورا کرو، مگر منتشر اور بے ضابطہ تعلقات میں نہیں، چوری چھپے بھی نہیں، کھلے بندوں بے حیائی کے طریقے پر بھی نہیں، بلکہ باقاعدہ اعلان و اظہار کے ساتھ، تاکہ تمہاری سوسائٹی میں یہ بات معلوم اور مسلّم ہوجائے کہ فلاں مرد اور عورت ایک دوسرے کے ہوچکے ہیں۔

نبی کریمﷺ ایک ایسی قوم میں مبعوث ہوئے، جو تہذیب و تمدن کے ابتدائی درجہ میں تھی آپ ﷺکے سپرد اللہ نے صرف یہی کام نہیں کیا تھا کہ اُن کے عقائد وخیالات درست کریں، بلکہ یہ خدمت بھی آپ ﷺکے سپرد تھی کہ ان کا طرزِ زندگی، بود وباش اور رہن سہن بھی ٹھیک اور درست کریں۔ 

ان کو انسان بنائیں، انہیں شائستہ اخلاق، پاکیزہ معاشرت، مہذّب تمدن، نیک معاملات اور عمدہ آداب کی تعلیم دیں، یہ مقصد محض وعظ و تلقین اور قیل و قال سے پورا نہیں ہوسکتا تھا، 23سال کی مختصر مدت میں ایک پوری قوم کو وحشت و درندگی کے مقام سے اٹھاکر تہذیب کے بلند ترین مرتبہ تک پہنچا دینا اس طرح ممکن نہ تھاکہ محض مخصوص اوقات میں ان کو بلاکر کچھ زبانی ہدایات دےدی جائیں۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ آپﷺ خود اپنی زندگی میں ان کے سامنے انسانیت کا ایک مکمل ترین نمونہ پیش کرتے اور ان کو پورا موقع دیتے کہ اس نمونے کو دیکھیں اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق بنائیں۔

چنانچہ آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا، یہ آپ ﷺ کا انتہائی ایثار تھا کہ آپﷺ نے زندگی کے ہر شعبے کو قوم کی تعلیم و تربیت کے لیے عام کردیا۔ اپنی کسی چیز کو بھی پرائیویٹ اور مخصوص نہ رکھا۔ حتیٰ کہ ان معاملات کو بھی نہ چھپایا جنھیں دنیا میں کوئی شخص عوام کے لئےپیش کرنے پر آمادہ نہیں ہوسکتا۔ آپ ﷺ نے اتنا غیر معمولی ایثار اس لئے کیا، تاکہ رہتی دنیا تک کے لئے لوگوں کو بہترین نمونہ اور عمدہ نظیر مل سکے۔

اسی اندرونی اور خانگی حالات دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے آپﷺ نے متعدد نکاح فرمائے، تاکہ آپﷺ کی نجی زندگی کے حالات نہایت وثوق اور اعتماد کے ساتھ دنیا کے سامنے آجائیں اور ایک کثیر جماعت کی روایت کے بعد کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے اور شریعت کے وہ احکام ومسائل جو خاص عورتوں سے متعلق ہیں اور مردوں سے بیان کرنے میں حیاء اور حجاب مانع ہوتا ہے ایسے احکام شرعیہ کی تبلیغ ازواجِ مطہراتؓ کے ذریعے ہوجائے۔

تنہائی کے اضطراب میں، مصیبتوں کے تلاطم میں ساتھ دینے والی آپ ﷺکی غمگسار زوجہ امّ الموٴمنین حضرت خدیجہ رضی الله عنہا کا جب انتقال ہوگیا تو آپ ﷺنے چار سال بعد یہ ضروری سمجھا کہ آپ ﷺ کے حرم میں کوئی خاتون داخل ہوں جنہوں نے اپنی آنکھ اسلامی ماحول میں ہی میں کھولی ہو اور جو نبی اکرم ﷺکے گھرانے میں آ کر پروان چڑھیں، تاکہ ان کی تعلیم و تربیت ہر لحاظ سے مکمل اور مثالی طریقہ پر ہو اور وہ مسلمان عورتوں اور مردوں میں اسلامی تعلیمات پھیلانے کا موٴثر ترین ذریعہ بن سکیں۔

چنانچہ اس مقصد کے لیے مشیت الٰہی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کو منتخب فرمایا ۔ آپ ﷺکا نکاح ہوا، اس وقت حضرت عائشہ ؓ کی عمرکم تھی اور اُن کی والدئہ محترمہ حضرت امّ رومانؓ نے آثار و قرائن سے یہ اطمینان حاصل کرلیا تھا کہ وہ اب اس عمر کو پہنچ چکی ہیں کہ رخصتی کی جاسکتی ہے تو نبی اکرمﷺ کے پاس روانہ فرمایا اور اس طرح رخصتی کا عمل انجام پایا۔ (مسلم جلد۲، صفحہ ۴۵۶، اعلام النساء صفحہ ۱۱، جلد ۳، مطبوعہ بیروت)

حضرت عائشہ صدیقہؓ نےکتاب وسنت کے علوم میں گہری بصیرت حاصل کی۔ اسوئہ حسنہ اور آنحضورﷺ کے اعمال و ارشادات کا بہت بڑا ذخیرہ اپنے ذہن میں محفوظ رکھا اور درس و تدریس اور نقل و روایت کے ذریعے اُسے پوری امّت کے حوالے کردیا۔ حضرت عائشہؓ کے اپنے اقوال و آثار کے علاوہ اُن سے دوہزار دو سو دس مرفوع احادیث صحیحہ مروی ہیں اور حضرت ابوہریرہؓ کو چھوڑ کر صحابہؓ وصحابیاتؓ میں سے کسی کی بھی تعدادِ حدیث اس سے زائد نہیں۔

واضح رہے کہ اسلام میں لڑکے یا لڑکی کے لیے شادی کی کوئی خاص عمر متعین و مقرر نہیں کی گئی ہے، کسی بھی عمر میں شادی کرائی جاسکتی ہے، البتہ بلوغت سے پہلے لڑکے/ لڑکی خود سے شادی نہیں کرسکتے، بلکہ ولی کو ان کی شادی کرانے کا حق ہوتا ہے۔

حدیث شریف میں آیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ لڑکا لڑکی جب بالغ ہو جائیں اور ان کا جوڑا مل جائے تو شادی میں تاخیر نہ کرنی چاہئے، بلکہ جلد سے جلد نکاح کردینا چاہئے اور اپنے فریضہ سے ماں باپ کو سبکدوش ہو جانا چاہئے۔

نکاح کسی بھی عمر میں کیا جا سکتا ہے، شرعاً عمر کی کوئی تحدید نہیں ہے؛ البتہ ایک حدیث میں اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا کہ بالغ ہونے کے بعد (جتنی جلدی ہوسکے) اپنی اولاد کی شادی کردینی چاہئے، اگر باپ شادی نہ کرے اور نتیجۃً اولاد کسی غلط کام میں مبتلا ہوجائے تو کوتاہی کی وجہ سے باپ بھی گناہ گار ہوگا۔ (مشکاۃ ، رقم: ۳۱۳۸، باب الولی فی النکاح واستئذان المرأۃ )

شریعتِ مطہرہ میں نکاح کے لیے کوئی مخصوص عمر متعین نہیں کی گئی۔ بلوغت سے پہلے والدین کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے نابالغ بچوں کا نکاح کر سکتے ہیں، بشرطیکہ اس میں بچوں کا مفاد ہو۔ بلوغت کے بعد لڑکا یا لڑکی اپنے ولی کی رضا مندی سے خود بھی نکاح کر سکتے ہیں۔

جہاں شریعت نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ فائدہ اور مصلحت کو پیش نظر رکھ کر اپنے بچوں کا نکاح کراؤ ، وہاں شریعت نے اس بات کا بھی پابند بنایا ہے کہ یہ نکاح محض عصبیت یا قبائلی رواج کی وجہ سے نہ ہو ، ہر وہ نکاح جو بچے کے حق میں نقصان دہ ہو، شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی، یہ اجازت بغیر شرط کے نہیں، بلکہ بچے کی فلاح و تحفظ کے ساتھ مشروط ہے۔

مثال کے طور پر: اگر کوئی یتیم بچی ہو، جس کے والدین وفات پا چکے ہوں، اور اس کے نان و نفقہ، تعلیم و تربیت اور پردہ و تحفظ کا کوئی مناسب انتظام نہ ہو، تو ایسے حالات میں اس کا ولی یا مربی اس کے لیے کسی مناسب اور دین دار لڑکے کے ساتھ جو بچی کا کفو بھی ہو، نکاح کا انتظام کر سکتا ہے۔ اس کا مقصد صرف شادی کروانا نہیں ہوتا، بلکہ بچی کو محفوظ ماحول فراہم کرنا،پردہ، عفت اور عزت کی حفاظت کو یقینی بنانا، تعلیم و تعلّم کو جاری رکھنا،نان و نفقہ کا بہتر انتظام مہیا کرنا، وغیرہ جیسے مقاصد حاصل کرنا ہوتا ہے۔

بہتر طریقہ یہی ہے کہ بچوں کا نکاح بلوغت کے بعد کرایا جائے۔ کم سنی میں بچوں کا نکاح کرانے کی اگرچہ اجازت ہے، لیکن بسا اوقات اس کے بہت سے مفاسد بھی سامنے آتے ہیں، جس کی وجہ سے بہتر یہی معلوم ہوتا ہے کہ نکاح بلوغت کے بعد کرایا جائے۔ نکاح صرف ایک رسم یا معاہدہ نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ اور عملی ذمہ داری ہے، جس میں دونوں فریق کو شعور، سمجھ بوجھ اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔

کم سنی میں یہ صلاحیتیں عموماً نہیں ہوتیں، اس لیے ایسا نکاح اکثر مسائل پیدا کرتا ہے۔ نکاح کی بنیادبعض اوقات پر قبائلی یا خاندانی عصبیت پر ہوتی ہے،بعد میں لڑکے لڑکی میں مناسبت نہ ہونے کی صورت میں نباہ مشکل نظر آتا ہے، مگر والدین اپنے فیصلہ سے پیچھے ہٹنے میں اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں اور ہر صورت میں وہیں رخصت کرنا چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے بسا اوقات متعدد مسائل جنم لیتے ہیں۔

مشاہدہ یہ بھی ہے کہ کم عمری میں نکاح کے بعد وقت کے ساتھ بچوں کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ بلوغت کے بعد کبھی لڑکی نکاح سے انکار کر دیتی ہے، یا لڑکا کسی اور تعلق کی طرف مائل ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور دو خاندانوں میں قطع تعلق کی نوبت آتی ہے۔ فتاوی جات میں یہی حکم لکھا گیا ہے: شادی کے لئے کوئی عمر مقرر نہیں، ہر عمر میں نکاح کرنا جائز ہے، مگر بہتر یہ ہےکہ بلوغ کے بعد نکاح کیا جائے۔(فتاویٰ عثمانی، جلد دوم،ص:۳۰۸ )

لڑکے اور لڑکی کا نکاح بالغ ہو جانے کے بعد کرایا جائے ،بچپن میں نکاح شرعاً منعقد تو ہو جاتا ہے، لیکن بلوغ کو پہنچ جانے کے بعد حالات کے بدل جانے یا لڑکے کےشب و روز بگڑ جانے کی وجہ سے بہت سے مفاسد پیدا ہو جاتے ہیں جن کا تدارک مشکل ہو جاتا ہے۔(نجم الفتاویٰ، کتاب النکاح، ص:۹۵ )شریعت نےکم سنی میں بچوں کے نکاح کرانے کی اجازت دی ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ بلوغت کے بعد ہی نکاح کرایا جائے۔

دین اسلام میں بلوغت کے بعد جلد ہی شادی کر لینے کو پسند کیا گیا ہے اگرچہ اس کے لیے کوئی عمر مختص نہیں کی گئی ہے۔ دینی تعلیمات اور معاشرتی رجحانات کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ شادی کی بہترین عمر سترہ اور اکیس ہے یعنی لڑکی کے لیے سترہ سال اور لڑکےکے لیے اکیس سال۔ 

تاخیر میں شادی کے بڑے نقصانات میں سے ایک یہ ہے کہ بہتر سے بہتر کی امید میں مزید تاخیر ہوتی ہی رہتی ہے یہاں تک کہ انسان کی شادی کی عمر نکل جائے۔ پھر شادی نہ ہونے یا تاخیر سے ہونےکی وجہ سے بڑی عمر میں نفسیاتی مسائل کا بڑھ جانا بھی ایک بڑا نقصان ہے۔

اقراء سے مزید