• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بے حُرمتی سے بچانے کی نیت سے مقدّس اوراق جلانے کا حکم

تفہیم المسائل

سوال: ایک صحیح العقیدہ امام مسجد نے مسجد میں موجود کچھ مقدس اوراق کو صحیح بخاری کی حدیث:4987کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نیت سے جلایا کہ یہ طریقہ زیادہ محفوظ اور مناسب ہے۔ امام صاحب تک یہ بات پہنچی تھی کہ ان اوراق کو ایک قریبی ڈیم میں بہایاجاتا ہے، جہاں پانی کے اتار چڑھاؤ کے سبب یہ بہہ کر جھاڑیوں یا نالوں میں پہنچ جاتے ہیں، جس سے بے حرمتی کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

ان اوراق کو جلاتے وقت توہین کی نیت قطعاً نہیں تھی، بلکہ محض اس طریقے کو محفوظ سمجھتے ہوئے ایساعمل کیا۔ اب توجہ دلانے پر امام صاحب نادم ہیں اور توبہ واستغفار کررہے ہیں، کیا ان کا یہ عمل خطا شمار ہوگا، ان پر کوئی کفّارہ یا مزید توبہ واستغفار لازم ہے ؟ (علامہ جابر علی برکاتی، اٹک)

جواب: آپ نے سوال میں صحیح بخاری کی جس حدیث کا حوالہ دیا ہے، ذیل میں پوری حدیث درج کرنے کے بعد صورتِ مسئولہ پر بات کریں گے: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت حذیفہ بن یمان حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اس وقت حضرت حذیفہؓ اہل شام سے مل کر جہاد کررہے تھے، تب حضرت حذیفہؓ مسلمانوں کے قرآن مجید پڑھنے میں اختلاف سے گھبراگئے تھے۔

پس حضرت حذیفہؓ نے حضرت عثمانؓ سے کہا:’’ اے امیر المومنین ! اس سے پہلے کہ یہ اُمّت کتاب میں یہود ونصاریٰ کے اختلاف کی طرح اختلاف کرنے لگے ،آپ اس کا تدارک کرلیجیے، پھر حضرت عثمان ؓ نے امّ المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے پاس وہ مصحف بھیج دیں ، ہم اس کے موافق مصاحف لکھیں گے، پھر ہم اسے آپ کو واپس کردیں گے، پس حضرت حفصہؓ نے وہ مصحف حضرت عثمان ؓ کی طرف بھیج دیا، پھر حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ ،حضرت سعید بن العاصؓ اور حضرت عبدالرحمن بن حارث بن ہشامؓ کو یہ حکم دیا کہ وہ اس نسخے کے موافق مصاحف لکھیں، پھر حضرت عثمان ؓ نے تین قریشی صحابہؓ سے یہ کہا: جب تمہارا اور حضرت زید بن ثابتؓ کا کسی لفظ پر اختلاف ہوتو تم اس لفظ کو قریش کی زبان کے موافق لکھنا کیونکہ قرآن مجید قریش کی زبان پر نازل ہواہے، سو انہوں نے اسی طرح کیا ،حتیٰ کہ جب انہوں نے مصاحف میں اس مصحف کے موافق لکھ لیا توپھر حضرت عثمان ؓ نے وہ مصحف حضرت حفصہؓ کی طرف واپس کردیا، پھر انہوں نے تمام شہروں میں اس مصحف کی نقل بھیج دی ،جس کو انہوں نے لکھا تھا اور حکم دیاکہ اس کے سوا قرآن مجید کے ہرصحیفہ یا مصحف کو جلادیاجائے ،(صحیح بخاری :4987)‘‘۔

حضرت عثمان غنی ؓ کے جمعِ قرآن کے موقع پر اختلافی نسخوں کو جلانے کا عمل قرآن کی حفاظت کی غرض سے تھا، اس میں بھی ہمارے فقہاء کی آراء مختلف ہیں: حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ لکھتے ہیں: (۱)ترجمہ:’’ سوید بن غفلہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے : حضرت عثمانؓ نے جو مصاحف کو جلوایا تھا، اُن کے متعلق خیر کے سوا کچھ نہ کہو ‘‘مزید لکھتے ہیں: ترجمہ:’’قاضی عیاض نے وثوق سے کہا ہے: انہوں نے پہلے ان مصاحف کوپانی سے دھویا ،پھر ان کو جلایا تاکہ ان مصاحف کو محو کرنے میں مبالغہ ہوجائے‘‘۔

مزید لکھتے ہیں: (۲)ترجمہ:’’ ابن عطیہ نے کہا اور مہملہ کی روایت زیادہ صحیح ہے : یہ اُس وقت کاحکم ہے اوراب ایسے رسائل کو دھونا اَولیٰ ہے، جب ان کے ازالہ کی ضرورت ہو ،(فَتحُ الْبَارِی لِابْن حَجَر،جلد9،ص:21)‘‘۔

علامہ ابو حفص عمر بن علی بن احمد انصاری المعروف بابن مُلقّن لکھتے ہیں: (۳) ترجمہ:’’ ابن عطیہ نے کہااور مہملہ کی روایت زیادہ بہتر ہے: جو شخص ان صحائف کو پھاڑے، تو وہ بعد میں ان کو دفن کرے اور اب اگر اُن کو زائل کرنے کی ضرورت ہوتو اُن کو دھونا اَولیٰ ہے اور حضرت عثمان ؓ نے ان صحائف کو اس لیے جلایاتھا کہ ان میں شاذ اور متواتر قرا ء تیں مختلط تھیں اور ان کو اس میں تحریف کا خدشہ تھا یا اس لیے کہ ان مصاحف کا مکمل خاتمہ ہوجائے، (اَلتَّوضِیْح لِشَرح الْجَامِعُ الصَّحِیْح، جلد25،ص:24)‘‘۔

شیخ عبدالحق مُحدّث دہلوی لکھتے ہیں: ’’حضرت عثمانؓ نے یہ حکم دیا کہ ہر صحیفے کو جلادیاجائے یا ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے، اس میں راوی کو شک ہے کہ یہ لفظ ’’ یُحْرِقَ‘‘ہے یا ’’ یُخْرِقَ‘‘ہے،(اَشِعَّۃ اللَّمْعَات، جلد2، ص:175)‘‘۔

امام اہلسنّت امام احمد رضاقادری ؒ لکھتے ہیں: ’’ صحابہؓ سے کہ اِحراق( اَوراقِ قرآنی کو جلانا ) واقع ہوا،کَمَا فِی حَدِیث البُخَارِیْ(جیساکہ بخاری کی حدیث میں ہے) بغرض رفع فتنہ وفساد تھا اور بالکلیہ رفع اُس کا اسی طریقہ پر منحصر کہ صورت دفن میں اُن لوگوں سے جنہیں مصاحف مُحرَقہ اور اُن کی ترتیب خلافِ واقع پر اصرار تھا، احتمال اِخراج تھا(یعنی خدشہ تھاکہ وہ ان دفن شدہ اوراق کو نکال کر دوبارہ کوئی اختلاف کی صورت پیدانہ کردیں) بخلاف مانحن فیہ کہ یہاں مقصود حفظ مصحف ہے، بے ادبی اور ضائع ہوجانے سے اوریہ امر طریقۂ دفن میں کہ مختارِعلماء ہے ،(فتاویٰ رضویہ ، جلد23،ص:339)‘‘۔

یعنی موجودہ صورت حال میں دفن کی صورت میں اب وہ اندیشہ باقی نہیں رہا، کیونکہ اب قرآن کریم کے تمام نسخے یکساں اور مُتفق علیہا ہیں، مزید کہ اس دور میں بھی جلانے سے پہلے مکتوب اوراق کو پانی سے دھودیاگیا اورکتابت کے نقش باقی نہ رہے تھے اور دھووَن کا پانی پاک زمین میں دفن کردیا گیاتھا۔

اُس وقت فتنہ وفساد دور کرنے کے لیے جلانا قرینِ مصلحت تھا ، موجودہ دور میں جلانا فتنہ وفساد کا سبب ہے ۔قرآنِ مجید یا اُس کے اَوراق کو بقصدِ اِہانت جلانا کفر ہے، تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ B-295کے تحت توہینِ قرآن کے مجرم کی سزا عمر قید ہے، البتہ اگر کسی نے ناسمجھی میں اَوراقِ قرآنی کو بے اَدبی سے بچانے کی غرض سے جلا دیا تو اس کو کافر قرارنہیں دیا جائے گا۔ 

ہمارے دور میں کسی دستاویز یا اوراق کو جلانا احتجاج ، توہین اور تحقیر کی علامت سمجھا جاتا ہے، آگ سے جلانے میں فتنہ اور بے ادبی کا اندیشہ ہے، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے، اگر غلطی سے جلادیاہے تو آخرت میں اس کی پکڑ نہیں ہے۔ مذکورہ امام صاحب کاحضرت عثمان غنیؓ کے اس عمل کو اپنے لیے جواز کی دلیل بنانا اُن کی فکری خطا ہے، حدیث ِ پاک میں ہے: ترجمہ: حضرت ابو ذرغفاری ؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺنے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے میری امّت سے خطا اورنسیان کو معاف کردیا ہے اور اس گناہ سے بھی معافی عطا فرمادی ہے، جس میں زبردستی مبتلا کیا گیا ہو،(سُنن ابن ماجہ : 2043)‘‘۔

موجودہ دور میں ٹیکنیکل اعتبار سے ان اَوراق کی ری سائیکلنگ(یعنی دوبارہ قابل استعمال بنانا)ممکن ہے ،ہم احتیاط پر مبنی چند شرائط کے ساتھ مُقدّس اوراق کی ری سائیکلنگ کے جواز کا حکم دیتے ہیں، تفصیلی فتاویٰ ہمارے مجموعۂ فتاویٰ ’’تفہیم المسائل ‘‘ میں موجود ہیں۔

فقہائے احناف کا مذہب یہ ہے کہ مصحف بوسیدہ ہوجائے، قابلِ استعمال نہ رہے ،تو اُسے آگ میں نہیں جلایاجائے گا بلکہ مصحف کو ایک پاک کپڑے میں لپیٹ کر اور لحد(بغلی قبرکی طرح جگہ) بنا کر دفن کردیا جائے ،علامہ ابن عابدین شامی ؒ لکھتے ہیں:ترجمہ:’’اور ذخیرہ میں ہے: مُصْحَف جب بوسیدہ ہوجائے اور اُسے پڑھا نہ جاسکتا ہوتو اس کو آگ میں نہیں جلایا جائے گا ۔ (جاری ہے)

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید