آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال:1. کیا رمضان میں ہی زکوٰۃ دینا ضروری ہے یا سال کے درمیان میں بھی دی جاسکتی ہے؟
2. اگر کسی کو صاحبِ نصاب ہونے کی تاریخ یاد نہ ہو تو کیا وہ رمضان المبارک میں سال کا حساب کرسکتا ہے؟
جواب:1. رمضان میں ہی زکوٰۃ ادا کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ زکوٰۃ واجب ہونے اور ادا کرنے کا تعلق صاحبِ نصاب ہونے کی تاریخ سے ہے، جس تاریخ کو بھی آدمی صاحبِ نصاب ہوجائے زکوٰۃ کا نفسِ وجوب اس سے متعلق ہوجاتا ہے، لیکن زکوٰۃ ادا کرنا فوری طور پر واجب نہیں ہوتا، زکوٰۃ کی ادائیگی اس وقت واجب ہوتی ہے، جب صاحبِ نصاب ہونے کے بعد چاند کی تاریخوں کے اعتبار سے سال مکمل ہوجائے، لہٰذا جس تاریخ کو آدمی صاحبِ نصاب ہو، چاند کی وہ تاریخ نوٹ کرلینی چاہیے، پھر قمری اعتبار سے اس تاریخ پر جب سال مکمل ہو اور آدمی اس وقت بھی صاحبِ نصاب ہو تو اپنے قابلِ زکوٰۃ مال کا حساب کرکے جلد از جلد زکوٰۃ کا فریضہ ادا کرلینا چاہیے، خواہ وہ کوئی بھی مہینہ ہو، رمضان کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، بالخصوص اگر رمضان کی آمد میں زیادہ وقت باقی ہو تو رمضان کا انتظار کیے بغیر زکوٰۃ کی ذمہ داری سے سبک دوش ہوجانا چاہیے۔
تاہم اگر رمضان المبارک کی آمد قریب ہی ہو، (مثلاً کسی شخص کی زکوٰۃ کا سال شعبان میں مکمل ہوتا ہو) یا کسی عذر کی وجہ سے فوری طور پر زکوٰۃ ادا نہ کرسکے اور ماہِ رمضان میں زکوٰۃ ادا کرلے تو امید ہے کہ یہ اضافی اجر و ثواب کا سبب ہوگا، جیساکہ حدیث شریف میں ہے کہ رمضان میں ایک نفل ادا کرنا فرض کے برابر اور ایک فرض ادا کرنا ستّر فرائض کے برابر ہے۔
یہ بھی ملحوظ رہے کہ اگر کوئی شخص زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے بعد کسی مجبوری کی وجہ سے فوری طور پر زکوٰۃ ادا نہ کرسکے تو آئندہ سال مکمل ہونے سے پہلے پہلے گزشتہ سال کی زکوٰۃ ضرور ادا کرلینی چاہیے، ورنہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر کی بناء پر گناہ ہوگا۔
2. اگر کسی کو اپنے صاحبِ نصاب بننے کی تاریخ معلوم نہ ہو تو خوب غور وفکر کے بعد چاند کی جس تاریخ کا گمان غالب ہو، وہ تاریخ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے متعین کرلے۔ اگر کسی تاریخ کے بارے میں گمان غالب نہ ہو تو رمضان المبارک یا کوئی بھی قمری تاریخ متعین کرسکتا ہے۔
بعض اہلِ علم فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کی زکوٰۃ کی تاریخ رمضان کے علاوہ ہو، لیکن وہ رمضان المبارک سے اپنی زکوٰۃ کا حساب کرنا چاہے تو ایسے بھی کرسکتا ہے، تاہم اس صورت میں پہلے سال اسے احتیاطاً کچھ اضافی زکوٰۃ ادا کردینی چاہیے، تاکہ تاریخوں کی تبدیلی سے ملکیت اور قیمتوں میں فرق کا جو امکان ہے، حتیٰ الوسع اس کا لحاظ ہوجائے۔
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk