• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’رمضان کریم‘‘ رحمت، مغفرت اور نجات کے نورانی سفر کا نقطہ آغاز

علّامہ ہشام الٰہی ظہیر

رمضان کریم خیر و برکتوں، رحمتوں، مغفرتوں اور نجات کا وہ عظیم مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام مہینوں پر فضیلت عطا فرمائی، یہ ایسا مقدس ماہ ِمبارک ہے جس میں زمین و آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں، دلوں کی بنجر زمین سیراب ہوتی ہے اور انسان اپنے رب سے قرب حاصل کرنے کے بے شمار مواقع پاتا ہے، یہی وہ مہینہ ہے جس کے دن عبادت بن جاتے ہیں اور جس کی راتیں نور، سکون اور عظمت سے لبریز ہو جاتی ہیں، قرآن مجید نے اس مہینے کی عظمت کو واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے: رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی واضح دلیلیں رکھتا ہے‘‘۔ 

یہ آیت اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ رمضان محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں، بلکہ ہدایت، اصلاح اور روحانی بیداری کا موسم ہے، قرآن کا نزول اسی مہینے میں ہوا جس نے انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف رہنمائی دی، اسی لیے اس مہینے میں قرآن سے تعلق مضبوط کرنا، اس کی تلاوت، فہم اور عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا سب سے بڑی عبادت شمار ہوتی ہے۔

رمضان کے دن روزے سے آراستہ ہوتے ہیں اور روزہ محض ظاہری عبادت نہیں بلکہ ایک باطنی تربیت ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے ،تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو‘‘۔ 

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ روزے کا اصل مقصد تقویٰ ہے، یعنی اللہ کا خوف، اس کی اطاعت اور گناہوں سے بچنے کا جذبہ، روزہ انسان کے نفس کو قابو میں لاتا ہے، خواہشات کو محدود کرتا ہے اور صبر و شکر کی عملی تربیت فراہم کرتا ہے، رسول اکرم ﷺ نے روزے کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: الصيام جُنَّةٌ، روزہ ڈھال ہے، جو انسان کو گناہوں اور جہنم کی آگ سے بچاتا ہے، ایک اور حدیث میں ہے کہ جب رمضان آتا ہے تو جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں، یہ حدیث اس مہینے کے روحانی ماحول کی عکاسی کرتی ہے جس میں نیکی کی راہیں آسان اور برائی کی راہیں مشکل ہو جاتی ہیں۔

رمضان کی راتیں بھی بے مثال عظمت رکھتی ہیں، خصوصاً وہ رات جسے لیلۃ القدر کہا جاتا ہے، قرآن مجید میں اس رات کی فضیلت یوں بیان ہوئی ہے: لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ،شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اس ایک رات کی عبادت 83 سال سے زائد عبادت کے برابر قرار دی گئی، اس رات میں فرشتے اور روح الامین جبرائیل علیہ السلام اللہ کے حکم سے نازل ہوتے ہیں اور سلامتی ہی سلامتی ہوتی ہے طلوع فجر تک، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کرے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، یہ رات اللہ کی بے پایاں رحمت کا عملی اعلان ہے جو بندوں کو گناہوں کے بوجھ سے آزاد کرنے کے لیے عطا کی گئی۔

رمضان سخاوت اور ہمدردی کا مہینہ بھی ہے، اس مہینے میں زکوٰۃ، صدقات اور فطرانہ ادا کرنے کی ترغیب دی گئی، تاکہ معاشرے کے کمزور طبقات کی ضرورتیں پوری ہوں اور معاشرتی توازن قائم رہے، نبی کریم ﷺ رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہو جایا کرتے تھے، حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ کی سخاوت تیز ہوا سے بھی زیادہ ہوتی تھی، اس مہینے میں ایک روزے دار کو افطار کرانے پر اتنا ہی اجر ملتا ہے ،جتنا روزہ رکھنے والے کو، بغیر اس کے کہ اس کے اجر میں کوئی کمی ہو، یہ تعلیم ہمیں ایثار، محبت اور بھائی چارے کا سبق دیتی ہے۔

رمضان دعا کی قبولیت کا خصوصی مہینہ ہے، قرآن مجید میں روزے کے احکام کے درمیان دعا کی قبولیت کا ذکر یوں آیا: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ، میں قریب ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان میں بندے اور رب کے درمیان قربت کی کیفیت مزید بڑھ جاتی ہے، افطار کے وقت روزے دار کی دعا رد نہیں کی جاتی، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ مہینہ توبہ، استغفار اور اللہ سے لو لگانے کا بہترین موقع ہے۔

رمضان کا پیغام محض ایک مہینے تک محدود نہیں، بلکہ یہ پورے سال کی زندگی کو سنوارنے کے لیے آتا ہے، یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر ایک مہینہ نفس پر قابو پایا جا سکتا ہے تو باقی گیارہ مہینے بھی اللہ کی اطاعت میں گزارے جا سکتے ہیں، یہ مہینہ ہمیں نظم و ضبط، وقت کی قدر، عبادت کی لذت اور انسانیت کی خدمت کا شعور دیتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بدبخت ہے وہ شخص جس نے رمضان پایا اور پھر بھی اپنی مغفرت نہ کرا سکا، یہ حدیث ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ اس عظیم مہینے کو غفلت میں گزارنا سب سے بڑا نقصان ہے۔

یوں رمضان اپنی رحمتوں، برکتوں اور عظمتوں کے ساتھ ہر سال آتا ہے، تاکہ انسان کو اس کے رب سے جوڑ دے، اس کے دل کو پاک کرے، اس کی زندگی کو مقصد عطا کرے اور اسے تقویٰ کے راستے پر گامزن کر دے، جو شخص اس مہینے کی قدر پہچان لے وہ دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کر لیتا ہے، اور جو اس کی روح سے محروم رہ جائے وہ خود اپنے آپ کو عظیم نعمت سے محروم کر لیتا ہے، یہی رمضان کا اصل پیغام اور اس کی حقیقی عظمت ہے۔

اقراء سے مزید