مولانا محمد راشد شفیع
ماہِ رمضان المبارک اپنی عظمت، رفعت، برکت اور روحانی اثرات کے اعتبار سے سال کے تمام مہینوں میں ایک خاص اور ممتاز مقام رکھتا ہے۔ یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے خصوصی انعام اور نعمت بنا کر بھیجا ہے، تاکہ وہ غفلت کی نیند سے بیدار ہوں، اپنے رب کی طرف رجوع کریں اور اپنی زندگی کو نیکی کے سانچے میں ڈھال سکیں۔
یہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآنِ کریم کا نزول ہوا، وہ عظیم کتاب جو انسانیت کے لیے سراپا ہدایت، نور اور رہنمائی ہے، اسی وجہ سے رمضان کا تعلق براہِ راست کلامِ الٰہی سے جڑ جاتا ہے۔ جب رمضان المبارک کی آمد ہوتی ہے تو رحمتِ الٰہی کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، مغفرت کی ہوائیں چلنے لگتی ہیں، اور دلوں میں نیکی کی طرف رغبت اور میلان پیدا ہو جاتا ہے۔ ایمان کی کیفیت میں تازگی آتی ہے، عبادات میں لذت محسوس ہونے لگتی ہے اور بندہ اپنے رب سے قربت حاصل کرنے کی فکر میں لگ جاتا ہے۔
رمضان المبارک انسان کو تقویٰ اور پرہیزگاری کی عملی تربیت دیتا ہے۔ روزہ محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ نفس کو قابو میں رکھنے، خواہشات کو دبانے، زبان کو گناہوں سے بچانے، آنکھوں کی حفاظت کرنے اور دل کو پاک کرنے کا ایک مکمل تربیتی نظام ہے۔ اس مہینے میں صبر، شکر، برداشت، حلم اور ایثار جیسی صفات انسان کے اندر نکھر کر سامنے آتی ہیں، اور بندہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے لگتا ہے۔ چونکہ اس مہینے میں نیکیوں کے اجر کو کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اس لیے عبادت میں شوق، محنت اور دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے۔
یہ مبارک مہینہ دلوں میں نرمی، عاجزی اور انکساری پیدا کرتا ہے۔ انسان غریبوں، محتاجوں اور ضرورت مندوں کی تکلیف کو محسوس کرتا ہے، ان کی مدد کا جذبہ بیدار ہوتا ہے اور خیر و بھلائی کے کاموں کی طرف رغبت بڑھ جاتی ہے۔ توبہ و استغفار کا دروازہ پوری طرح کھلا ہوتا ہے اور بندہ اپنے گناہوں پر نادم ہو کر ربِ کریم کے حضور جھک جاتا ہے۔
تراویح، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور دعاؤں کا اہتمام دل و روح کو تازگی عطا کرتا ہے اور ایمان کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اب چونکہ یہ عظیم الشان مہینہ ہماری طرف بڑھ رہا ہے، اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ہم اس کی آمد سے پہلے ہی اس کی تیاری کریں، تاکہ اس کی عظمتوں، رحمتوں اور برکتوں کو صحیح معنوں میں سمیٹ سکیں۔
یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے خیر و برکت نازل ہوتی ہے، رحمتوں کی موسلا دھار بارش ہوتی ہے اور بندوں کو جہنم سے آزادی عطا کی جاتی ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جس کی آمد پر جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:"جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں"(صحیح بخاری، صحیح مسلم)ایک اور روایت میں آتا ہے:"رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں"(متفق علیہ)
یہ وہ مہینہ ہے جس میں ایک ایسی رات ہے جس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی افضل ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کی ہر رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:"جب ماہِ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو سرکش جن اور شیطان جکڑ دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پھر ایک منادی اعلان کرتا ہے: اے نیکی کے طالب! آگے بڑھ، اور اے برائی کے طالب! رک جا، اور اللہ تعالیٰ ہر رات لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے"(جامع ترمذی)
یہی وجہ ہے کہ سلفِ صالحین اس مہینے کی آمد کا انتظار چھ ماہ پہلے ہی سے کیا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے تھے "اے اللہ! ہمیں رمضان نصیب فرما۔"سلف صالحین کی یہ دعا بھی منقول ہے کہ: اے اللہ! ہمیں رمضان صحیح سالم نصیب فرما، ایسا نہ ہو کہ رمضان سے پہلے اچانک موت آ جائے یا کوئی ایسی بیماری لاحق ہو جائے جو ہمیں روزہ رکھنے اور تراویح پڑھنے سے محروم کر دے، اور ہمیں ایسا رمضان نصیب فرما کہ ہم سے کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہو جو روزے کو نقصان پہنچائے، اور رمضان میں کی گئی تمام نیکیوں کو برباد کردے۔
ماہِ رمضان کی آمد سے قبل چند امور کی طرف خصوصی توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔
1۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ بندہ دعا کا اہتمام کرے کہ اللہ تعالیٰ اسے صحت و عافیت کے ساتھ یہ مبارک مہینہ نصیب فرمائے، نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے اور ان اعمال کو قبول بھی فرمائے۔
2۔ دوسری بات یہ ہے کہ بندہ سچی اور خالص توبہ کرے، تاکہ رمضان سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے، کیونکہ جب اللہ راضی ہو جاتا ہے تو نیکیوں کی توفیق، ہمت اور اخلاص خود بخود نصیب ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر بے حد خوش ہوتے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جو ایک ویران صحرا میں اپنی سواری کھو بیٹھے، پھر اچانک اسے پا لے"(صحیح مسلم)
3۔ تیسری بات یہ ہے کہ رمضان کی تیاری نیکیوں میں محنت کرنے کی پختہ اور سچی نیت کے ساتھ کی جائے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اگر اللہ تمہارے دلوں میں نیک نیت دیکھ لے تو تمہیں اس سے بہتر عطا فرمائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا"(سورۃ الانفال: 70)
رمضان کا مہینہ پا لینا کوئی بڑی بات نہیں، اصل کامیابی یہ ہے کہ اس مہینے میں نیکیوں کی توفیق نصیب ہو۔ اسی لیے بندے کو کثرت سے وہ دعا پڑھنی چاہیے جو نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو سکھائی:اَللّٰهُمَّ أَعِنِّي عَلٰى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ‘‘
4۔ چوتھی بات یہ ہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت، حفظ، مراجعہ اور تدبر کے ذریعے رمضان کی تیاری کی جائے، کیونکہ یہ مہینہ شہرُ القرآن ہے۔ نبی کریم ﷺ رمضان المبارک میں حضرت جبرائیلؑ کے ساتھ قرآن کا دور فرمایا کرتے تھے، اور جس سال آپ ﷺ کی وفات ہوئی اس سال دو مرتبہ قرآن کا دور فرمایا۔
5۔ پانچویں بات یہ ہے کہ دعا کی کثرت کی جائے، کیونکہ دعا ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اطاعت کی توفیق عطا فرماتا ہے، وقت میں برکت ڈال دیتا ہےاور بندے سے مختلف نیکیوں کے کام کرواتا ہے۔
6۔چھٹی بات یہ ہے کہ لہو و لعب، فضول مشاغل، فحاشی اور بے پردگی پر مشتمل پروگراموں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا جائے، کیونکہ سحری اور افطار کے اوقات قبولیتِ دعا کے خاص اوقات ہوتے ہیں۔ ان اوقات کو ضائع کرنا یا مختلف کھیلوں میں اپنے آپ کو مشغول کرنا یہ بڑی محرومی کی بات ہے۔
7۔ ساتویں بات یہ ہے کہ اپنے نظام الاوقات کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ رمضان میں نفلی عبادات کے لیے باقاعدہ وقت نکل سکے، کیونکہ بغیر ترتیب کے عبادت کے لیے وقت نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔
آٹھویں بات یہ ہے کہ ماہِ شعبان میں نفلی روزوں کی کثرت کی جائے اور صدقہ و خیرات کی عادت ڈالی جائے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا ماہِ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنے کا معمول تھا، اور چونکہ رمضان میں ہر نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اس لیے جتنا ممکن ہو نفلی عبادات اور اعمال صالحہ کی کثرت کرنے کی تیاری کی جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ماہِ رمضان کی صحیح تیاری کرنے، اس کی قدر پہچاننے اور اس کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔( آمین)