• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انتہا پسندوں کا دباؤ، بھارتی عدالت نے فلم کا نام بدلنے کا حکم دے دیا

فوٹو: اسکرین گریب
فوٹو: اسکرین گریب

بھارتی سپریم کورٹ نے ہندی فلم ’گھوس خور پنڈت‘ (رشوت خور پنڈت) کے نام کو ایک مخصوص برادری کے لیے توہین آمیز قرار دیتے ہوئے فلم سازوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ فلم کو کسی متبادل عنوان کے ساتھ ریلیز کریں۔

عدالتِ عظمیٰ نے جمعرات کو اپنے حکم میں کہا کہ کسی بھی طبقے کو فلم کے عنوان یا مواد کے ذریعے بدنام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

فلم کا اعلان نیٹ فلکس نے رواں ماہ اپنی نیٹ انڈیا آن نیٹ فلکس پر کیا تھا، اور اس کا پہلا ٹیزر بھی جاری کیا گیا تھا۔

تاہم، ’گھوس خور‘ (یعنی رشوت خور یا بدعنوان) کو ’پنڈت‘ کے ساتھ جوڑنے پر برہمن برادری نے شدید اعتراض کیا اور اسے توہین آمیز قرار دیا۔

اس کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج ہوا، فلم کے پروڈیوسر نیرج پانڈے اور ڈائریکٹر ریتیش شاہ کے پتلے جلائے گئے جبکہ اداکار منوج باجپائی اور نیٹ فلکس کے خلاف بھی مظاہرے کیے گئے۔

یوپی کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر لکھنؤ میں فلم کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔

تاہم پروڈیوسر نیرج پانڈے نے ایک بیان میں اعتراف کیا تھا کہ فلم کے نام سے کچھ افراد کو تکلیف پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ فلم کے عنوان نے کچھ ناظرین کو دکھ پہنچایا ہے اور ہم ان جذبات کا احترام کرتے ہیں۔

نیرج پانڈے نے مزید کہا کہ تمام پروموشنل مواد، بشمول پہلا ٹیزر، یوٹیوب اور سوشل میڈیا سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ساتھ میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ فلم کو مکمل طور پر دیکھنے کے بعد ہی اس کے اصل پیغام کو سمجھا جا سکے گا، اس لیے جزوی جھلکیاں دیکھ کر فیصلہ کرنا درست نہیں۔

یہ فلم نیرج پانڈے اور ریتیش شاہ کی تحریر ہے اور ریتیش شاہ کی بطور ہدایتکار پہلی فلم ہے۔ اس میں منوج باجپائی، نُشرت بھروچہ، ساقب سلیم، اکشے اوبرائے اور دیویا دتہ شامل ہیں۔ 

فلم نیٹ فلکس پر رواں سال ریلیز کی جائے گی، تاہم ریلیز کی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید