• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارے دوست وجاہت مسعود کا مسئلہ وہی ہے جو ان جیسے کئی دوسرے دانشوروں کا ہے، جو ہمیشہ نظریۂ پاکستان کے خلاف لکھتے رہے ہیں، جن کے قلم اکثر دو قومی نظریے کی مخالفت میں رواں دواں رہے ہیں، جنھیں 1971ء میں پاکستان کا دولخت ہونا تاریخی صداقتوں کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتا ہے، جو بنگلہ قومیت کے حق میں بنگالیوں سے بڑھ کر وکیل اور ترجمان بنے رہے ہیں، جن کے نزدیک یورپ میں سزائے موت کے خلاف اٹھنے والی تحریک انسان دوستی کا عظیم پیغام ہے اور سزائے موت دینا آج کی دنیا میں ظالمانہ فعل ہے، لیکن جو بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے دورِ حکومت میں ایک نام نہاد ٹریبونل کی جانب سے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے خلاف سنائی گئی سزاؤں اور ان کی پھانسی پر ایک لفظ بھی تحریر نہیں کرتے۔

اب ان کا دکھ یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت ناکام ہو گئی ہے اور وہاں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی کامیابی نوشتۂ دیوار بن چکی ہے۔ انہوں نے یہ کالم 11 فروری 2026ء کو لکھا ہے، حالانکہ 12 فروری 2026ء کو بنگلہ دیش کے عوام نے ان کے کالم کے جھوٹ کے لفظ لفظ اور حرف حرف کے بخیے ادھیڑ دینے تھے۔ اس کے بعد انھیں جماعت اسلامی کے خلاف اپنے دیرینہ اور باطنی غصے کے اظہار کا موقع نہیں ملنا تھا۔

انھوں نے اپنے کالم کا آغاز پنجاب کی صوبائی قانون ساز اسمبلی کے 10 مارچ 1951ء میں منعقد ہونے والے انتخابات سے کیا۔ کیوں؟ اس کا انکشاف کالم کے آخر میں یوں کیا:

’’12 فروری 2026ء کو بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے انعقاد کے موقع پر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کے بیان کہ ہم اکثریت کے دہانے پر کھڑے ہیں، سے خیال کی رو 1951ء میں پنجاب کی صوبائی قانون ساز اسمبلی کی طرف نکل گئی۔ جماعت اسلامی کے احباب کو کون سمجھائے کہ دنیا نظریاتی سیاست کے عہد سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی کامیابی کی امید نہیں، کیونکہ وہاں محض بنگالی عوام کا فیصلہ نہیں آتا، بلکہ کچھ عالمی قوتوں کا بھی بہت سا دخل ہوتا ہے۔‘‘

گویا وجاہت صاحب بنگالی عوام کے فیصلے کی حد تک تو جماعت اسلامی کو خود ہی کامیاب تسلیم کر چکے ہیں۔ اب ان کی امیدوں کی آخری آماجگاہ ’’کچھ عالمی قوتیں‘‘ ہیں۔ کون سی قوتیں؟ اور جنھیں جماعت اسلامی کا فہمِ جمہوریت سمجھ نہیں آتا، ان کا اپنا فہمِ جمہوریت یہ ہے کہ عوام نہیں بلکہ عالمی قوتیں اصل فیصلہ ساز ہوتی ہیں۔ یعنی مودی، انکل سام، صہیونیت اور نجانے کون کون؟

پھر ہمارے دوست کو جماعت اسلامی کے فہمِ جمہوریت کو سمجھنے اور اسے 1951ء کے جھرلو انتخابات میں جاگیرداروں کے مقابلے میں ایک نشست جیتنے پر مبارک دینے کے بجائے طعنہ دینے کے لیے پچھتر برس پیچھے جانا پڑا، حالانکہ جماعت اسلامی 2002ء کی قومی اسمبلی میں 28 اور صوبائی اسمبلیوں و سینیٹ کی نشستوں سمیت مجموعی طور پر 70 پارلیمنٹرینز پر مشتمل ایک بڑی جماعت تھی۔

جماعت اسلامی نے 1970ء کی آئین ساز قومی اسمبلی میں اپنے چار ارکان کے ذریعے آئین سازی میں سب سے بڑھ کر مؤثر کردار ادا کیا۔ جماعت اسلامی ایوبی آمریت کی سب سے بڑی مخالف تھی۔ 1963ء میں لاہور میں جماعت اسلامی کے اجتماعِ عام پر ایوب خان کے غنڈوں نے گولیاں برسائیں، جس کے نتیجے میں ایک رکنِ جماعت شہید ہو گئے۔ جماعت اسلامی پر پابندی عائد کی گئی، مگر اسکے باوجود جماعت اسلامی نے ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کا بھرپور ساتھ دیا۔جماعت اسلامی کا فہمِ جمہوریت ملک میں آمریت کے خلاف اٹھنے والی ہر تحریک، ہر ریلی، ہر جلوس، ہر احتجاج اور ہر جیل کے در و دیوار پر نقش جدوجہد سے نمایاں ہے۔

اسی طرح ملک کا ہر سنجیدہ کالم نگار، ہر سیاسی مفکر و دانشور بلکہ جماعت اسلامی کے مخالفین بھی اس امر پر متفق ہیں کہ اگر کسی جماعت کے اندر حقیقی جمہوریت موجود ہے تو وہ صرف جماعت اسلامی ہے۔ اگر کوئی جماعت موروثیت اور خاندانی بادشاہتوں سے پاک ہے تو وہ جماعت اسلامی ہے۔ اگر کسی جماعت کے کسی منتخب ایم این اے، ایم پی اے، میئر، ناظم، سینیٹر، وزیر، عوامی نمائندے یا جماعتی عہدیدار پر کبھی کرپشن کا کوئی الزام تک نہیں لگا تو وہ جماعت اسلامی ہے۔

جناب! جماعت اسلامی کا فہمِ جمہوریت تو بالکل واضح ہے، لیکن بنگلہ دیش میں لازوال قربانیوں اور شہدائے انقلاب کے خون سے طلوع ہونے والے انقلاب کے سورج کی کرنوں کی تابناکی نے نہ صرف آنکھوں کو چندھیا دیا ہے بلکہ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو بھی دھندلا دیا ہے۔

تازہ ترین