• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سینیٹ: وزارتِ خزانہ نے پاکستان پر قرض و سود کی تفصیلات پیش کر دیں

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

سینیٹ اجلاس میں وزارتِ خزانہ نے مالی سال 2025ء میں پاکستان پر قرضے کے حجم اور سود کی تفصیلات تحریری طور پر پیش کر دیں۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2025ء میں پاکستان پر کل قرضہ 80.5 کھرب روپے تھا، جس میں اندرونی قرضہ 54.5 کھرب اور بیرونی قرضہ 26 کھرب روپے شامل ہیں۔

مالی سال 2021ء میں 16.5 کھرب، مالی سال 2022ء میں 23.2 کھرب روپے قرض واپس کیا گیا۔

 مالی سال 2023ء میں 30.2 کھرب اور مالی سال 2024ء میں 28 کھرب روپے قرض واپس کیا گیا جبکہ مالی سال 2025ء میں 27.1 کھرب روپے قرض واپس کرنے کی اطلاع دی گئی۔

سود کی ادائیگی سے متعلق بتایا گیا کہ مالی سال 2021ء میں 2.7 کھرب، 2022ء میں 3.2 کھرب روپے سود ادا کیا گیا، مالی سال 2023ء میں 5.7 کھرب، 2024ء میں 8.2 اور مالی سال 2025ء میں 8.9 کھرب روپے سود ادا کیا گیا۔

وزارت تجارت نے مالی سال 23-2022ء اور 24-2023ء کی برآمدات، درآمدات اور تجارتی خسارے کی تفصیلات ایوان میں پیش کیں۔

مالی سال  23-2022ء میں برآمدات 27.7 ارب ڈالرز، درآمدات 55.2 ارب ڈالرز رہیں اور تجارتی خسارہ 27.5 ارب ڈالرز رہا۔

 مالی سال 24-2023ء میں برآمدات 30.6 ارب ڈالرز اور درآمدات 55.7 ارب ڈالرز رہیں، جبکہ تجارتی خسارہ 25.1 ارب ڈالرز رہا۔

 مالی سال 25-2024ء میں برآمدات 32 ارب ڈالرز اور درآمدات 58.3 ارب ڈالرز رہیں، تجارتی خسارہ 26.3 ارب ڈالرز رہا۔

جولائی تا دسمبر 2025ء میں برآمدات 15135 ملین ڈالرز اور درآمدات 34475 ملین ڈالرز رہیں۔

جولائی تا دسمبر 2024ء میں برآمدات 16631 ملین ڈالرز تھیں، جو 9 فیصد کمی ظاہر کرتی ہیں، اسی عرصے میں برآمدات 30902 ملین ڈالرز رہیں، جو 12 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔

جولائی تا دسمبر 2025ء میں تجارتی خسارہ 19340 ملین ڈالرز رہا، جبکہ جولائی تا دسمبر 2024ء میں تجارتی خسارہ 14271 ملین ڈالرز تھا، جو 36 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

تجارتی خبریں سے مزید