• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آرٹس کونسل میں کتھک کے ضبط اور نزاکت کی شاندار پیشکش’’اقسامِ ناچ: اندازِ کتھک‘‘

’’اقسامِ ناچ: اندازِ کتھک‘‘ کے عنوان سے دو روزہ ’’کتھک رقص‘‘ کراچی آرٹس کونسل میں شاندار انداز میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر جنوبی ایشیا کے نہایت نفیس کلاسیکی رقص کتھک کے ضبط، نزاکت اور جذباتی گہرائی کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا۔

یہ شو معروف کوریوگرافر اور کتھک کے استاد محسن بابر کی کوریوگرافی پر مبنی تھا، جس میں 12 رقاص شامل تھے۔ یہ تمام فنکار محسن بابر کے قائم کردہ ’’کتھک اسکول آف پرفارمنگ آرٹس‘‘ کے اسکالرشپ یافتہ طالب علم ہیں، جو شہر کا پہلا ادارہ ہے، جو خصوصی طور پر کتھک کی تعلیم کے لیے وقف ہے۔

یہ رقاص برسوں کی سخت ریاضت، لگن اور کلاسیکی روایت سے گہری وابستگی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

پروگرام میں 8 رقص پیش کیے گئے، جن میں اجتماعی اور انفرادی دونوں طرز کی پیشکش شامل تھیں۔ ان میں کلاسیکی کتھک کے روایتی اجزاء کے ساتھ ساتھ فیوژن ترانہ، غزل اور دیگر اسلوبیاتی انداز بھی شامل تھے، جنہوں نے ناظرین کو کتھک کی وسعت اور ہمہ جہتی کا بھرپور اور دل نشین تجربہ فراہم کیا۔

اس موقع پر محسن بابر کا کہنا تھا کہ اس شو کا ایک اہم مقصد رقص، خصوصاً گھنگھرو سے وابستہ معاشرتی دقیانوسی تصورات کو توڑنا تھا۔ گھنگھرو صرف رقاص کا ساز ہے، بالکل اسی طرح جیسے طبلہ نواز کے لیے طبلہ۔

’اقسامِ ناچ‘ کے ذریعے محسن بابر کتھک کے تحفظ اور فروغ کے اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ فن بتدریج مرکزی ثقافتی دھارے سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ 

ان کا کام شمولیت کے اصول پر مبنی ہے۔ کتھک اسکول آف پرفارمنگ آرٹس مستحق طلبہ کو مکمل وظائف فراہم کرتا ہے، تاکہ وہ روایتی سلسلۂ تعلیم کے تحت کتھک سیکھ سکیں، جو بصورتِ دیگر ان کے لیے ممکن نہ ہوتا۔

شہری اسٹیجز سے آگے بڑھتے ہوئے، محسن بابر کی حکمتِ عملی اپنی پیشکشوں کو چھوٹے شہروں اور دیہات تک لے جانا ہے، تاکہ وہ لوگ بھی کلاسیکی رقص کا براہِ راست مشاہدہ کر سکیں جنہیں عام طور پر یہ موقع نہیں ملتا۔

اس شو کی سرپرست نوین منگی ہیں، جو ایک مصنفہ، دیہی ترقی کی ماہر، سماجی کاروباری شخصیت اور فنونِ لطیفہ کی سرگرم حامی ہیں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید