• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چائے پیتے ہوئے اخبار پڑھ رہا تھا یا اخبار پڑھتے پڑھتے چائے پی رہا تھا... ابھی میں اسی مخمصے میں تھا کہ میری نظر اپنے پوتے پر پڑی جو کھیل کھیل میں بلاکس کے مینار بنا رہا تھا اور مینار بنا کر بار بار خود ہی ننھا سا ہاتھ مار کر گرا دیتا ۔اُس کے اِس کھیل سے دفعتاً میرا دھیان انسانی تاریخ کی انتہائی ترقی یافتہ تہذیبوں کی جانب چلا گیا جودنیا بھر میں مانی جاتی تھیں مگرسب عروج پا کر زوال پذیر ہو گئیں۔ میرا ذہن پل بھر میں جست لگا کر مصر ، یونان ، سلطنت روم ، وادی سندھ ، شمالی ہندوستان ، دجلہ و فرات ، بابل و نینوا ، وسطی امریکہ تہذیب وغیرہ وغیرہ کے تصوراتی دائروں میں گھومنے لگا۔ تاریخی کتب کی ورق گردانی کرتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ تہذیبیں نہ تو آسانی سے عروج پاتی ہیں اور نہ بے ضرر انداز سے زوال پذیر ہوتی ہیں۔ میرا ماننا یہ ہے کہ تہذیبیں عوام اور حکمرانوں کی ہم آہنگی سے فروغ پاتی ہیں جبکہ زوال میں حکمرانوں کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے۔ گویا تہذیب یا تو اپنے ہی وزن سےڈھےجاتی ہے یا بلاکس کے مینار کو میرے پوتے کے مارے گئے ہاتھ کی طرح انسان خود اپنی تہذیبوں کے زوال کا سبب بنتا ہے۔

اگرچہ نامور مسلم تاریخ دان و مفکر ابن خلدون نے تہذیبوں کے عروج و زوال کے اس عمل کو انسانی زندگی سے تشبیہ دی ہے کہ جس طرح ایک انسان بچپن جوانی اور پھر بڑھاپے سے گزر کر مر جاتاہے اسی طرح تہذیبیں اور قومیں بھی اس عمل سے گزر کر زوال تک جا پہنچتی ہیں گویا موت یا زوال پذیر ہونا ہر قوم کی تقدیر ہے لہٰذا کوئی قوم خواہ کتنا ہی عروج حاصل کر لے اسے زوال آ کر ہی رہے گا یوں ابن خلدون کے نظریے میں جبر اور تقدیر کے تابع ہونا ہی کسی تہذیب کی حیات ہے۔ تاریخ کا مطالعہ سطحی طور پر کیا جائے تو ابن خلدون کی انسانی حیات کی مماثلت درست طور پر عروج و زوال کا جواز پیش کرتی ہے تا ہم معروضی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ عروج ربطِ ملت سے کی گئی کوششوں کا نتیجہ ہے جبکہ طاقت کا توازن قائم نہ رکھنا قوموں کے زوال کا باعث بنتا ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ کوئی قوم اجتماعی کوشش نہ کرے اور وہ عروج کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو کر نئی تہذیب کو جنم دے اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ کوئی ترقی یافتہ قوم یا تہذیب بغیر بیرونی و اندرونی محرکات کے زوال پذیر ہو ۔ یہ محرکات طاقت کا گھمنڈ ، استحصالی خواہشات ، توسیع پسندانہ رجحانات ، کرپشن سرمستی اور فریب ہو سکتے ہیں یا طاقت کا طاقت سے ٹکراؤ بھی ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اظہار ، حُسن اور طاقت کا بدیہی وصف ہے اسی وصف کی جلوہ نمائی ہے کہ پھول دعوت نظارہ پیش کرتا ہے اور بڑی مچھلی چھوٹی کو ہڑپ کر جاتی ہے۔ حسن و طاقت کے اسی کھیل کی کارستانی ہے کہ تہذیبیں بنتی اور ٹوٹتی رہی ہیں۔ یہ کھیل آج بھی جاری ہے اور شاید قیامت تک جاری رہے۔ آج ہم جس زمانے اور تہذیب میں سانس لے رہے ہیں یہ چکا چوند روشنی اور برق رفتاری سے آراستہ ہے۔ اس تہذیب کی روح بجلی یعنی الیکٹریسٹی ہے۔ انسان نے جب بجلی پر کنٹرول حاصل کیا تو جدید تہذیب نے ایسی اڑان بھری کہ ماضی کی تمام تہذیبیں ماند پڑ گئیں۔ ماضی میں کسی ایک جغرافیائی خطے یا علاقے میں صدیوں کا سفر طے کر کے کوئی ایک تہذیب پنپتی تھی اور پھر اسی ترتیب اور رفتار سے معدوم ہو جاتی مگر موجودہ تہذیب بے تحاشہ مواصلاتی رابطوں ، برقی مداخلت اور ڈیجیٹلائزیشن کے باعث Global civilization کا درجہ اختیار کر چکی ہے تاہم اس عالمی تہذیب کا cell یعنی battery فقط ایک بجلی ( electricity) ہے۔ اگر عالمی تہذیب سے کوئی دشمن یا ایلین( Alien )کسی طور اس بیٹری کو نکالنے میں کامیاب ہو گیا تو تمام تر ڈیجیٹل ڈیوائسز یا AI کے ہوتے ہوئے بھی انسان U turn لیتے ہوئے صدیوں پیچھے جا گرے گا۔گزشتہ برس جنگ میں بھارت چھ رافیل طیارے گرنے پر شاید شکست تسلیم نہ کرتا جو اس نے بجلی گھر بند ہونے پر ہاتھ کھڑے کر لئے تھے ۔ اگر ہم تصور کی آنکھ سے دیکھیں تو بجلی کے بغیر جنگیں پھر سے تلواروں کے ساتھ ہوتی نظر آئیں ، سفر کیلئے وہی خچر، گھوڑےاور رہائش کیلئے دریا کنارے کھیت کھلیان وغیرہ وغیرہ اسی بجلی کے کنٹرول اور استعمال سے آج کا انسان نہایت سرعت کے ساتھ ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ ترقی کی انہی منازل اور کمالات کے بل بوتے پر حاصل کی گئی طاقت کا اظہار ہمیں دنیا کے مختلف حصوں میں وقتاً فوقتاً نظر آتا رہتا ہے۔ آج کل امریکا اس طاقت کے نشے میں سرشار نظر آ رہا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے عروج کا پھل تا دیر کھا سکتا ہے ۔اپنے عوام کی فلاح و بہبود میں مگن رہ سکتا ہے مگر کیا کریں کہ طاقت اظہار چاہتی ہے۔ اسی طاقت کا اظہار حال ہی میں امریکہ نے وینزویلا میں کیا ہے۔

اپنی توسیع پسندانہ خواہش کی تکمیل میں وہاں کے صدر کو صدارتی محل سے اٹھا کر ریاستی وسائل پر قبضہ کیا۔ بالکل اُسی طرح جس طرح ماضی میں طاقتور شہنشاہ یا ریاستیں کمزور مضافاتی ریاستوں پر چڑھ دوڑتی تھیں۔ اس سے قبل امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کرفلسطینیوں کا قتل عام کیا ۔اسی دوران ایران پر بھی حملہ کیا اور اب ایک مرتبہ پھر ایران پر چڑھ دوڑنے کیلئے تیار ہے۔ دوسری طرف گرین لینڈ پر قبضے کے خواب...کینیڈا کو آئے روز دھمکیاں...یورپی یونین کو آنکھیں دکھانا... یہ سب کیا ہے...؟ یہ سب طاقت کا گھمنڈ ہے جو بالآخر کسی قوم ، کسی تہذیب یا کسی ملک کے زوال کا باعث بنتا ہے۔ چین ابھی عروج کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ ٹیکنالوجی میں محیرالعقول ایجادات میں مصروف ہے۔ جی ہاںحُسن ابھی جلوہ نمائی کے مراحل میں ہے ۔

غرور کو طاقت میں بدلنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے تاہم حصول طاقت کے بعد اصل امتحان اس مقام پر قیام کا ہے۔ قومیں اپنی سوجھ بوجھ اور توازن کو قائم رکھتے ہوئے اس قیام کو طول دے سکتی ہیں مگر چونکہ طاقت اظہار کے بغیر نہیں رہ سکتی لہٰذا میرے پوتے کے بلاکس کی طرح مینار چاہے کتنا ہی بلند ہو جائے آخر کار اپنی ہی اونچائی سے گِر پڑتا ہے ۔ آنے والے وقت میں چین اپنی طاقت کے گھمنڈ کا اظہار کیسے اور کس کس طرف کرتا ہے ؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

تازہ ترین