• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

12فروری کے انتخابات اور ریفرنڈم بنگلہ دیش میں 5اگست کے انقلاب کا تسلسل ہیں یا نہیں، وقت ہی بتائے گا۔ طلبہ کا یہ انقلاب سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی آمریت، سرکاری ملازمتوں میں عوامی لیگ کے کارکنوں اور انکی نسلوں کا 30فی صد کوٹہ ، قابو سے باہر معاشی بدحالی اور بے روزگاری کے خلاف تھا۔ شیخ حسینہ کے 15 سالہ دورِ اقتدار میں جبر و پابندیوں، مخالفین کی آوازوں کا دبایا جانا، آزادیٔ اظہار پر قدغنوں کے نتیجے میں عوامی غم و غصے کے باعث پُر امن احتجاجات شروع ہوئے۔ شیخ حسینہ ان لاکھوں نوجوان مظاہرین کو آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہتی تھیں۔ سیکیورٹی فورسز اور عوامی لیگ کے کارکنوں کے ہاتھوں 1400 سے زائد طلباء کی ہلاکتوں نے، کئی ہفتوں پر مبنی احتجاجات کو انقلابی تحریک میں بدل ڈالا۔ شیخ حسینہ نے فوج کو طلباء پر گولی چلانے کے احکامات صادر کیے تو فوج نے انکار کر دیا البتہ شیخ حسینہ کو استعفیٰ دے کر ہندوستان فرار ہو نے کا محفوظ راستہ دیا۔ یوں طلبہ کی رائے سے پروفیسر محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم ہوئی جس کا مقصد سازگار ماحول پیدا کر کے شفاف انتخابات کا انعقاد تھا۔ بنگلہ دیشی اپنے حقوق کے حوالے سے بے حد حساس ہیں۔ان کے خون میں حریت پسندی شامل ہے۔ نواب سراج الدولہ اور بنگالیوں نے بنگال میں انگریز کے بڑھتے اثر و رسوخ اور اقتصادی طاقت کے خلاف بھرپور مزاحمت کی لیکن میر جعفر کی غداری نے انہیں ناکامی سے دو چار کیا۔ 1857 کی تحریکِ آزادی میں کلکتہ سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ بن کر ابھرا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کا راج ختم کرنے میں فعال کردار ادا کیا۔ 1920میں بنگالیوں نے انگریز کے خلاف عدم تعاون تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،سرکاری اداروں اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔کلکتہ میں احتجاج سے تمام سرکاری مشینری مفلوج ہو کر رہ گئی۔ 1930میں چٹاگانگ میں بھی برطانوی اسلحہ خانے پر بنگالیوں نے حملہ کیا تھا۔ بعینی تحریکِ آزادی پاکستان میں بھی بنگالی قوم بڑھ چڑھ کر شامل رہی۔ 1906میں آل انڈیا مسلم لیگ مشرقی بنگال کے اہم سیاسی مرکز ڈھاکہ میں وجود میں آئی جس کی بنیادی وجہ ہندوستان میں ہندو اکثریت کے ہاتھوں مسلمانوں کے سیاسی حقوق بچانا تھے۔1947میں پاکستان کی آزادی کے بعد نامور بنگالی وزرائے اعظم اور قائدین جن میں خواجہ ناظم الدین، محمد علی بوگرہ ، حسین شہید سہروردی اور نورالامین جیسی ہستیاں شامل تھیں۔ برِصغیر ہندوستان سے 475 اخبارات اور جرائد شائع ہوا کرتے تھے۔تاہم بنگال چونکہ 19ویں صدی میں صحافت کا مرکز تھا اس لئے وہاں اخبارات کی ایک بڑی تعداد اردو، فارسی، بنگالی اور انگریزی میں شائع ہوتی تھی۔ 1780میں ہندوستان کا پہلا اخبار" بنگال گزٹ" شائع ہوا جسے ایشیا کا پہلا اخبار ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ سیاسی،سماجی و اقتصادی معاملات میں بنگالیوں کی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ ملازمت کی شرائط میں اخبار پڑھنے کے لیے وقت کا تقاضہ کیا کرتے۔

1971 میں بنگالی قوم کو پاکستان سے باقاعدہ ایک منظم سازش کے تحت متنفر کیا گیا جبکہ مغربی پاکستان میں بھی بنگالیوں کے خلاف بدگمانی پھیلائی گئی۔ در حقیقت پاکستان اور بنگلہ دیش "ایک قلب دو جان" ہیں، وہ ہمارے نظریاتی بھائی ہیں۔ ہم نے ایک جھنڈے تلے،ایک قائد کے پیچھے آزادی کی تحریک چلائی اور 1947میں پاکستان لیا۔ پاکستان سے بنگلہ دیش کا دفاعی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی الحاق ایک فطری امر ہے۔ علیحدگی کے بعد 54سال تک ہم نے ایک دوسرے سے نفرت اور بےاعتنائی میں گزارے۔ آج سب کدورتیں دور ہو چکیں،دل صاف ہو گئے اور ماضی کی تلخیاں بھلا دیں گئیں ہیں جو دو قومی نظریہ کی بذاتِ خود تصدیق ہے۔ ہندوستان کا سیاست، اقتصادیات، سرکاری ملازمتوں اور ترقیوں پر تسلط اور اجارہ داری بنگلہ دیش کی نئی نسل کو قبول نہیں ۔ وہ ماضی کی بدگمانیوں اور غلط فہمیوں سے پیچھا چھڑا کر ، پاکستان سے اچھے تعلقات استوار کرنے کی خواہاں ہے۔ حال ہی میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ہندوستان کی بنگلہ دیش کے خلاف سازش پر اصولی مؤقف اختیار کرتے ہوئے پاکستان ڈٹ گیا اور ہندوستان سے کرکٹ میچ کھیلنے سے انکار کر دیا۔ بھاری جرمانے اور پابندیوں سے ڈرانے کے باوجود پاکستان پیچھے نہ ہٹا۔بالاخر بنگلہ دیش سے آئی سی سی نے معاملات طے کیے، انہیں منافع میں حصہ دینے پر آمادگی ظاہر کی ۔یوں پاکستان نے اپنے نقصان کی پرواہ کئے بنا بڑے بھائی کی طرح بنگلہ دیش کا ساتھ دیا۔اُدھر بنگلہ دیش نے بھی پاکستان کی محبت و تعاون کا کھل کر اعتراف کیا۔یہی وہ جذبہ ہے جو پنپے پر آئےتو مسلمانوں کو اُمت کے بندھن میں باندھ دیتا ہے، ایک کا دکھ و درد دوسرے کا بن جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کے انتخابات کے حتمی نتائج سے معلوم ہو رہا ہے کہ بی این پی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی جماعت حکومت بنائے گی۔ ممکنہ طور پر ان کے بیٹے طارق رحمان اگلے وزیراعظم ہونگے۔2007میں نگران فوجی حکومت کے دور میں بدعنوانی کے الزام میں 18 ماہ جیل بھگتنے کے بعد انہوں نے 17سال کی خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی اور لندن سے جماعت کے معاملات چلاتے رہے۔والدہ کی وفات سے چند روز قبل بنگلہ دیش واپس آئے اور بی این پی کے صدر مقرر ہوئے۔ طلباء کی انقلابی جماعت این سی پی اور جماعت اسلامی کا الحاق انتخابات میں دوسری بڑی کامیاب جماعت کے طور پر سامنے آیا۔ انہوں نے انتخابی نتائج تسلیم کرتے ہوئے کھلے دل سے حکومت کے ساتھ ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے کام کرنے کا اعادہ کیا جو بنگلہ دیش کی سیاست میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ تا ہم ریفرنڈم میں جماعتِ اسلامی اور طلباء محاذ کی مجوزہ ترامیم اور اصطلاحات کے حق میں 63 فی صد اکثریت نے "ہاں" کے حق میں ووٹ ڈالا جبکہ بی این پی ان اصطلاحات کی مخالفت کر رہی تھی۔ باوجود کہ طلباء اور جماعت اسلامی نے انتخابی الحاق کیااور ماضی میں بنگلہ دیش کے لیے دونوں نے لازوال قربانیاں بھی دیں خصوصاً جماعت اسلامی پر عوامی لیگ نے ظلم وجبرو استبداد کی انتہا کردی تھی۔ اسکے قائدین کو سولی چڑھایا،جیلوں میں مار دیا گیا، لیکن ان انتخابات میں بی این پی کی کامیابی میں عوامی لیگ کا بڑا ہاتھ ہے۔ عوامی لیگ جولائی 2024تک ملک کی سب سے بڑی جماعت تھی جو پچھلے 15سال میں مخالفین کو تقریباً کچل کر بے حد طاقتور ہو چکی تھی۔ حالیہ انتخابات میں ڈی رجسٹر ہونے پر ہندوستانی ایماء پر اس کے کارکنوں نے طلبہ تحریک اور جماعت اسلامی کو حکومت سازی سے باہر رکھنے کے لیے اپنے ووٹ بی این پی کے پلڑے میں ڈال دیے۔ ان کے خیال میں یوں فریقین کے درمیان پیدا ہونے والی دراڑ سے وہ بھر پور طریقے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اس کے برعکس این سی پی اور جماعت اسلامی کا ملک کے وسیع تر مفاد میں جاری کیا گیا بیان دشمنوں کے منہ پر طمانچے سے کم نہیں۔ قوی امکان ہے کہ بنگلہ دیش اپنی 55سالہ تاریخ میں سنجیدہ اور مثبت سیاست کے ایک نئے باب کا اضافہ کرے گا، ادھر پاکستان و بنگلہ دیش آپس میں یکجہتی،یگانگت، بھائی چارے اور رواداری کی نئی جوت بھی جگائیں گے۔ انشاءاللہ!

خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سر زندگانی ہے

نکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں ہو جا

تازہ ترین