• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کے ساتھ مذاکرات بنیادی نکات پر اتفاق تک پہنچ گئے: ایران

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

ایران اور امریکا کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد ایران نے کہا ہے کہ معاہدے کے اہم اصولوں پر سمجھوتا ہو گیا ہے۔

عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جنیوا میں مذاکرات کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ’انتہائی سنجیدہ بات چیت‘ ہوئی ہے اور معاہدے کی راہ کھل گئی ہے تاہم کچھ نکات پر اختلافات اب بھی موجود ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جنیوا میں ہوئے جہاں امریکا نے جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ ایران کے میزائل پروگرام پر بھی بات چیت کی خواہش ظاہر کی ہے مگر ایران نے امریکا پر واضح کیا ہے کہ وہ صرف جوہری سرگرمیوں پر پابندی کے بدلے پابندیاں ختم کروانے پر بات کرے گا اور یورینیئم افزودگی مکمل طور پر ختم کرنے کی شرط قبول نہیں کرے گا۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا اسلامی جمہوریہ ایران کو تباہ نہیں کر سکتا۔

امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ واشنگٹن سفارت کاری کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ’تمام آپشنز موجود‘ ہیں۔

ایسے میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا اور بین الاقوامی تصدیق کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی کے خدشات بھی موجود ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید