• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹی 20 ورلڈ کپ: سپر 8 فارمیٹ پر آئی سی سی کو تنقید کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں سپر 8 فارمیٹ متعارف کروانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء کے سپر 8 مرحلے کے لیے کوالیفائی کرنے والی 8 ٹیموں کے نام سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے آئی سی سی پر تنقید شروع ہو گئی۔

اس تنقید کی وجہ یہ ہے کہ اس طریقہ کار نے نادانستہ طور پر سپر 8 گروپس میں بڑے پیمانے پر عدم توازن پیدا کر دیا ہے۔ 

آئی سی سی نے ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی ٹاپ ٹیموں کو فکسڈ سلاٹ جیسے C1،B1،A1 اور D1 تفویض کیے تھے۔

اب گروپ 1 میں بھارت، زمبابوے، ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ شامل ہیں کیونکہ یہ چاروں ٹیمز گروپ میچز کے دوران اپنے گروپس میں سرفہرست رہیں۔

گروپ 2 میں پاکستان، سری لنکا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ شامل ہیں کیونکہ یہ چاروں ٹیمز گروپ میچز کے دوران اپنے گروپس میں دوسرے نمبر پر رہیں۔

یہ ڈھانچہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ٹورنامنٹ کی پہلے راؤنڈ سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی 2 ٹیمز سیمی فائنل سے پہلے ہی باہر ہو جائیں گی جبکہ ایک ٹیم جو پہلے اپنے گروپ میں دوسرے نمبر پر تھی لیکن اب اس کے پاس سیمی فائنل میں جانے کا راستہ آسان ہے۔

ناقدین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ اس ٹورنامنٹ کے شیڈول نے شریک میزبان سری لنکا کو بھی نقصان پہنچایا، ٹورنامنٹ کے تمام میچز ہوم گراؤنڈ میں کھیلنے کے بعد اگر وہ سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیتے ہیں تو یہ بات پہلے سے طے ہے کہ اُنہیں سیمی فائنل کھیلنے کے لیے بھارت جانا پڑے گا۔

آئی سی سی نے تنقید کے جواب میں لاجسٹک چیلنجز کا حوالہ دیتے ہوئے اس اقدام کا دفاع کیا ہے۔ 

آئی سی سی نے مزید کہا کہ بھارت اور سری لنکا میں ٹورنامنٹ کی مشترکہ میزبانی کے لیے ابتدائی منصوبہ بندی کی ضرورت تھی اور گورننگ باڈی کا اصرار تھا کہ وینیوز اور میچز کے شیڈول کے لیے یہ طریقہ کار ضروری تھا۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید