روس میں ملازمت کی تلاش ناکامی پر نوجوان نے جیل جانے کا فیصلہ کرلیا تاکہ زندہ رہ سکے۔
اس حوالے سے بتایا جاتا ہے مذکورہ شخص نے ملازمت نہ ملنے پر فیصلہ کیا کہ اپنی بقا کے لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ وہ گرفتار ہو اور اسے قید کی سزا ہوجائے۔
روسی میڈیا میں حال ہی میں یہ عجیب و غریب واقعہ رپورٹ ہوا جس کے مطابق ایک نوجوان جس کے پاس اپنے گزر بسر کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا تاکہ اس کے سر پر چھت اور اسے دو وقت کی خوراک مل سکے۔
جمہوریہ باشکورتوستان سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ اس نوجوان کی شناخت صرف اولیگ کے نام سے ہوئی۔ اس نے بم کی دھمکیاں دے کر خود کو کامیابی سے گرفتار کروا یا اور جیل میں اپنی رہائش اور خوراک کا انتظام پکا کیا۔
ہائی اسکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد اس نے فوج میں خدمات انجام دیں اور حال ہی میں روسی شہر اوفا میں ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کی۔
لیکن متعدد کوششوں کے باوجود وہ ناکام رہا۔ رہائش اور کھانے پینے کے پیسے نہ ہونے کے باعث وہ اس قدر مایوس ہوا کہ اس نے خود کو جیل بھجوانے کا منصوبہ بنایا تاکہ رہائش اور خوراک کا مسئلہ احسن طریقے سے حل ہوسکے۔
گزشتہ موسم گرما میں تین دن نوکری تلاش کرنے میں ناکامی پر وہ ایک ہوٹل گیا اور عملے کو دھمکی دی کہ وہ اپنے بیگ میں موجود بم سے عمارت کو اڑا دے گا۔ تاہم کسی نے اس پر یقین نہیں کیا تو اس نے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی اور سیدھا قریبی ہوائی اڈے پہنچا اور چلاتے ہوئے کہا اس کے پاس بم ہے۔
جس کے بعد اس نے پولیس اور انتظامیہ کو بلانے کا مطالبہ کیا، اس دوران اس نے لوگوں کو خود سے دور رہنے کو کہا۔ سیکیورٹی اسٹاف نے نوٹس کیا کہ اس کے پاس بظاہر کوئی بم ڈیٹونیٹر نہیں تو اسے پکڑلیا اور پولیس کے حوالے کیا۔
بعدازاں اس نے اعتراف کیا کہ اس نے جان بوجھ کر جھوٹ بولا تاکہ اسے گرفتار کر لیا جائے۔ اسکے طبی معائنے پر اسے مکمل صحت مند قرار دیا گیا۔ اسکی اس حرکت پر عدالت نے اسے سوا تین سال قید کی سزا سنائی۔ اب جیل میں خوش ہے کہ اسے دو وقت کا کھانا اور سر پر چھت میسر ہوگی۔