• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ 2008ءکی بات ہے میں انڈیا کے اپنے پہلے اور اب تک کے آخری دورے پر گیا ۔ راہول گاندھی سے انکی رہائش گاہ اورنگزیب روڈ دہلی میں میری ون ٹو ون ملاقات ہوئی جو بہت دیر تک چلی۔ مختلف امور پر رائے میں اختلاف تھا اور میں نے یہ محسوس کیا کہ انڈین سپریمیسی کی غلط فہمی پوری طرح سے ان کے فہم پر چھائی ہوئی تھی اور یہ صرف بی جے پی تک محدود نہیں تھی ۔ اٹھتے اٹھتے میں نے راہول گاندھی سے کہا کہ مسئلہ صرف اتنا سا ہے کہ آزادی کے بعد سے دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو ہرانے کی کوشش کی اگر ایک دوسرے کو جیتنے کی کوشش کرتے تو کئی منازل طے ہو چکی ہوتیں ۔ یہ تمام گفتگو انڈیا میں ایک ویبینار سے تقریر کرتے ہوئے میرے ذہن کے دریچوں میں عود کر آئی تھی ۔

اس ویبینار سے میرے علاوہ منی شنکر انڈیا کے سابق یونین منسٹر ، انڈین راجیہ سبھا کے رکن پروفیسر منوج جھا ، انڈین صحافی حضرات جے انت گھوشال اور روہینی سنگھ جبکہ پاکستان سے جہانگیر اشرف قاضی موجود تھے ۔ ویبینار کی خاص بات یہ تھی کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھا کر پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے کچھ امن دوستی کے امکانات اور اس میں میڈیا کے کردار پر مثبت ہی گفتگو تمام شرکا نے کی ۔ میںنے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے وہی فقر ہ دُہرایا جو راہول گاندھی سے کہا تھا کہ ہم نے ایک دوسرے کو بس ہرانے کی کوشش کی اگر ایک دوسرے کو جیتنے کی کوشش کرتے تو اب تک بہت کچھ بدل گیا ہوتا ۔ جب برطانوی ہند کی تقسیم ہوئی تو اس وقت دونوں ممالک نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ دونوں ممالک اپنے شہریوں کی باہمی آمد و رفت پر کوئی پابندی یا شرائط عائد نہیں کریں گے مگر وقت کے ساتھ ساتھ صورتحال بد سے بدتر ہوتی چلی گئی اور اب تو جو صورتحال ہے وہ سب کے سامنے ہے کہ دوبارہ کسی وقت بھی اس خطے کے امن کو نگلنے کیلئے تیار بیٹھی ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تقسیم برطانوی ہند کے بعد جو مسائل پیدا ہوئے ان کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا جاتا مگر یہاں تو یہ صورت حال بنتی چلی گئی کہ کھیل کا میدان بھی پانی پت کا میدان بنا دیا گیا اور کسی میچ کے وقت ایسا لگتا ہے جیسے جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔

سچی بات یہ ہے کہ میڈیا کا کرداراس حوالے سے بہت منفی ہی رہا ۔ پاکستان میں جنگ گروپ نے امن کی آشا جیسے اقدامات کئے ادھر ہندوستان ٹائمز نے بھی کئے مگر ہم اس سب کے باوجود دیکھ رہے ہیں کہ فلم ہو یا ڈرامہ اور اب تو آن لائن پلیٹ فارمز پر نشر ہونے والے سیزن ، سب میں بس نفرت یا تاریخ کو مسخ کرکے ہیرو ولن کے اصول پر پیش کیا جاتا ہے ۔

میں نے انڈین دوستوں کے سامنے یہ بات بھی رکھی کہ بد قسمتی سے آپ کی جانب سے کھلاڑی ہو یا اداکار ، فلمی نغمہ نگار ہوں یا لکھاری وہ محض انڈیا سے حب الوطنی ثابت کرنے کیلئے پاکستان کے خلاف بولنے ،لکھنےمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ ممکن ہے پاکستان کی انٹر ٹینمنٹ انڈسٹری سے وابستہ افراداسلئے ایسا نہ کرتے ہو کہ اِنکو کو وہ فيم حاصل نہیں جو آپ کے فنکاروں کو حاصل ہے مگر اس فیم کے بعد تو ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے مگر ایسی ذمہ داری دیکھنےکو نہیں ملتی ۔

اس ساری صورتحال کا ایک منطقی نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ انڈیا میں یہ سوچ پروان چڑھ گئی کہ انڈیا اس وقت کم از کم خطے کی ایک بالا دست طاقت بن چکا ہے اور اب چاہے اسکے پاکستان سے جس حد تک بھی اختلافات کیوں نہ ہوں، انڈیا کو پاکستان سے گفتگو کرنے کی کوئی حاجت نہیں رہی۔ ظاہر ہے جب گفتگو کیلئے ہی تیار نہیں ہونگے تو مسائل کا حل کیسے نکل سکتا ہے اور سونے پر سہاگہ یہ کہ اس تصوراتی بالا دستی کا اظہارکرتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ انداز میں کبھی پانی روک لیا تو کبھی کچھ بیانات کی صورت میں سامنے آتا چلا گیا ۔ لکھی پڑھی بات ہے کہ نفرت نے پھر بڑھنا ہی تھا ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کو کیسے بہتر بنایا جائے ؟ اصل مسئلہ اس ذہنیت کا ہے کہ برطانوی ہند میں انگریز کے تخت و تاج کے ہم وارث ہیں اور اگر کوئی دلی سرکار سے باہر ہے تو قابل برداشت نہیں ۔ اس سوچ کو بدلنا ہوگا اور ہمیں یہ کوشش کرنی ہوگی کہ نوآبادیاتی دور سے قبل کے برصغیر کو بحال کیا جائے ۔ نوآبادیاتی دور سے قبل برصغیر میں جا بجا ریاستیں ، ممالک موجود تھے اور ان کی موجودگی کو کوئی بھی گھور انیائے نہیں سمجھتا تھا مگر اس سیاسی حد بندی کے باوجود لوگوں کی معاشرت اور معیشت میں کوئی پابندیاں عائد نہیں تھیں ۔

میل جول آزادانہ طور پر ہو رہا تھا ۔ بس اگر یہ کوشش کی جائے کہ سب کچھ بس دلی کے ماتحت ہو تو یہ صریح طور پر غیر فطری ہوگا مگر اگر ایک دوسرے کو دل سے تسلیم کرتے ہوئے آزادانہ میل ملاپ کی طرف بڑھا جائے تو نوآبادیاتی دور سے قبل ایسا ہی سیاسی و سماجی نظم موجود تھا مگر یہ ایک دوسرے کو ہرانے سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو جیتنے سے حاصل ہوگا ۔

تازہ ترین