• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اس وقت ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑی ہے جہاں پرانی دشمنیاں اور نئے اتحاد آمنے سامنے ہیں۔غزہ، جو گزشتہ دو برسوں سے آگ اور خون کے کھیل کا مرکز رہا، اب ایک ایسی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے جہاںامن،محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک بہت بڑی ذمہ داری بن کر ابھرا ہے۔

اس سلسلے میں صدر ایردوان نے اعلان کیا ہے کہ ترکیہ غزہ میں قائم کیے جانیوالےبین الاقوامی استحکام مشن (International Stability Mission) کا ہراول دستہ ہوگا۔ یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں، بلکہ خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد پہلی بار اس سرزمین پر ترک فوج کے قدم پڑنے کا ایک سنجیدہ منصوبہ ہےلیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ صدر ایردوان کی واشنگٹن میں 19 فروری کے بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں عدم شرکت کو سفارتی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، اگرچہ انہوں نےشرم الشیخ کے ابتدائی اجلاس میں شرکت کی تھی لیکن اسکے بعد انہوں نے نمائندگی کی ذمہ داری وزیرِ خارجہ حقان فیدان کو سونپ دی تاکہ ترکیہ ایک فعال مگر محتاط کردار ادا کرے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ممکنہ براہِ راست سیاسی دباؤ سے بچتے ہوئے پسِ پردہ مؤثر سفارت کاری کو آگے بڑھانا ہے۔

ترک وزیرِ قومی دفاع یشارگیولر نےگزشتہ دنوں نیٹو وزرائے دفاع کے اجلاس کے بعد دوٹوک انداز میں کہا تھاکہ ترک مسلح افواج غزہ میں قائم ہونیوالی بین الاقوامی فورس میں شرکت کیلئےتیار ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ ترکیہ محض سیاسی حمایت تک محدود نہیں بلکہ زمینی سطح پر کردار ادا کرنے کیلئے سنجیدہ ہے۔ مشن کی نوعیت کیا ہوگی؟ذرائع کے مطابق 1: ترک فوج کی انجینئرنگ کور،وہاں سڑکوں کی تعمیر، پانی کی فراہمی کے نظام کی بحالی اور بجلی کے گرڈز کو دوبارہ فعال کریگی۔2.فیلڈ ہسپتال اور میڈیکل کور: ترک جدید ترین موبائل ہسپتال لے کر جائےگی، جو زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرےگی۔3 :سیکورٹی اور ٹریننگ: سب سے اہم نکتہ مقامی فلسطینی پولیس اور سیکورٹی فورسز کی تربیت ہے۔ ترکیہ چاہتا ہے کہ غزہ کا نظم و نسق خود فلسطینیوں کے ہاتھ میں ہو، لیکن انکی پشت پر ترک تربیت یافتہ افسران کھڑے ہوں۔ وزیرِ خارجہ حقان فیدان بھی استنبول میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے بعد واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ اگر مطلوبہ شرائط پوری ہوئیں تو ترکیہ امن کے قیام کیلئے ہر ممکن ذمہ داری ادا کرےگا۔،یہ محض سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک عملی پیغام ہے۔جیسے ہی ترکیہ کی ممکنہ تعیناتی کی خبریں عام ہوئیں، اسرائیل کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔ نیتن یاہو حکومت کا ماننا ہے کہ غزہ میں کسی بھی غیر ملکی فوج کی آمد اسرائیل کی سیکورٹی کیلئے خطرہ بن سکتی ہے، خاص طور پر اگر وہ فوج ترکیہ کی ہو جسکے صدر اسرائیل کو دہشت گرد ریاست، قرار دے چکے ہیں۔وزیرِ خارجہ حقان فیدان، جو خود انٹیلی جنس کے سابق سربراہ ہیں، اس وقت پردے کے پیچھے ایک بڑا کھیل کھیل رہے ہیں۔ استنبول میں ہونیوالے حالیہ اجلاسوں میں انہوں نے قطر، مصر اور سعودی عرب کو ایک مشترکہ اسلامی امن فورس پر آمادہ کرنیکی کوشش کی ہے۔حقان فیدان کا کہنا ہےکہ ہمیں صرف امداد نہیں بھیجنی، ہمیں ایک سیاسی چھتری بھی فراہم کرنی ہے۔وہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک ایسی قرارداد منظور کروائی جائے جو ترک فوج کی موجودگی کو بین الاقوامی قانونی تحفظ فراہم کرے۔

ترکیہ کی خارجہ پالیسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی سامراجی ایجنڈا نہیں بلکہ انسانیت کا تقاضا ہے۔ ترکیہ پہلے ہی سینکڑوں امدادی ٹرک، کنٹینر ہاؤسز اور آفاد (AFAD) کے ذریعے اربوں ڈالر کی امداد بھیج چکا ہے۔ ترک ہلالِ احمر (Kızılay) کے اہلکار پہلے ہی وہاں گراؤنڈ پر موجود ہیں۔ اب فوج کی ضرورت صرف اس لیے ہے کہ اس امداد کی تقسیم کو اسرائیل کی مداخلت سے بچایا جا سکےلیکن یہ راستہ اتنا آسان نہیں ہے۔ ترک فوج کیلئے غزہ میں کئی چیلنجز ہوں گے۔اسرائیل کے ساتھ تصادم کا خطرہ: اگر اسرائیلی اور ترک فوج کے درمیان کسی غلط فہمی کی بنا پر جھڑپ ہو جاتی ہے، تو یہ ایک علاقائی جنگ کو جنم دے سکتی ہے۔مقامی گروپس کا ردِعمل: اگرچہ حماس ترکیہ کے کردار کو سراہتی ہے، لیکن غزہ میں موجود دیگر مسلح گروپس کی سوچ مختلف ہو سکتی ہے۔لاجسٹک مسائل: غزہ کا محاصرہ ختم کروانا اور سمندری راستے سے سپلائی لائن برقرار رکھنا ایک بہت بڑا فوجی ٹاسک ہے۔ترک فوج کی ممکنہ روانگی اب محض ایک سرخی نہیں، بلکہ ایک جیو پولیٹکل حقیقت ہے۔ صدر ایردوان نےواضح کر دیا ہے کہ ترکیہ اب صرف بیانات کی حد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک ایکشن ٹیکر کے طور پر سامنے آئیگا۔کیا ترک فوج غزہ میں قدم رکھ کر تاریخ کا رخ موڑ پائیگی؟ کیا یہ مشن فلسطینیوں کو ان کا کھویا ہوا وقار واپس دلا سکے گا؟ ان سوالات کے جوابات آئندہ چند ہفتوں میں واضح ہو جائیں گے۔ لیکن ایک بات طے ہےکہ انقرہ کی دیواروں سے اٹھنے والی گونج نے تل ابیب کے ایوانوں میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ترکیہ کے اندر غزہ کے مسئلےپر وسیع عوامی ہمدردی پائی جاتی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بھی عمومی طورپر فلسطین کی حمایت کرتی ہیں، اگرچہ وہ حکومت کی پالیسی کے طریقۂ کار پر تنقید کر سکتی ہیں۔ فوجی دستوں کی بیرونِ ملک تعیناتی ہمیشہ داخلی بحث کو جنم دیتی ہے، مگر اس معاملے میں قومی اتفاقِ رائے نسبتاً مضبوط دکھائی دیتا ہے۔

تازہ ترین