• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈیپ فیک کیس: عدالت نے پریتی زنٹا کو عبوری ریلیف دیدیا

پریتی زنٹا---فائل فوٹو
پریتی زنٹا---فائل فوٹو 

بالی ووڈ ڈمپل کوئن، اداکارہ پریتی زنٹا کو ڈیپ فیک کیس میں ممبئی ہائی کورٹ سے عبوری ریلیف مل گیا۔

ممبئی ہائی کورٹ نے اداکارہ پریتی زنٹا کو ان کے خلاف مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کیے گئے ڈیپ فیک مواد، تبدیل شدہ تصاویر، جعلی ویڈیوز اور ان کی شناخت کا غیر مجاز استعمال کرتے ہوئے آن لائن شیئر کیے گئے دیگر مواد کے معاملے میں عبوری تحفظ فراہم کیا ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی مواد تیار کرنا کسی بھی فرد کے شخصی حقوق، تشہیری حقوق اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے بنیادی حق کی سنگین خلاف ورزی کا سبب بن سکتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ کسی معروف شخصیت کی تصویر، شناخت یا مشابہت کا غیر مجاز استعمال ناصرف اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمے داری پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ثالثی پلیٹ فارمز پر لازم ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز کے تحت اپنی قانونی ذمے داریاں پوری کریں۔

عدالت نے کہا کہ ایسے جعلی مواد کے خلاف بر وقت کارروائی ناصرف شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو گی بلکہ بار بار خلاف ورزی کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی بھی کرے گی۔

سماعت کے دوران پریتی زنٹا کی قانونی ٹیم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انٹرنیٹ پر موجود سیکڑوں لنکس میں مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی یا تبدیل شدہ تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں جن میں اداکارہ کی جھوٹی اور گمراہ کُن انداز میں عکاسی کی گئی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ بادی النظر میں مقدمے کے حق میں شواہد موجود ہیں جس کے بعد اداکارہ کو عبوری ریلیف فراہم کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ اداکارہ اور آئی پی ایل فرنچائز پنجاب کنگز کی شریک مالک پریتی زنٹا نے مبینہ طور پر اپنی شناخت کے غیر مجاز استعمال، اے آئی سے تیار کردہ ڈیپ فیک، تبدیل شدہ تصاویر اور دیگر ڈیجیٹل مواد کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

51 سالہ اداکارہ نے گوگل، میٹا، ڈومین رجسٹرارز اور دیگر کے خلاف مقدمے میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ میری اجازت کے بغیر میری شناخت، تصاویر اور مشابہت استعمال کرتے ہوئے اے آئی ڈیپ فیک اور تبدیل شدہ مواد آن لائن شیئر کیا گیا، جس سے میری ساکھ اور رازداری متاثر ہوئی ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید