مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللّٰہ نے قوم کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، سیاسی اور عسکری قیادت ان مشکلات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔
رانا ثناء اللّٰہ نے عید کے پُرمسرت موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔ ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت اہم ممالک کا پاکستان پر اعتماد موجود ہے۔
افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا مؤقف اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے، پاکستان نہ جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے اور نہ افغانستان کے کسی حصے پر قبضے کا ارادہ رکھتا ہے، پاکستان کا واحد مطالبہ یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو۔
اِن کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان اس حوالے سے یقین دہانی کرا دے تو دونوں ممالک کے درمیان کوئی تنازع باقی نہیں رہے گا۔
رانا ثناء اللّٰہ نے بتایا کہ آپریشن ’غضب لِلحق‘ پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر دوبارہ ایسے مراکز استعمال ہوئے تو ان پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدوں کی پاسداری کی جا رہی ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کسی حملے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ پاکستان ایران اور سعودی عرب کے درمیان افہام و تفہیم کے ساتھ معاملات آگے بڑھا رہا ہے۔
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات حکومت نے نہیں بلکہ عدالتوں نے فیصلے اور سزائیں سنائی ہیں اور کسی بے گناہ کو سزا نہیں دی گئی، 9 مئی کو ریاستی دفاعی اداروں کے خلاف سازش کی گئی جبکہ بانیٔ پی ٹی آئی کے خلاف توشۂ خانہ سمیت دیگر کیسز واضح نوعیت کے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی واقعہ ہو تو پاکستان میں جلاؤ گھیراؤ شروع کر دیا جاتا ہے، عوام احتجاج کی کال دینے والوں کو مسترد کر رہے ہیں، حکومت کی سیاسی رواداری اور جمہوری عمل کو جاری رکھنے کی پالیسی کو عوامی پذیرائی مل رہی ہے۔
رانا ثناء اللّٰہ نے یہ کہا کہ بعض عناصر ڈیل کے لیے تیار ہیں مگر سیاسی عمل چلانے کے لیے آمادہ نہیں جبکہ ایسی کسی ڈیل کی کوئی گنجائش نہیں جس کے تحت اِنہیں دوبارہ موقع دیا جائے۔