آج فلسطین کشمیر اور جنوبی ایشیا میں زندگی کس طرح لقمہ اجل بن رہی ہے یا بنائی جا رہی ہےدل خون کے آنسو روتا ہے۔ زندگی اللّٰہ تعالیٰ کی سب سے گراں قدر نعمت ہے۔ انسان قادر مطلق کا اس کائنات میں نائب ہے ۔زندگی کی قدر سب سے اہم ہے۔ زندگی بسر کرنے میں آسانیاں اور سہولتیں فراہم کرنے میں انسانیت کی معلوم تاریخ میں پیغمبر، دانشور، فلسفی، نیک دل حکمران سب ہی کوشاں رہے ہیں۔ انسان بتدریج جنگل ،پتھر کی تنہا زندگی سے قبیلے کی زندگی تک آیا ۔پھر مختلف سماجی پیمانے اختیار کرتا جمہوری نظام کی منزل تک پہنچا۔ انسانی جان کی حفاظت معاشرے اور ریاست کے درمیان عمرانی معاہدے کی شرط اول ہے۔ ایک نئی زندگی کا ورود ہر گھرانے میں سب سے بڑی خوشی ہوتی ہے۔ مائیں جس طرح اپنے بچے کو لاڈ پیار سےپالتی ہیں۔ سنوارتی ہیں ۔صدقے واری جاتی ہیں ۔ایک ریاست کیلئےبھی ماں ہی ایک بہترین روشن مثال ہوتی ہے۔ مختلف صدیوں میں مختلف ریاستوں نے جب جب ایک مامتا بھری ماں کا روپ دھارا ۔اپنی اقلیم میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو ایک محفوظ اور پرسکون ماحول دیا ۔وہاں زندگی کے ہر شعبے میں انسان نے ترقی کی اور جینے کے عمدہ اور معیاری سلیقے اپنائے جو دوسرے معاشروں کے لیے بھی ایک نمونہ بنتے رہے ۔ماں جیسی ریاستیں ہر شہری کو زندگی بھرپور انداز میں گزارنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ بچے کی پیدائش ،پرورش پھر عملی زندگی میں اس کیلئے روزگار کے دروازے کھولتی ہیں۔ کامیاب ریاستیں ایک ایک فرد کی ذہانت توانائی اور صلاحیت سے استفادہ کرتی ہیں۔ فلاحی ریاستوں میں کسی بھی ذہانت کے عدم استعمال کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انسان کیلئے سازگار ماحول تخلیق کرنے والی ریاستوں میں کوئی بھی اپنے آپ کو عقل کل تصور نہیں کرتا ۔کوئی بھی گزشتہ کے احتساب سے نہیں بچتا۔ آئندہ کیلئے استثنیٰ نہیں مانگتا ۔میں دبئی میں 13 روز گزار کر آ رہا ہوں ایک ولولہ تازہ لے کر وطن واپس پہنچا ہوں ۔آفریں ہے ایسی ریاست پر ایسے حاکموں پر جو اپنے شہریوں کی زندگی کو بھرپور انداز میں گزارنےکیلئے دن رات ماحول تعمیر کرتے ہیں ۔سب سے اولین ترجیح ہے کہ ہر مقامی غیر مقامی یہاں اپنی جان کو خطرے میں نہ سمجھے ۔تحفظ کا یہ احساس ہی اسے اپنی بہترین صلاحیتوں کے مکمل استعمال کی طاقت عطا کرتا ہے۔ میری خوش قسمتی کہ یہاں مجھے رمضان کے مبارک مہینے کے آغاز کے کچھ دن میسر آئے تو اپنے ہر طرف رمضان کریم کی روشنی خوشبو کو موجزن دیکھا ۔رمضان گزارا نہیں منایا جا رہا تھا۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کی جا رہی تھیں گھر بیٹھے ہر چیز سستے داموں مل سکتی ہے۔ ویسے تو یہاں ہر مہینے ہی زندگی کو زیادہ سے زیادہ پر لطف بنانے کی کوششیں جاری رہتی ہیں۔ لیکن ماہ رمضان میں تو زیادہ اہتمام کے مناظر دکھائی دیتے ہیں ۔ حکمرانوں ریاستی اداروںتاجروں صنعت کاروں ریستوراں سپر سٹور سب کا انداز والہانہ خیر مقدمی اور اپنائیت کا ہوتا ہے۔ ہر چہرے پر خلوص کی تمتماہٹ، تسکین کی چمک ہوتی ہے ۔ہر آنے والے کا استقبال ایک مسکراہٹ سے کیا جاتا ہے ماتھے پر شکن سے نہیں ۔یہاں ہمیں اذیت ہوتی ہے کہ ہر دوسرا کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے میں لگا رہتا ہے۔ رمضان کی آمد آمد ہوتی ہے تو ضروری اشیاء مارکیٹ سے گم کردی جاتی ہیں پھر ان کی من مانی قیمتیں مقرر کی جاتی ہیں۔ تاجروں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ چیز لینی ہے تو لیں ورنہ سامنے سے ہٹ جائیں۔ اعلانات ہوتے ہیں مگر مقررہ قیمت سے زیادہ مانگنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی ریاست کے سلوک میں مامتا نہیں تحکم ہوتا ہے۔ سامراجیت ہوتی ہے۔ اب تک زندگی کی عمدگی اور معیار میں مقابلہ کینیڈا اور جاپان کے درمیان رہتا تھا کہ زندگی عمدہ سے عمدہ کیسی ہو سکتی ہے۔ ایک انسان کی پیدائش سے لے کر خالق حقیقی کے حضور حاضری تک سازگار ماحول کیسے دیا جا سکتا ہے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ بچپن لڑکپن جوانی ادھیڑ عمر بزرگی پریشانی کے بغیر کیسے گزر سکتی ہے۔ ہمیں تو خوشی ہے کہ اب کے ملک سے باہر جاتے ہوئے بھی سول ایوی ایشن کی طرف سےاز خود پورٹر سروس احتراماً اعزازی پیش کی گئی اور آتے ہوئے بھی بہت خوش دلی سے یہ عزت دی گئی۔ زندگی پروردگار کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اور اس نعمت کو مزید قابل قدر ،لائق تحسین بنانےکیلئےکسی رنگ نسل اور عقیدے کے امتیاز کے بغیر جو ریاستیں اچھا ماحول فراہم کر رہی ہیں انہیں شہری اپنا ٹیکس ادا کرتے وقت یا سہولت کی جو بھی قیمت لگائی جائے۔ اسے چکانے میں کوئی ناگوار احساس ظاہر نہیں کرتے۔ جب یہ سہولت ہر ایک کو اسی دام پر مل رہی ہو تو کسی کو اعتراض بھی نہیں ہوتا ۔ ایک تجربہ ہم 1947 سے کرتے آ رہے ہیں۔ اس میں کتنی قیامتیں برپا ہوئیں ۔ کتنے المیے رونما ہوئے۔ کتنی بے وفائیاں ہوئیں کتنے نوجوان شہید ہوئے۔ کتنی سہاگنیں بیوہ ہوئیں۔ کتنی ماؤں کی گود اجڑی۔ ہمارے حکمران چاہے وہ سیاسی تھے یا فوجی ،اختیارات تو انکے پاس حاکموں والے ہی تھے وہ جو چاہے کر سکتے تھے ۔انکے اختیارات کو کوئی سپریم کورٹ کوئی پارلیمنٹ چیلنج نہیں کرتی تھی ۔مواقع ان کے پاس بھی خوشحال ریاستوں کے حاکموں جیسے ہی تھے اور یہ جو جمہوریت کی نمائش اسمبلیاں ہیں۔ یہاں بھی اب سرداروں جاگیرداروںٹھیکے داروں ریٹائرڈ فوجی اور ریٹائرڈ اعلیٰ سول افسروں کا غلبہ ہے۔ یہ ماشاء اللّٰہ پہلے سے ہی امیر ہوتے ہیں ۔پہلے سے ہی انکے پاس زندگی کی سب سہولتیں ہوتی ہیں۔ غریبوں کو کوئی آسانی دینے کا مرحلہ ہو تو یہ آپس میں لڑ پڑتے ہیں لیکن جب ان ارکان اسمبلی یا سینٹ کو اپنی تنخواہوں، اپنی مراعات میں اضافہ کرنا ہو تو یہ سب ایک ہو جاتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کس کام کے اتنے بڑے بڑے معاوضے لیتے ہیں۔ سرکاری رہائشیں کیوں اختیار کرتےہیں۔ اندرون ملک اور بیرون ملک مفت سفر کیوں کرتے ہیں ۔یہ قانون ساز کہلاتے ہیں۔ قوانین تو پہلے ہی ان کے غلام ہیں ۔مزید قانون سازی بھی یہ اپنے لیے ہی کرتے ہیں ۔25 کروڑ کی سہولت کیلئے تو قانون سازی کبھی کبھارہی ہوتی ہے۔ 1947 میں آزاد ہونیوالے پاکستان میں سو میں سے 47 غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ پاکستان کے پاس قدرتی معدنی وسائل سب سے زیادہ ہیں۔ قابل کاشت رقبے بہت وسیع ہیں۔ زمینیں بہت زرخیز ہیں۔ ہماری افرادی قوت مثالی ذہانت رکھتی ہے جو برطانیہ کینیڈا امریکہ خلیجی ریاستوں میں ترقی کا باعث بنتی ہے۔ دبئی میں بھی غربت 12 فیصد بتائی جاتی ہے اگرچہ یہاں کے سرکاری ذرائع نہیں مانتے ۔ہمارے حکمراں اگر چشم پوشی کرتے ہیں۔ امن سے حفاظت سے عوام کی خوشحالی سے۔ تو ہماری یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے کیا کر رہے ہیں ۔کیا کسی یونیورسٹی نے تحقیق کی ہے کہ دبئی ،ابو ظہبی، راس الخیمہ، شارجہ، العین، قطر، کویت، بحرین، مسقط اپنے لوگوں کو اور غیر مقامیوں کو بھرپور زندگی کیسے دے رہے ہیں۔ ہم بلوچستان، سندھ پنجاب، خیبر پختونخوا،گلگت ،بلتستان، آزاد کشمیر میں وسائل کے باوجود زندگی کی عمدگی کا اہتمام کیوں نہیں کر پاتے؟