• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش میں بٹوارے،سرحدی بندشوں اوردوریوں کے باوجود قربتیں ختم نہ ہو سکیں اور ختم ہونی بھی نہیںچاہئیں کیونکہ بنیادی طور پر ہم ایک ہی دھرتی،ایک ہی ڈی این اے، ایک ہی تہذیبی گہوارے کا حصہ ہیں۔ جمہوری حوالوں سے بھی ہمارے سسٹم ملتے جلتے ہیں بھارت تو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے جبکہ پاکستان اور بنگلہ دیش اس سلسلے میں کوشاں ہیں ۔انیس سو ستر میں پاکستان کے پہلے اور آخری متحدہ الیکشن میں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ تین سو کے ایوان میں ایک سو باسٹھ سیٹیں لے کربھاری مینڈیٹ سے جیت گئی جبکہ انکے بالمقابل بھٹو کی پیپلز پارٹی محض 81 سیٹیں حاصل کر پائی لیکن جب بنگالی عوام کا مینڈیٹ قبول کرنے کی بجائے ان پریلغار کر دی گئی تو انہوں نے ہم سےراہیں جدا کرلیں۔جس طرح پاکستان میں نون لیگ اور پی پی باری باری آتی جاتی رہیں ۔اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی عوامی لیگ کی شیخ حسینہ اور بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کی بیگم خالدہ ضیا بھی تین اور دو مرتبہ پرائم منسٹر بنیں۔

بنگلہ دیش کی سیاست کو سمجھنےکیلئے وہاں کی مذہبی اور سیاسی تنظیم جماعت اسلامی کےکردار پر بھی ایک نظر ڈال لینی چاہئےجس کی فکری بنیادیں مولانا مودودی کے نظریات پر استوار ہیں ۔ پروفیسر غلام اعظم کی قیادت میں جماعت نے بنگلا دیش کے قیام کی مخالفت کی تھی ۔ یہ ہے وہ پس منظر جس میں شیخ مجیب کی سپتری شیخ حسینہ جماعت کی سخت مخالف ہو گئیںاور اسی انتقامی اپروچ کے مطابق انہوں نے جماعت کی اعلیٰ قیادت کو نہ صرف پھانسیاں دینا ضروری سمجھا بلکہ جو لوگ جنگِ آزادی میں مرے تھے انکی اولادوں کو نوازنا بھی جاری رکھا،یہ عام بنگالی نوجوانوںکیلئےغیر منصفانہ اور احساس محرومی کو بڑھانے والا طرز عمل تھا۔

جب اس سلسلے میں آوازیںاٹھیں تو ایک جمہوری لیڈر کی حیثیت سے شیخ حسینہ کو قومی قائد کا منصفانہ رویہ اپنانا چاہیے تھا جبکہ انہوں نے طاقت سے کچلنے کا روایتی شاہی حربہ اختیار کیا وہ بنگالی عوام کی شعوری سطح کو سمجھنے سے قاصر رہیں نتیجتاً اسلامی چھاتروشبر کے طلباء کا یہ احتجاج بڑی عوامی تحریک کی صورت اختیار کر گیا جس میں جماعت اسلامی پیش پیش تھی اسی احتجاجی تحریک کے باعث شیخ حسینہ کو انڈیا فرار ہونا پڑا جبکہ بنگلہ دیش میں نوبل انعام یافتہ ٹیکنوکریٹ محمد یونس کو چیف ایگزیکٹو بناتے ہوئے نیا عبوری سیٹ اپ قائم کر دیا گیاجس میں جماعت اسلامی کے طلباء ہی نہیں خود جماعت اسلامی پیش پیش تھی اور اس احتجاجی تبدیلی کو انقلاب کا نام دے رہی تھی۔ اس دوران نہ صرف عوامی لیگ کے دفاتر جلائے گئے بلکہ ہندو مینارٹی اور انکے مندروں پر بھی حملے ہوئے۔بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب کے مجسموں اور آزادی کی یادگاروں کو بھی توڑ پھوڑ دیا گیا دوسری طرف چیف ایگزیکٹیو محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری سیٹ اپ پر اندرونی ہی نہیں بیرونی دباؤ بھی تھا کہ عوام کو ان کا حقِ نمائندگی لوٹاتے ہوئے فوری الیکشن کروائے جائیں۔

یہ ہے وہ پس منظر جس میں بارہ فروری کے پرامن الیکشن منعقد ہوئے ۔ سروے رپورٹس کے برعکس انتخابی نتائج اس درویش کی توقعات کے عین مطابق برآمد ہوئے ۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی تین سو کے ایوان میں ایک امیدوار کی وفات کے بعد دو سو ننانوے سیٹوں میں سے دو سو بارہ نشستیں لیتے ہوئے ٹو تھرڈ میجارٹی سے جیت گئی ہے اور جماعت اسلامی کو محض 76 سیٹوں تک محدود ہونا پڑا ہے ان انتخابات کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ ان میں شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کو اس کی رجسٹریشن منسوخ کرتے ہوئے انتخابی دوڑ سے باہر کر دیا گیا۔جبکہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ خالدہ ضیاء ان کے کنبے اور دیگر لیڈران پر جو مقدمات تھے سب واپس لے لیے گئے۔

بدقسمتی سے انتخابی مہم کے دوران بی این پی کی بیمار رہنما بیگم خالدہ ضیا وفات پا گئیں اور سترہ سال سے لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے انکے ساٹھ سالہ بیٹے طارق رحمان کا ڈھاکہ پہنچنے پر والہانہ استقبال ہوا بیگم خالدہ کا جنازہ بھی ریکارڈ توڑ تھا صاف دکھائی دے رہا تھا کہ اگلا پرائم منسٹر کون ہوگا لیکن محمد یونس کے زیراثر سروے رپورٹس بتا رہی تھیں کہ جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان کی قیادت میں قائم گیارہ جماعتی الائنس اور بی این پی کے چیئر مین طارق رحمان کی قیادت میں قائم دس جماعتی الائنس میں مقابلہ نیک ٹو نیک ہوگا اور دونوں انیس بیس کے فرق سے جیتیں گے ۔ایسی صورت میں بادشاہ کی حیثیت اسٹیبلشمنٹ کو حاصل ہونا لازم تھی یوں محمد یونس آئینی اصلاحات کے نام پر کروائے گئے ریفرنڈم کی مطابقت میں بندر بانٹ کر سکتے تھے خود جماعت اسلامی اور اس کی زیراثر قائم احتجاجی طلبہ کی تنظیم نیشنل سٹیزن پارٹی جسکی قیادت ناہید اسلام کر رہے تھے یہی امیدیں پالے بیٹھے تھے لیکن انتخابی نتائج نے ان تمام انقلابی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ جماعت اسلامی کو شکست ہی نہیں ہوئی احتجاجی طلبا کی نیشنل سٹیزن پارٹی محض چھ نشستیں حاصل کر پائی خود اس کا لیڈر بڑی مشکل سےمحض دو ہزار کے مارجن سے جیتا، طارق رحمان کے ٹو تھرڈ میجارٹی سے پرائم منسٹر منتخب ہونے کے باوجود بنگلہ دیش کی جمہوریت کا اگلا چیلنج کیا درپیش ہے اس پر بحث اگلے کالم میں۔

تازہ ترین