انڈیا اور پاکستان میں دشمنی کی حدیں پار کرنے کے باوجود، ادبی حلقوں میں مروت ابھی تک اسی طرح ہے جیسے اردو زبان کی تشکیلی صورت نے یہ انتہا پائی کہ ضیاء الحق کی نفرت بھری حکومت کے دوران دونوں ملکوں کے ادیبوں کو، مراسلت بند ہونے کے باوجود لندن میں ساقی اور سماحب کے توسط سےایک دوسرے کی تحریریں بہرحال پہنچ جاتی تھیں۔ یہ دشمنانگی کا ابر پھیلتا، سکڑتا رہا ، وہ زمانہ بھی آیا کہ ہم لوگ ایک دن میں ویزا لےکر، ہر دوملکوں کی کانفرنس میں پہنچ جاتے تھے۔اب5 سال کیسے گزرے صرف ایک حوالہ، بھٹنڈہ کے ایک محقق نے ای میل کے ذریعہ استفسار کیا ہے کہ ممتاز شیریں کی قبر کہاں اور کس شہر میں ہے ہوسکے تو تصویر بھجوادیں۔محقق کے استفسار کے جواب میں ، میں نے اپنے اندرجھانکا اور شرمندگی ماتھے پر نظر آئی کہ اس طرح کا سوال اور تجسس ان محقق کو بھی تھا کہ انکے تصور میں اسلام آباد میں رہنے کے باوجود کم ازکم میں اور دیگر اہم ادیب جانتے تو ہونگے۔ ہر چند ممتاز شیریں کو وفات پائے50سال سے زائد ہوئے ہیں مگر کسی ادبی کیلنڈر اور میوزیم میں یہ سوال نہیں اٹھا۔ خدا جنت نصیب کرے ڈاکٹر آصف فرخی کو کہ جس نے پرانے صفحات کو جوڑ کر ممتاز شیریں کو نئے لکھنے والوں کے لئے زندہ کیا۔ مگر اس طرح کے سوال بہت اہم ہیں کہ ہماری وہ نسل جس نے ہمیں فرانسیسی ادب سے روشناس کرایا ممتاز ترین شخصیت محمد حسن عسکری ہیں۔ وہ فراموشی کے کس راستے پرچلے گئے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے ادیب ان کو یاد دلارہے ہیں۔
اسی طرح کی تحریک کراچی فیسٹیول میں جمیلہ ہاشمی کے حوالے سے پیدا ہوئی۔ اسکی بیٹی عائشہ لندن میں پڑھارہی ہے۔ پاکستان کی کچھ قوتیں اسے ملک میں تعلیم دینے سے کیوں روکے ہوئے ہیں۔مگر ادبی سطح پرحسین بن حلاج کوجمیلہ ہاشمی نے کتاب دشت سوس میں زندہ کیا۔یہ کوئی بذات خود، بڑی پرانی تہذیبی شکل کو زندہ ہی نہیں کیا بلکہ ایران اور پاکستان کے اساسی ماحول میں، جمیلہ ہاشمی جب حسین بن منصور حلاج کے جوش جنوں میں ادا کئے ہوئے جملے ’’ انا الحق‘‘ کو بیان کرتی ہیں تو بڑی سادگی اور سکون کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ اس مقام پر انہوں نے صرف اتنا کہا ’’ یہ کلمہ جس کو ادا کرنے کی سرخوشی نے ا س سے ہوش وخرد چھین لیے تھے وہ ہنستا چلاجاتا ہے۔ یہ آتش نہانی رمضان میں ہی کیوں یاد آئی کہ انسان کو انسان ہونے کی ندامت اسے نیا شعور عطا کرتی ہے، اگر ہم دوبارہ دشت سوس کو پڑھیں تو’ مرغ تخیل کی رسائی تا کجا‘۔ یہ حوالہ ڈاکٹر صابر حسین جلیسری کی تازہ تحقیق کہ دشت سوس میں جمیلہ ہاشمی نے تصوف کے موضوع کو ایسے سحر انگیز طریقے پر برتا ہے کہ مجھے ساتھ ساتھ انتظار حسین کی ماضی کی تجزیاتی تحریریں یاد آتی ہیں۔ اور وہ بھی آج کے منظر نامے میں جب پاکستانی اور افغانی افواج کی لڑائی اور روزبروز بڑھتی دشمنانگی بے ضرورتہی دکھائی دیتی ہے ، سامنے ایران کے خلاف ٹرمپ کے جارحانہ حملے اور یہودیوں کے دعوے کہ پورا علاقہ یہودیت کے تابع رہےگا۔مسلمان ممالک اپنی مملکتوں کی حفاظت میں خاموشی اور کبھی پاکستان کی طرح ہر معاہدے میں خود کو شامل کرنے پر مصّر ہوتے ہیں کہ اس زمین پرونیزویلا کے تیل کے ذخائر کے بارے میں بات کرنے سے گریزاں رہتے ہیں۔
ہم ہر روز ادب پہ بات کرتے ہوئے پلٹ کر سیاسی دشمنوں کے درمیان پھنس جاتے ہیں۔ کبھی پانی کا مسئلہ ، کبھی بجلی کا معاملہ ،کبھی لسانی اختلافات اور آج کی طرح معدنیات کی تقسیم اور ان کو قوت سے پکڑنے کی طاقت کسی اور ملک میں ہم سے زیادہ ہے۔ قیام پاکستان کو80سال ہونے کو آئے ہماری معدنیات، زمین کے نیچے چھپے ہوئے ذخیروں کی طرح حرف ممنوع سمجھتے ہوئےہم نے اونچی آواز میں یہ کہاہی نہیں کہ قدرت نے ہمیں کن ذخائر سے آشنا کرنے کےلئے زیرزمین اس لئے چھپائے رکھا کہ دنیا کے وسائل کم ہوجائینگے۔توہم ہر طرح کی معدنیات کو معاشی استحکام کے لئے استعمال کیوں نہیں کرتے۔ میں بھی آج کی نسل کی طرح غلط فہمی میں مبتلا ہوں کہ ساری سوغاتوں کی تہوں میں ہماری علمیت پوشیدہ ہے۔ ہم دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے اس ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہیں جو ایران ہو کہ شام،ان ممالک کو بنیادوں سے ہلانا چاہتا ہے۔ ذرا سوچیں ، شہنشاہ ایران کی50سالہ آمریت کو نظر انداز کرکے، اسکے بیٹے کے ہاتھ میں ایرانی مملکت پکڑانا چاہتے ہیں کہ مسلم دنیاکی جیب میں بس کھوٹے سکے ہی رہیں۔
پاکستان میں خود ایسی قوتیں آشکار ہورہی ہیں جو25سال پہلے ہماری تاریخ میں بوری میں بند لاشیں دکھاکر سوگئی تھیں کہ پھر جاگیںگےتو اپنا حصہ مانگیں گے اس جماعت کی اپنی بنیاد محض دہشت گردی رہی ہے۔ کراچی کو الگ صوبہ کہنے کے لئے ضروری نہیں کہ اسکو لسانی بنیاد فراہم کی جائے۔ پاکستان کے ہر علاقے میں آبادی بے انتہا بڑھ چکی ہے۔ مقابلہ کس سے کریں بنگلہ دیش سے؟ مگر یہ سیاسی رہنما ، کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ تے رہتے ہیں۔ یہ سچ اور حقیقت ہے کہ پورے ملک میں نئے صوبوں اور آبادی کو ایک سطح پرہموار رکھنے کیلئے نئے صوبوں کی ضرورت آج سے نہیں، پہلے دن سے ہے مگر پنجاب نے خود کو کل کائنات سمجھ کر جب سے صوبوں کی تقسیم کے تصور کو ردکیا ہے۔ یہ تکلیف دہ صورت ہے۔ انڈیا نے پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم پہلے دن سے کردیاتھا، اس طرح پاکستان کو بار بار صوبوںکے مسئلے کو جھگڑوں میں اٹکا کر چھوڑ دینےسے صرف جاگیرداروں کو فائدہ ہوتا ہے۔ بہت چھوٹے صوبے ہونگے تو اختیار کی تقسیم بھی بہتر ہوگی صرف کراچی کو الگ صوبہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کی نعمتوں کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے سے ہی مستقبل کی تعمیر ممکن ہے۔