امریکا کی یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے سائنسدانوں نے دنیا کا پہلا ایسا مصنوعی خلیہ (Synthetic Cell) تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو مکمل حیاتیاتی زندگی کے بنیادی مراحل، یعنی خوراک حاصل کرنا، بڑھنا، اپنے جینیاتی مواد کی نقل بنانا اور تقسیم ہو کر نیا خلیہ بنانا انجام دے سکتا ہے۔
یکم جولائی 2026ء کو سامنے آنے والی اس تحقیق کو حیاتیات (Biology) کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل سائنسدان صرف پہلے سے موجود بیکٹیریا میں تبدیلیاں کرتے تھے، جبکہ یہ خلیہ مکمل طور پر غیر جاندار کیمیائی اجزا سے تیار کیا گیا ہے۔
تحقیقی ٹیم جس کی سربراہی مصنوعی حیاتیات کی ماہر کیٹ ایڈمالا نے کی، انہوں نے پانی سے بھرے ننھے غباروں نما ڈھانچوں (Liposomes) میں مصنوعی ڈی این اے، خامرے (Enzymes) اور دیگر ضروری حیاتیاتی مالیکیولز شامل کیے۔ اس کے نتیجے میں ایسا نظام تشکیل دیا گیا جو غذائی اجزا جذب کر سکتا ہے، بڑھ سکتا ہے، اپنا جینیاتی مواد نقل کر سکتا ہے اور تقسیم ہو کر نئے خلیے پیدا کر سکتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ مصنوعی خلیہ قدرتی جانداروں کی پیچیدگی کا حامل نہیں، تاہم یہ زندگی کے بنیادی افعال کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اس تحقیق کو منفرد بناتا ہے۔
کیٹ ایڈمالا کا کہنا ہے کہ اس کامیابی سے ثابت ہوتا ہے کہ زندگی کے بنیادی عمل کسی پُراسرار یا غیر مرئی قوت کے محتاج نہیں، بلکہ انہیں کیمیائی سطح پر بھی انجام دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ مصنوعی خلیہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور فی الحال اس کی صلاحیت صرف خوراک حاصل کرنے اور کبھی کبھار نیا خلیہ بنانے تک محدود ہے، تاہم اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ سائنسدان اس کے ہر جز سے مکمل طور پر واقف ہیں، جس کی بدولت مستقبل میں اسے مخصوص مقاصد کے لیے پروگرام کیا جا سکے گا۔
ماہرین کو اُمید ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں طب اور ماحولیات کے شعبوں میں انقلابی پیش رفت کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کی مدد سے مخصوص بیماریوں کے علاج کے لیے ادویات کو درست مقام تک پہنچانے والے خلیے، یا فضا سے کاربن جذب کرنے والے خصوصی حیاتیاتی نظام تیار کیے جا سکیں گے۔