• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناسا کا 25 کروڑ ڈالرز کی خلائی دوربین کو بچانے کیلئے تاریخی روبوٹک مشن

فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا
فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا

ناسا اپنے قیمتی نیل گھیریل سوئفٹ آبزرویٹری(Neil Gehrels Swift Observatory) کو زمین کے ماحول میں جل کر تباہ ہونے سے بچانے کے لیے ایک منفرد نوعیت کے روبوٹک مشن پر کام کر رہا ہے۔

2004ء میں لانچ ہونے والی یہ خلائی دوربین گزشتہ دو دہائیوں سے کائنات میں ہونے والے طاقتور دھماکوں، جیسے گاما رے برسٹس اور سپرنووا کا مشاہدہ کر رہی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں سورج کی بڑھتی ہوئی سرگرمی کے باعث دوربین کی مدار (Orbit) تیزی سے کم ہونے لگی۔ اگر اس کی بلندی نہ بڑھائی گئی تو اس کے ء2026 کے دوران زمین کے ماحول میں داخل ہو کر جلنے کا خدشہ ہے۔

ناسا کی سائنس مشنز کی سربراہ نکی فوکس نے کہا کہ اگر سوئفٹ دوربین ضائع ہو گئی تو ناسا ایک انتہائی اہم سائنسی صلاحیت سے محروم ہو جائے گا، جبکہ محدود بجٹ کے باعث اس جیسی نئی دوربین بنانا فی الحال ممکن نہیں۔

اسی مقصد کے لیے ناسا نے امریکی کمپنی کو تقریباً 3 کروڑ ڈالر کا معاہدہ دیا ہے، کمپنی نے لنک نامی ایک چھوٹا روبوٹک خلائی جہاز تیار کیا ہے، جو تین روبوٹک بازوؤں کی مدد سے سوئفٹ دوربین کو پکڑے گا اور اسے تقریباً 360 کلومیٹر کی موجودہ بلندی سے بڑھا کر تقریباً 600 کلومیٹر کے محفوظ مدار میں منتقل کرنے کی کوشش کرے گا۔ کامیابی کی صورت میں دوربین کی عملی زندگی کم از کم ایک سال اور ممکنہ طور پر اس سے بھی زیادہ بڑھ سکتی ہے۔

یہ روبوٹک خلائی جہاز مارشل آئی لینڈز کے قریب ایک طیارے سے چھوڑے جانے والے راکٹ کے ذریعے مدار میں بھیجا جا رہا ہے، مدار میں پہنچنے کے بعد اسے سوئفٹ دوربین تک پہنچنے میں تقریباً ایک ماہ لگے گا، جبکہ اس کے بعد مدار بلند کرنے کا عمل کئی ہفتوں سے چند ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید