• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ سیاسی بصیرت اور اجتہادی فکر کے حامل تھے اور ان کے نظامِ فکر میں سیاست و حکمرانی کے حوالے سے ایک واضح نقطۂ نظر ملتا ہے۔ اقبال کے سیاسی تدّبر اور شعور کی روشن تر مثال ان کا خطبہ الٰہ آباد ہے جس کی عملی تفسیر قیامِ پاکستان کی صورت میں آج دنیا کے نقشے پر اپنی بھرپور تابانیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔

ایک ایسی مملکت جو نظریاتی اساس رکھتی ہے اور جس کے نتیجے میں ایک ایسی فلاحی ریاست کا قیام عمل میں لانا مقصود تھا جو اسلامی اصولوں پر استوار ہو اور اخوت، حریت، مساوات اور عدل اس کے اساسی ارکان ہوں۔ ایک ایسی مملکت جہاں سرمایے کی متوازی تقسیم ہو اور سرمایہ پرستی کے بجاے تقسیم سرمایہ بذریعہ خیرات و زکوٰۃ کی جائے۔

ظاہر ہے کہ ایسی مملکتیں جو روحانی بنیاد رکھتی ہیں، وہ پوری دنیا میں ’’محبت فاتحِ عالم‘‘ کے مصداق امن، انسانیت اور ترقی و خوشحالی کا پیغام دیتی ہیں، نیز طاغوتی قوتیں جب سر اٹھاتی ہیں، تو انھیں زمین بوس کرنے کے لیے اپنے دفاعی و عسکری نظام کو ہمہ وقت مضبوط رکھتی ہیں۔ اس کے برعکس وہ اقوام جو محض سرمایے کو مرکزی اہمیت دیتی ہیں، اس کے حصول کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتی ہیں اور ایسا کرتے ہوئے انسانیت سوزی اور امن کُشی سے گریز نہیں کرتیں۔

وہ جبرواستبداد اور سامراجیت کی بنیاد رکھتی ہیں۔ علامہ اقبال اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام مغرب کا پروردہ ہے اور دوسری قوموں پر غاصبانہ قبضے کے اصول پر قائم ہے جس کے لیے وہ اپنے ہتھیاروں، وسائل اور سرمایے میں اس تیزی سے اضافہ کرتے ہیں کہ ان کے مقابلے میں کم وسائل کی حامل قومیں مجبور و محکوم بنتی چلی جائیں اور یوں سرمایہ گویا افراد اور اقوام کو اپنا مطیع بناتا چلا جاتا ہے۔

ان کا منتہائے مقصود ہی روپیہ پیسہ ٹھہرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فطری طور پر معاشرے میں زرپرستی، مادہ پسندی اور انسانیت کشی وجود میں آتی ہے۔ یہ مادیات ہی کا غلبہ ہے جو اسلامی و غیر اسلامی دنیا میں فسادات کے لامتناہی سلسلے شروع کر دیتا ہے۔

فکرِ اقبال کے تناظر میں دیکھیں تو علامہ نے جہاں مغرب کے دیگر سیاسی نظاموں کو دیکھا، پرکھا اور ان کے معائب و محاسن کا تجزیہ و محاکمہ کیا، وہیں سرمایہ دارانہ نظام بھی ان کے پیش نظر رہا لیکن دیگر سیاسی نظریات کے برخلاف یہ واحد مغربی سیاسی نظام ہے جس کے حق میں اقبال نے کسی بھی جہت سے ستائشی اشعار رقم نہ کیے۔

جیسا کہ وہ اشتراکی نظام میں بندۂ مزدور کی بحالی کے نعرے کو پسند کرتے ہیں، یا فاشزم کے انقلابی رنگ کو سراہتے ہیں، یا پھر جمہوری نظام میں عوامی شمولیت کونظرِ پسندیدگی سے دیکھتے ہیں ظاہر ہے کہ انھیں ان نظاموں کے دیگر تمام ایسے پہلوؤں سے اختلاف تھا، جس کا حتمی نتیجہ انسانیت سوزی کے علاوہ کچھ نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کی انھوں نے مطلق ستائش نہ کی بلکہ اس کے برعکس کلامِ اقبال میں آغاز سے انجام تک اس کی مذمت کھلے الفاظ میں ملتی ہے۔

علامہ کے مطابق سرمایہ داری کی قوت جب حدِّاعتدال سے تجاوز کر جائے تو دنیا کے لیے ایک قسم کی لعنت ہے۔ چنانچہ ان کے کلام میں سرمایہ دارانہ نظام کی تکذیب و مذمت متعدد حوالوں سے کی گئی ہے، جن میں سرِفہرست اس نظام کی اخلاقی گراوٹ، لادینیت اور مادہ پسندی ہے۔

یہ نظام جس طرح ذخیرہ اندوزی کو خدائی درجہ دیتا ہے اور روپے پیسے کے حصول، جمع آوری اور زراندازی پر توجہ دیتے ہوئے کثرت سے مالیاتی اداروں کا قیام عمل میں لاتا ہے، اقبال اسے نظر پسندیدگی سے نہیں دیکھتے۔

اقبال اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام انسانیت سوز ہے۔ بالخصوص عام طبقے کو یہ کم تر گردانتا ہے۔ اس کے تحت انسان کے جملہ اخلاق پر زرپرستی غالب رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مزدور کی سادگی اور مجبوری کا سرمایہ دارانہ حیلوں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔مزدور کی محنت کا معاوضہ حقِ محنت شمار کرنے کے بجاے اسے یوں دیا جاتا ہے جیسے غریبوں کو زکوٰۃ دی جاتی ہے۔

سرمایہ دار اس کے وسائل پر یوں قابض آجاتاہے کہ آقاؤں کے لیے ریشم بُننے والے ہاتھ پیوند لگے کپڑے پہنتے ہیں اور ٹاٹ ہی ان کا بچھونا بنتا ہے۔ نتیجتاً جس کے زورِ بازو سے مال داروں کی انگوٹھیوں کے نگینے جڑنے کے لیے کانیں کھود کر لعل نکالے جاتے ہیں، اسی محنت کش کی کھیتیاں سرمایہ دار کے ظلم اور سفاکی سے ویران ہو جاتی ہیں۔ اقبال نے اپنے اردو کلام میں ’’خضرِ راہ‘‘ اور فارسی میں ’’پیامِ مشرق‘‘ کی نظم ’’نوائے مزدور‘‘ میں اس پہلو کی عکاسی کی ہے۔ اوّلاًاردو ابیات دیکھیے:

بندۂ مزدور کو جا کر مرا پیغام دے

خضر کا پیغام کیا، ہے یہ پیامِ کائنات

اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دارِ حیلہ گر

شاخِ آہُو پر رہی صدیوں تلک تیری برات

دستِ دولت آفریں کو مزد یوں ملتی رہی

اہلِ ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکات

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار

انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات!

ثانیاً فارسی بند ملاحظہ ہو:

خواجہ از خونِ رگِ مزدور سازد لعلِ ناب

از جفائے دہخدایاں کشتِ دہقاناں خراب

انقلاب، انقلاب، اے انقلاب!

اقبال، جبرواستبداد اور عدمِ مساوات کو معاشرے کی فلاح و بقا میں حائل گردانتے ہیں۔ وہ ہر جگہ طبقاتی معاشرت کی نفی کرتے ہیں اقبال اس حوالے سے بھی رہ نمائی کرتے ہیں کہ اس کے عقب میں مشیت ِالٰہی درحقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کوئی کسی کا محتاج نہ ہو، کوئی دوسرے کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرے اور یوں اس عمل سے طبقاتی تفاوت جس حد تک ہو سکے کم ہوتی چلی جائے۔ تاکہ معاشرہ اور قومیں فسادِ آدمیت سے بچ سکیں اور ہر فرد اپنے عمل سے اپنی تقدیر بدل سکے۔ اقبال لکھتے ہیں:

تمیز بندہ و آقا فسادِ آدمیّت ہے

حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

…٭…٭…٭…

کس نگردد در جہاں محتاجِ کس

نکتۂ شرعِ مبیں این است و بس

(کوئی کسی دوسرے کا محتاج نہ ہو، دینِ مبین کامرکزی اصول تو یہی ہے)

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

سرّ آدم ہے، ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی

اقبال کے نزدیک کسی ضعیف و کمزور انسان سے روٹی کا ٹکڑا چھین لینا گویا اس کے جسم سے روح نکال لینے کے برابر ہے اور افسوس کہ یہی نظامِ سرمایہ داری کا مرکزی اصول ہے کہ انسانیت سوز اقدامات سے مخلوقِ خدا کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا جائے۔

اقبال اس امر سے کماحقہ آگاہ تھے کہ سرمایہ دارانہ نظام کاتمدنی پہلو انسانی معاشرت کو امن، رواداری اور حفظ و اکرامِ انسانیت سے عاری کر دیتا ہے اوراس کا نتیجہ معاشرے میں اخلاقی بے راہ روی، ارتکابِ فواحش، ماردھاڑ اور لوٹ مار پر منتج ہوتا ہے۔

علامہ نے سرمایہ د ارانہ نظام کے اخلاقی و تمدنی مضمرات سے آشنا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے سامراجی پہلو بھی جابجا اپنے کلام میں بے نقاب کیے ہیں۔ چونکہ یہ نظام انسانیت کش ہے، لہٰذا جبرواستحصال اس کا اصولِ حرکت ہے۔ اس کا چہرہ روشن اور باطن تاریک تر ہے۔

یہ سماج میں نظامِ جبریت کی جڑیں اس قدر مستحکم کر دیتا ہے کہ اشیائے خوردونوش، مال و متاع، فاضل پیداواری علاقے اور خطے اس کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور ان وسائل زیست سے محکوم طبقے کو محروم ہی رکھا جاتا ہے۔

اقبال اس نظام کے سامراجی پہلو کی بھرپور مذمت کرتے ہیں جو ’’ھل من مزید‘‘ کے اصول پر استوار ہے اور بظاہر چھوٹی مگر غیور قوموں سے جینے کا حق چھین لینا جس کا طرۂ امتیاز ہے۔ وہ ترقی یافتہ اقوامِ مغرب کی نئی سے نئی تجارتی منڈیوں کی تلاش اور باہمی پنجہ آزمائی کو بھی ہدفِ تنقید بناتے ہیں۔

اقبال دعوت فکر دیتے ہیں کہ سامراجیت سرتا سر چنگیزیت ہے اور بغور دیکھیں تو سرمایہ داری اور سامراجیت لازم و ملزوم ہیں۔ آج اگر تاریخِ انسانی پر نظر دوڑائیں تو اس میں کچھ شک معلوم نہیں ہوتا۔ عصرِ حاضر کے تناظر میں اقبال کے شعر دیکھیے کیسے بصیرت افروز ہیں:

وہ حکمت ناز تھا جس پر خردمندانِ مغرب کو

ہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغِ کارزاری ہے

…٭…٭…٭…

تہذیب کا کمال شرافت کا ہے زوال

ہر گُرگ کو ہے برّۂ معصوم کی تلاش

…٭…٭…٭…

ابھی تک آدمی صیدِ زبونِ شہر یاری ہے

قیامت ہے کہ انساں، نوعِ انساں کا شکاری ہے

حقیقت تو یہ ہے کہ اقبال کی سیاسی بصیرت نے اس ناکارہ نظام کی تمام تر قباحتوں کا ادراک نوجوانی ہی میں کر لیا تھا، جب وہ 1905ء میں تحصیل علم کے لیے عازمِ سفرِ یورپ ہوئے اور جس زمانے کے بارے میں وہ کہتے تھے کہ :’’یورپ کی آب و ہوا نے مجھے مسلمان کر دیا۔ ‘‘اور یہ سرمایہ دارانہ نظام پر ان کی آخری عمر تک رائے رہی کہ یہ نظام مسائل کی جڑ ہے۔

آج عصری عالمی منظرنامے پر نظر دوڑائی جائے تو علاّمہ کی اجتہادی بصیرت، مدبّرانہ صلاحیت اور فکروشعور کی پختگی کابخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عصرِ حاضر میں فکرِ اقبال سے استفادے اور اس کے اطلاق کی اہمیت و ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے کہ عہدِ موجود اخلاق سوزی ، فرقہ پسندی اور انسانیت کشی میں کہیں آگے نکل چکا ہے۔

قرطاسِ ادب سے مزید