٭اقبال کا کشمیر سے لگاؤ
اقبال اپنی شاعری میں کئی مقامات پر کشمیر کا ذکر بہت محبت سے اور والہانہ انداز سے کرتے ہیں اور اسے ’’ایرانِ صغیر ‘‘، ’’جنت ِ کشمیر ‘‘ اور ’’خطۂ گل ‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی اقبال کشمیر اور کشمیریوں کا ذکر آتے ہی اداس بھی ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ جنت نظیر خطہ ڈوگرا حکومت کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور پورا برِ عظیم پاک و ہند بھی اقبال کی زندگی میں یعنی ۱۸۷۷ء سے لے کر ۱۹۳۸ء تک انگریزوں کا غلام رہا۔
اقبال کی کشمیر سے وابستگی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ان کے آبا و اجداد کا تعلق کشمیر ی برہمنوں کی ایک ذات سَپرُو سے تھا جو چند صدیوں قبل مسلمان ہوئے تھے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ اقبال ذات پات اور رنگ و نسل کے جھگڑوں سے بہت بالا تھے اور ان کے دل میں مسلمانوں کا درد تھا۔
وہ عالم ِ اسلام کے تمام علاقوں اور وہاں کے لوگوں کو آزاد اور سربلند دیکھنا چاہتے تھے اور کشمیریوں سے بالخصوص کشمیری مسلمانوں سے ان کی دلی ہمدردی کی وجہ کشمیریوں کی مظلومیت اور مفلسی بھی تھی۔
معروف اقبال شناس عبدالواحد معینی کے مطابق کشمیر سے اقبال کی دل چسپی ان کے زمانہ ٔ طالب علمی ہی میں شروع ہوگئی تھی ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا گیا اور ذہنی پختگی کے بعد اقبال خلوصِ دل سے اس خیال کے حامی ہوگئے کہ کشمیر اور اس کے باشندے صدیوں سے ظلم اور بدسلوکی کا شکار ہیں اور ان کے دکھوں کا مداوا ہونا چاہیے۔
چنانچہ جب فروری ۱۸۹۶ء میں لاہور کی کشمیری برادری نے ایک فلاحی تنظیم انجمنِ کشمیری مسلمانان کے نام سے بنائی تو لاہور میں مقیم ایک نوجوان شاعر اور طالب علم کی حیثیت سے اقبال اس میں شامل ہوئے۔ اس تنظیم کے اجلاسوں میں اقبال اپنی شاعری بھی پیش کرتے تھے جس میں کشمیر کا بھی ذکر ہوتا تھا۔
٭اقبال کی شاعری میں کشمیر اور کشمیری
یہ تنظیم کچھ عرصے کے بعد غیر فعال ہوگئی تھی لیکن اخبار کشمیر ی گزٹ کی جانب سے زور دینے پر یہ دوبارہ فعال ہوئی۔ اقبال نے اس بار بھی اس انجمن کے اجلاسوں میں کچھ قطعات اور رباعیات پیش کیں اور ان میں کچھ کشمیری گزٹ میں شائع بھی ہوئیں۔ ان میں اقبال کے یہ اشعار بھی شامل تھے:
پنجۂ ظلم و جہالت نے برا حال کیا
بن کے مقراض ہمیں بے پر و بے بال کیا
توڑ اس دستِ جفا کیش کو یارب جس نے
روح ِ آزادی ِ کشمیر کو پامال کیا
لیکن یہ اشعار اقبال کے متروکہ کلام کا حصہ ہیں اوران کے کسی مجموعے میں شامل نہیں ہیں ۔ البتہ انھیں ڈاکٹر صابر کلوروی نے اپنی مرتبہ کلیات ِ باقیات ِ اقبال میں شامل کیا ہے( غالب کی طرح اقبال نے بھی اپنے کلام کا خاصا بڑا حصہ معیار سے کم جان کر خود ہی متروک و منسوخ قرار دے دیا تھا لیکن ماہرین نے انھیں تلاش کرکے شائع کردیا)،
ڈاکٹر صابر آفاقی نے اپنی کتاب اقبال اور کشمیر میں لکھا ہے کہ اقبال نے ۱۹۲۱ء میں کشمیر کا دورہ کیا اور اس کے خوب صورت قدرتی مناظر سے بہت متاثر ہوئے۔ اس دورے میں ایک چھوٹی کشتی میں سری نگر کی ڈل جھیل میں سیر کرتے ہوئے اقبال نے فارسی میں چند اشعار کہے جن میں ڈوبتے سورج کی شعاعوں کے جھیل کے پانی میں منعکس ہونے کا منظر بیان کیا گیا تھا۔
اپنی فارسی شاعری کے مجموعے پیام ِ مشرق میں اقبال پہلی بارکھل کرکشمیر پر اظہارِ خیال کرتے نظر آتے ہیں۔ پیام ِ مشرق پہلی بار ۱۹۲۳ء میں شائع ہوئی تھی اور اس میں ایک نظم شامل ہے جو اقبال نے اپنے دورۂ کشمیر میں سری نگر کے تاریخی نشاط باغ میں کہی تھی۔ اس نظم کا عنوان ہے ساقی نامہ، اس میں اقبال نے پہلے کشمیر کے قدرتی حسن کو سراہا ہے۔
پھر کشمیریوں کے لیے ایک پیغام بھی دیا ہے ۔ان فارسی اشعار میں اقبال کشمیریوں سے کہہ رہے ہیں کہ تم خودی سے نا آشنا ہو۔ جو ریشم تم بُنتے ہو اس کا لباس امیر لوگ پہنتے ہیں مگر تمھارے اپنے جسم پر جو لباس ہے وہ تا تار ہے۔تمھارے سینے میں دلِ بے قرار نہیں ہے۔
پھر اقبال اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ کشمیریوں کے دل میں انقلاب کا شرارہ بھڑکا دے۔تعجب خیز بات یہ ہے کہ جولائی ۱۹۲۴ء میں سری نگر کے قریب واقع ریشم سازی کے کارخانے کے مزدوروں نے انتظامیہ کے ناروا سلوک کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔ پولیس نے مزدور رہنماؤں کو گرفتار کرلیا اور مزوروں کی ڈوگرا فوج سے جھڑپ ہوئی۔
یہ اس بے چینی کی ایک ہلکی سی جھلک تھی جو کشمیریوں کے دلوں میں دبی ہوئی تھی اورجسے اقبال نے اپنے دورے میں محسوس کیا تھا۔ اس واقعے کی گونج برعظیم پاک و ہند میں سنائی دی اور آل انڈیا مسلم کشمیری کانفرنس نے لاہور اور امرتسر میں جلسے کیے۔ یہ تھا اقبال کا وجدان! پیام ِ مشرق میں ایک اور مختصر نظم بھی شامل ہے جس کا عنوان ہے کشمیر۔
پیام مشرق ہی میں ایک اور نظم ہے جس کا عنوان ہے غنی کشمیری۔غنی کشمیری کا پورا نام محمد طاہر غنی کشمیری تھا۔ وہ مغلیہ دور کا ایک بڑا فارسی شاعر تھا اور اس کا تعلق سری نگر سے تھا۔
اس کی شاعرانہ شہرت کا یہ عالم تھا کہ اورنگ زیب عالم گیر نے کشمیر کے گورنر کے ذریعے غنی کواپنے دربار میں مدعو کیا اور اشعار سننے کی فرمائش کی تاکہ اس کے خیالات اور اسلوب سے واقف ہوسکے۔
غنی کشمیری کے اعلیٰ کردار اور فارسی شاعری سے اقبال بہت متاثر تھے ۔ پیام ِ مشرق کی اس نظم میں اقبال نے غنی کشمیری کو جنت نظیر کشمیر کا چہکتا ہوا بلبل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بظاہر درویش لیکن سلطنتِ معنی کا بادشاہ تھا۔ پھر اقبال نے یہ دل چسپ بات بھی نظم میں پیش کی ہے کہ غنی کشمیری کی عادت تھی کہ جب گھر میں ہوتا تو گھر کادروازہ بند رکھتا لیکن جب گھر سے باہر جاتا تو دروازہ کھلا چھوڑدیتا۔
کسی نے تعجب کیا کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو تو غنی نے جواب دیا کہ اس گھر میں میرے سوا کوئی مال و متاع نہیں ہے اور جب غنی گھر میں ہوتا ہے اس کے گھر میں ایک بیش قیمت اثاثہ ہوتا ہے لیکن جب وہ باہر جاتا ہے تو اس کے گھر سے زیادہ تہی و بے حیثیت گھر اور کوئی نہیں ہوتا(لہٰذا دروازہ بند کرنے کی کیا ضرورت ہے)۔
اقبال کی فارسی شاعری کا شاہ کار مجموعہ جاوید نامہ ۱۹۳۲ء میں منظرِ عام پر آیا۔دراصل جاوید نامہ اقبال کا ایک خیالی آسمانی سفر ہے جس میں وہ اپنے مرشد مولاناروم کے ہمراہ آسمان کی تخیلی سیر پر روانہ ہوتے ہیں اور کئی مسلم اور غیر مسلم مفکرین اور معروف شخصیات سے خیالی ملاقات اور خیالی مکالمے کرتے ہیں۔یہ دراصل اقبال نے اپنے فلسفیانہ افکار کے اظہار کے لیے ایک شاعرانہ طریقہ یا وسیلہ چنا تھا اور بعض فلسفیوں اور شاعروں مثلاً نطشے کے افکار پر شاعری ہی میں تبصرہ کیا تھا۔
اس تخیلی سفر میں ان کی ملاقات جن شخصیات سے ہوتی ہے ان میں مثلاً غالب، قرۃ العین طاہرہ، حلّاج، ابلیس وغیرہ شامل ہیں۔ جاوید نامہ کے ایک حصے میں اقبال نے سید علی ہمدانی اور غنی کشمیری کے درمیان ایک خیالی مکالمہ پیش کیا ہے جو تقریباً ایک سو اشعار پر مشتمل ہے۔ غنی کشمیری کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ حضرت سید علی ہمدانی آٹھویں صدی ہجری(چودھویں صدی عیسوی) کے ایک صوفی بزرگ، عالم، شاعر اور مبلغ تھے۔
کشمیر میں انھیں تعظیماً شاہِ ہمدان کہا جاتا ہے۔ اس تخیلی مکالمے کا لب لباب یہ ہے کہ اقبال نے کشمیریوں کی غلامی پر افسوس کیا ہے اور بتایا ہے کہ قومیں اپنا وجود کیسے برقرار رکھتی ہیں اور کیسے ترقی کرتی ہیں۔ اس میں اقبال کہتے ہیں کہ کشمیریوں کو چاہیے کہ فکر اور عمل میں پختہ کار ہوجائیں اور جد وجہد اور قربانی کے لیے تیار ہوجائیں۔ مشکل مرحلوں سے گزرنا ہی زندگی ہے۔ پھر امید ظاہر کی کہ کشمیری بیدار ہوں گے کیونکہ ان کا دل ابھی زندہ ہے۔
کشمیر سے اقبال کا قلبی تعلق ان کے آخر ی مجموعۂ کلام ارمغانِ حجاز میں بھی بہت نمایاں ہے جو ۱۹۳۸ء میں شائع ہوا۔ اس میں اقبال نے ایک فرضی کردار ضیغم لالوبی کشمیری کے ذریعے کشمیر کے بارے میں اپنے افکار پیش کیے ہیں۔ لولاب دراصل ایک علاقے کا نام ہے جو سری نگر اور بارہ مولا کے درمیان واقع ہے ۔ یہاں اس سے مراد کشمیر ہے۔ گویا اقبال نے یہاں جُز (لولاب) کہا ہے لیکن مرادکُل (کشمیر) ہے۔
ارمغان ِ حجاز میں اُنّیس (۱۹) نظمیں ہیں جو ’’ملا زادہ ضیغم لولابی کشمیری کا بیاض ‘‘ کے عنوان کے تحت ہیں۔ ان میں اقبال کشمیریوں کو مخاطب کرتے ہیں اور انھیں آزادی کے لیے جد وجہد پر ابھارتے ہیں۔ مثلاً یہ اشعار دیکھیے، ان میں اقبال منبر و محراب سے درس دینے والے کشمیر کے صوفیوں اور علما کو بتا رہے ہیں کہ کشمیر کی تحریک ِ آزادی کو کامیاب بنانے کے لیے کون سے اوصاف درکار ہیں:
پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب
مرغانِ سحر تیری فضاؤں میں ہیں بے تاب
اے وادیِ لولاب !
گر صاحب ِ ہنگامہ نہ ہو منبر و محراب
دِیں بندۂ مومن کے لیے موت ہے یا خواب
اے وادیِ لولاب!
ہیں ساز پہ موقوف نوا ہائے جگر سوز
ڈھیلے ہوں اگر تار تو بے کار ہے مضراب
اے وادیِ لولاب !
مُلّاکی نظر نورِ فراست سے ہے خالی
بے سوز ہے مے خانۂ صوفی کی مئے ناب
اے وادیِ لولاب !
بیدار ہوں دل جس کی فغانِ سحری سے
اس قوم میں مدت سے وہ درویش ہے نایاب
اے وادی ِ لولاب !
اسی عنوان کے تحت اقبال کے دیگر اشعار میں سے کچھ یہ ہیں:
آج وہ کشمیر ہے محکو م و مجبور و فقیر
کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر
…٭…٭…٭…
گرم ہوجاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو
تھرتھراتا ہے جہانِ چار سو ے و رنگ و بو
…٭…٭…٭…
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم ِ شبّیر ی
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری
…٭…٭…٭…
جس خاک کے ضمیر میں ہے آتشِ چنار
ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند
…٭…٭…٭…
ضیغم زادہ کشمیری کے نام سے اقبال نے جو اشعار پیش کیے ہیں ان میں یہ بھی شامل ہیں:
موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام
مکر و فنِّ خواجگی کاش سمجھتا غلام
شرعِ ملوکانہ میں جدتِ احکام دیکھ
صُور کا غوغا حلال، حشر کی لذت حرام
اے کہ غلامی سے ہے روح تری مضمحل
سینۂ بے سوز میں ڈھونڈ خودی کا مقام
یہاں اقبال کہتے ہیں کہ موت دو طرح کی ہوتی ہے ۔ ایک جسمانی موت اور دوسری غلامی ۔ غلامی وہ موت ہے جس میں انسان تو زندہ ہوتا ہے لیکن روح مضمحل ہوجاتی ہے۔ کیونکہ غلام قوم اپنے آقاؤں کے مکر اور چال بازیوں کو نہیں سمجھ سکتی۔
ایسے میں شریعت کا پرچار کرنے والے بھی حاکموں کے تابع ہوتے ہیں اور بظاہر شور وغوغا کرتے ہیں اور مطالبات پیش کرتے ہیں لیکن ان کا مقصد آزادی کا حصول نہیں ہوتا۔
ان کے نزدیک شور شرابا حلال اور مقصد کا حصول (یعنی آزادی) حرام ہے۔ کشمیریوں کی روح غلامی سے کمزور ہوچکی ہے۔ ان کے دل میں جوش اور آرزو نہیں رہی۔ انھیں چاہیے کہ خودی کو تلاش کریں، خودی ان کے دل میں موجود ہے مگر دل بظاہر جوش سے خالی ہے۔
٭آزادیِ کشمیر کے لیے اقبال کی عملی جد وجہد
کشمیر سے اقبال کے تعلق کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انھوں نے صر ف شاعری ہی کے ذریعے کشمیریوں کو آزادی کا پیغام نہیں سنایا بلکہ ان کی عملی جدو جہد میں بھی شریک رہے۔ ڈاکٹر ظفر حسین ظفر اپنی کتاب ’’کشمیر: بہتّر دنوں کی کہانی‘‘میں لکھتے ہیں کہ ۱۳؍جولائی ۱۹۳۱ء کشمیر کی تاریخ کا ناقابلِ فراموش دن ہے۔
اس دن ڈوگرا فوج نے ان نہتے کشمیریوں پر فائر کھول دیا جو سری نگر جیل کے باہر احتجاج کررہے تھے۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں بائیس کشمیری شہید ہوگئے۔ اس شدید عوامی ردِ عمل کے بعد شری نگر شہر فوج کے حوالے کردیا گیا تھا۔
اس پر بہت بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوگیا اورمہاراجا کشمیر ہری سنگھ کے خلاف تحریک چل پڑی۔ اس صورت حال میں کوئی راستہ نکالنے کے لیے آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم کی گئی اور جو ممتاز شخصیات اس میں شامل ہوئیں ان میں علامہ اقبال بھی تھے۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ۱۴ اور ۱۵؍ اگست ۱۹۳۱ء کوپنجاب میں احتجاجی جلوس نکالے جائیں۔لاہور کی متعدد تنظیموں نے ایک مشترکہ جلسہ کیا جس کی صدار ت علامہ اقبال نے کی۔ اپنے خطاب میں اقبال نے کہا کہ کشمیر کی صورت حال ان مظالم کا نتیجہ ہے جو کشمیریوں پر روا رکھے گئے ہیں اور وہ صرف اپنے جائز حقوق مانگ رہے ہیں۔
مہاراجا کشمیر نے کشمیر اسمبلی میں دو مسلمان ارکان کو اپنی صوابدید پر شامل کرلیا تھا۔ آل انڈیا مسلم کانفرنس کا جو اجلاس ۲۲؍ مارچ ۱۹۳۲ء کو ہوا اس میں اقبال نے صدارت کرتے ہوئے مہاراجا کے اس فیصلے پر سخت تنقید کی۔انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ مسلمانوں سے مشاورت کے بغیر کیا گیا ہے اور یہ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے بھی ٹھیک نہیں ہے۔
معروف ماہرِ اقبالیات ڈاکٹرحفیظ ملک نے اپنی کتاب Iqbal in Politics میں لکھا ہے کہ کشمیر کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے اقبال نے ۷؍ جون ۱۹۳۳ء کو ایک بیان جاری کیا جس میں انھوں نے کشمیری رہنماؤں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کو ہدایت کی کہ متحد رہیں اورکسی ایک سیاسی تنظیم سے وابستہ رہیں۔
مختصراً یہ کہ علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے تو کشمیریوں کو پیغام ِ آزادی دیا ہی تھا لیکن وہ کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی میں عملی طور پر بھی شریک رہے۔