• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایلسا قاضی جنہیں عام طور پر "مدر ایلسا قاضی" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھیں جنہیں محض کسی ایک زاویے سے سمجھنا ممکن نہیں۔ وہ اپنے فکری، ادبی اور تخلیقی تنوع کے باعث ایک کثیر الجہتی وجود کی حامل تھیں۔ وہ بیک وقت شاعرہ، مصورہ، موسیقار، ناول نگار، مترجم، ڈرامہ نگار، افسانہ نویس اور تاریخ داں تھیں۔ ان کی یہ صلاحیتیں اس عہد کی علمی و ادبی وسعت کی عکاسی کرتی ہیں جس میں وہ سرگرم رہیں۔

ایلسا قاضی، نے نہ صرف سندھی ادب کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں کردار ادا کیا بلکہ اپنی تخلیقات اور تراجم کے ذریعے مختلف تہذیبوں کے درمیان ایک مضبوط ادبی و ثقافتی پل بھی قائم کیا۔ ان کی خدمات محض ادبی نہیں بلکہ تہذیبی اور فکری بھی ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

ایلسا قاضی، 13 اکتوبر 1884 کو جرمنی کے ایک چھوٹے سے قصبے روڈل اسٹاٹ (Rudolstadt) میں پیدا ہوئیں۔ یہ وہ دور تھا جب یورپ میں فنونِ لطیفہ، خصوصاً موسیقی اور مصوری اپنے عروج پر تھی۔ان کے والد ایک ممتاز موسیقار تھے، جن کی خواہش تھی کہ ان کی بیٹی بھی موسیقی کے فن میں مہارت حاصل کرے۔

اس خاندانی پس منظر نے ایلسا قاضی کو موسیقی کے قریب ضرور رکھا، مگر ان کا فطری میلان مصوری اور تخلیقی فنون کی طرف زیادہ تھا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی توجہ کا بڑا حصہ پینٹنگ اور دیگر بصری فنون کو دیا، جبکہ موسیقی سے ان کا تعلق ایک گہرے شوق اور ذوق کی صورت میں برقرار رہا۔

ان کی زندگی کی ایک علامتی یادگار حیدرآباد میں موجود ان کا وہ پیانو ہے جو آج بھی ان کے ذوقِ موسیقی کی خاموش گواہی دیتا ہے،جو محض ایک ساز نہیں بلکہ ان کے تخلیقی سفر اور جمالیاتی وابستگی کا استعارہ ہے۔ مصوری کی طرف ان کا جھکاؤ اور موسیقی سے ان کی گہری وابستگی سے ایک ایسی شخصیت نےجنم لیاجس نے آگے چل کر ادب، تاریخ اور ثقافت کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا۔

ایلسا قاضی کی زندگی کا ایک نہایت اہم موڑ اس وقت آیا جب ان کا خاندان انیسویں صدی کے اختتام پر جرمنی سے ہجرت کر کے انگلستان منتقل ہوا۔ لندن کے علاقے ڈَلِوِچ (Dulwich) میں سکونت اختیار کی،جہاں کا ماحول علمی، تہذیبی اور فکری سرگرمیوں کے لیے نہایت سازگار سمجھا جاتا تھا۔

اسی زمانے میں علامہ آئی آئی قاضی جو سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان مفکر اور قانون کے طالب علم تھے، اپنی تعلیم کے سلسلے میں انگلستان میں مقیم تھے اورڈلوچ ہی میں رہائش پذیر تھے۔ تقدیر نے ان دونوں شخصیات کو ایک غیر متوقع انداز میں ملوایا۔ایک ایسی ملاقات جو بظاہر اتفاقی تھی مگر اپنے اثرات کے اعتبار سے تاریخی ثابت ہوئی۔

یہ واقعہ ایک ریلوے اسٹیشن سے شروع ہوتا ہے، جہاں علامہ آئی۔ آئی۔ قاضی تاخیر سے پہنچے اور چلتی ہوئی ٹرین میں بمشکل سوار ہو سکے۔ وہ جس ڈبے میں داخل ہوئے وہ تقریباً خالی تھا، سوائے ایک نوجوان خاتون کے، جو السا تھیں مشرقی روایات میں پرورش پانے والے قاضی صاحب کے لیے یہ صورتِ حال خاصی غیر مانوس تھی۔

وہ شدید جھجک کے باعث نشست لینے کے بجائے دروازے کے قریب کھڑے رہے اور بار بار معذرت کرتے رہے۔ ایلسا قاضی اس غیر معمولی طرزِ عمل پر حیران بھی ہوئیں اور محظوظ بھی۔ ان کے لیے یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس میں ایک مشرقی مرد کی شرافت، حیا اور تہذیبی وقار نمایاں تھا ۔ انہوں نے متعدد بار انہیں بیٹھنے کی پیشکش کی، مگر انکار کے ساتھ معذرت کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی غیر رسمی مگر بامعنی مکالمے نے ان کے دل میں اس شخصیت کے لیے تجسس اور احترام پیدا کیا۔

یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے ایک دیرپا تعلق کی بنیاد پڑی۔ السا نے ان سے ان کا پتہ حاصل کیا، اور یوں ایک ایسا رابطہ قائم ہوا جو وقت کے ساتھ گہرا ہوتا گیا۔ یہ تعلق محض ذاتی نہیں بلکہ فکری، تہذیبی اور روحانی ہم آہنگی پر مبنی تھا، جس نے بالآخر ایک مضبوط رشتۂ ازدواج کی صورت اختیار کی۔

1910 میں دونوں کی شادی جرمنی میں انجام پائی۔ یہ شادی صرف دو افراد کا ملاپ نہیں تھی بلکہ دو تہذیبوں،مشرق اور مغرب کا ایک حسین امتزاج بھی تھی۔

ایلسا قاضی کی علمی و ادبی شخصیت کا ایک نہایت اہم پہلو ان کی زبان دانی بالخصوص انگریزی زبان پر عبور حاصل کرنے کا سفر ہے۔ یہ امر نہایت قابلِ توجہ ہے کہ انہیں انگریزی زبان میں زیادہ مہارت نہیں تھی اور گفتگو میں بھی دشواری محسوس کرتی تھیں۔

تاہم، یہ کمزوری ان کی فکری ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکی، بلکہ ان کی ذہانت، فہم و فراست اور غیر معمولی سیکھنے کی صلاحیت نے بہت ہی قلیل مدت میں انہیں اس قابل بنا دیا کہ وہ نہ صرف انگریزی سمجھنے لگیں بلکہ اس میں اظہارِ خیال بھی کرنے لگیں۔

ایلسا قاضی کا یہ سفر اس بات کی روشن مثال ہے کہ زبان سیکھنا صرف قواعد اور الفاظ تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک فکری اور تخلیقی عمل بھی ہے۔ انہوں نے انگریزی زبان کو نہ صرف سیکھا بلکہ اسے اپنی داخلی کیفیات، جذبات اور خیالات کے اظہار کا موثر ذریعہ بنا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی انگریزی شاعری میں ایک خاص سلاست، گہرائی اور تاثیر نظر آتی ہے،جس نے انہیں عالمی ادبی منظرنامے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ایلسا قاضی کی فکری و ادبی زندگی میں 1911 ایک فیصلہ کن سال کی حیثیت رکھتا ہے، جب وہ پہلی مرتبہ سندھ آئیں اور حیدرآباد میں سکونت اختیار کی۔ یہ آمد صرف ایک جغرافیائی تبدیلی نہ تھی بلکہ ان کی تخلیقی زندگی کے ایک نئے اور بامعنی باب کا آغاز بھی تھی۔ سندھ کی تہذیبی فضا، اس کی تاریخی گہرائی اور فکری وسعت نے ان کے تخلیقی شعور کو مزید جِلا بخشی۔

حیدرآباد میں قیام کے دوران انہوں نے خود کو مکمل طور پر ادبی و فکری سرگرمیوں کے لیے وقف کر دیا۔ وہ مختلف موضوعات پر شاعری اور مضامین تحریر کرتی رہیں، جن میں جمالیات، فلسفہ، فطرت اور انسانی احساسات جیسے موضوعات نمایاں تھے۔ ان کی تحریریں اس دور کے اہم اخبارات اور رسائل میں شائع ہوئیں، ان اشاعتوں نے انہیں جلد ہی ادبی حلقوں میں ایک منفرد شناخت عطا کی۔ یہی وہ دور تھا جب ان کی تخلیقی صلاحیتیں ایک منظم ادبی صورت اختیار کرنے لگیں۔

1920 میں ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ شائع ہوا،جس کا عنوان تھاAcolian Notes of an Ever-Strung Lyre” ۔

انہوں نے محض شاعری یا مضامین تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ مختلف اصنافِ ادب میں قابلِ قدر تصانیف لکھیں، جو ان کی فکری وسعت اور تہذیبی شعور کا واضح ثبوت ہیں۔

اس دور میں ان کی ایک اہم تصنیف “Old English Garden Symphony” ایک ناول کی صورت میں سامنے آئی۔ یہ ناول انگلستان کی زندگی کو دو عالمی جنگوں سے قبل اور دورانِ جنگ کے تناظر میں پیش کرتا ہے۔ اس میں تہذیبی تبدیلیوں، انسانی جذبات اور سماجی اضطراب کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے، جو اس دور کی یورپی زندگی کی پیچیدگیوں کو اُجاگر کرتا ہے۔

ان کی ایک اور اہم تصنیف “Civilization Through the Ages” ہے، جس میں انہوں نے مختلف تہذیبوں کے ارتقاء کا جائزہ لیا ہے، خاص طور پر یورپ میں مسلمانوں کی تاریخ اور ان کے علمی و تہذیبی اثرات کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ان کی ایک نہایت اہم علمی و ادبی خدمت "Risalo of Shah Abdul Latif Bhittai " کی شاعری کا انتخاب اور ترجمہ ہے، جو سندھی ادبی بورڈ نے شائع کیا۔

یہ ترجمہ ان کی تخلیقی صلاحیت کا ایک ایسا ثبوت ہے جس نے انہیں محض ایک مصنفہ نہیں بلکہ ایک اعلیٰ درجے کی مترجمہ کے طور پر بھی تسلیم کروایا۔ ان کا ترجمہ محض لفظی نہیں،لسانی مشق بھی نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی عمل تھا، جس میں انہوں نے ایک عظیم صوفی شاعر کے فکری تجربے کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کی کوشش کی۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی کو سندھی زبان کا سب سے بڑا شاعر تسلیم کیا جاتا ہے، جن کے کلام میں نہ صرف شعری جمالیات بلکہ گہری روحانی بصیرت بھی ہے۔اس تناظر میں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ شاہ لطیف کے شعری وژن اور اس میں پوشیدہ حقیقت کو انگریزی زبان میں پیش کرنا ایک نہایت دشوار کام تھا۔ شاعری کا ترجمہ ویسے ہی مشکل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں لفظی معنی کے ساتھ ساتھ احساس، موسیقیت اور ثقافتی پس منظر بھی منتقل کرنا پڑتا ہے۔ اس مشکل کے باوجود ایلسا قاضی نے اس فریضے کو نہایت کامیابی سے انجام دیا۔

ان کا یہ کارنامہ نہ صرف ترجمہ نگاری کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ ایک باصلاحیت مترجم کس طرح ایک ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر متعارف کرا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ،ایلسا قاضی کی نظم “The Neem Tree” ان کے فطرت شناس شعور، علامتی اندازِ فکر اور مشرقی تہذیبی احساس کی ایک خوبصورت مثال سمجھی جاتی ہے۔ یہ نظم بظاہر ایک درخت’’نیم‘‘کے بارے میں ہے، لیکن اس کی تہہ میں زندگی، صبر، کڑواہٹ اور شفا جیسے گہرے انسانی اور فکری تصورات پوشیدہ ہیں۔

نیم کا درخت برصغیر کی تہذیب میں صرف ایک نباتاتی وجود نہیں بلکہ ایک علامت ہے—کڑوا مگر شفا بخش، سایہ دار مگر خاموش، اور مسلسل اپنی موجودگی سے زندگی کو سہارا دینے والا۔ ایلسا قاضی نے اسی علامتی پس منظر کو اپنی شاعری میں نہایت لطیف انداز سے برتا ہے۔ ذیل میں یہ نظم ملاحظہ کیجیئے :

’’نیم کا درخت‘‘

نیم کا درخت خاموش کھڑا ہے

وقت کی دھوپ اور ہوا کے بیچ

اپنی کڑواہٹ میں چھپی ہوئی شفا لیے ہوئے

اس کے سائے میں

زندگی کی تلخیاں بھی آرام پا لیتی ہیں

اور اس کی خاموش شاخوں پر

وقت کی پرانی کہانیاں جھولتی رہتی ہیں

وہ نہ شکایت کرتا ہے

نہ خوشی کا اعلان

بس زمین سے جڑا رہتا ہے

اور انسان کو یاد دلاتا ہے کہ

کڑواہٹ بھی زندگی کا ایک سچ ہے

اور شفا بھی اسی کے اندر چھپی ہوتی ہے

یہ نظم ایلسا قاضی کے فطری شعور، علامتی اندازِ فکر اور روحانی جمالیات کی ایک اہم مثال ہے،جو محض ایک درخت کی تصویر کشی نہیں بلکہ انسانی وجود، اخلاقی تجربے اور زندگی کے تضادات کی علامتی تعبیر ہے۔

نظم کا سب سے اہم پہلو اس کی علامتی ساخت ہے۔ نیم کا درخت انسانی وجود کی اس حقیقت کی نمائندگی کرتا ہے جس میں دکھ، صبر، برداشت اور شفا ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ ادبی لحاظ سے یہ نظم مشرقی فطرت نگاری کی نمائندہ ہے۔ اس میں فطرت کےمحض منظر نہیں بلکہ ایک زندہ تجربہ ہے جو انسانی جذبات سے جڑا ہوا ہے۔

تنقیدی اعتبار سے دیکھا جائے تو ایلسا قاضی کا اسلوب سادہ مگر گہرا ہے۔ وہ پیچیدہ الفاظ کے بجائے سادہ فطری استعاروں کے ذریعے گہرے فکری معانی پیدا کرتی ہیں، یہی ان کی شاعری کی وہ خصوصیت ہے جو انہیں ایک عام شاعرہ سے ممتاز کرتی ہے۔

ان کے ہاں درخت، چاند، گلاب یا دیگر قدرتی عناصر صرف منظر نہیں بلکہ انسانی شعور کی علامتیں ہیں۔

ایلسا قاضی کی زندگی کا آخری دن 28مئی 1967 تھا، جب اس جہانِ فانی میں ان کے سفر کا اختتام ہوا۔ وہ اچانک گردوں کے مرض میں مبتلا ہوئیں اور 83برس کی عمر میں وفات پاگئیں۔ ان کی وفات صرف ایک فرد کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک ایسے فکری اور ادبی عہد کا اختتام تھا جس نے سندھ کی علمی روایت کو نئی وسعتیں عطا کی تھیں۔

گرچہ ان کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی، لیکن ان کی فکری اور ادبی خدمات نے انہیں ایک ایسی ماں کا درجہ عطا کیا جو کسی ایک خاندان تک محدود نہیں رہتی۔ وہ سندھ کے تمام اہلِ علم، ادیبوں اور خصوصاًسندھ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کے لیے ایک روحانی و فکری مادر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی تعلیمات، ترجمے اور تخلیقات نے کئی نسلوں کی فکری تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا۔

ان کی شخصیت اس لحاظ سے منفرد ہے کہ وہ جسمانی طور پر اگرچہ دنیا سے رخصت ہو گئیں، لیکن ان کی فکری موجودگی آج بھی زندہ ہے۔ ان کی تحریریں، تراجم اور ادبی خدمات آج بھی قاری کے ذہن و دل میں ایک زندہ احساس پیدا کرتی ہیں، جو وقت کے ساتھ مدھم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہوتا جاتا ہے۔

ان کی شخصیت وقت کی قید سے آزاد ہو کر اب ایک فکری وراثت بن چکی ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا چراغ ہے۔