• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قارئین! میں یہا ں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ ہمیشہ اتار چڑھاؤ سے عبارت رہی ہے۔ یہ روابط مختلف ادوار میں عالمی سیاسی حالات، علاقائی ضروریات اور بڑی طاقتوں کے مفادات کے تابع رہے۔ ماضی میں یہ تاثر مضبوط رہا کہ دو طرفہ تعلقات میں توازن کے بجائےامریکی ترجیحات کو فوقیت حاصل ہے، جسکے باعث باہمی اعتماد میں کئی بار کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ تاہم موجودہ حالات میں ان تعلقات کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی شراکت داری کو مرکزی حیثیت دی جارہی ہے۔ بدلتی ہوئی عالمی سیاست اور معاشی حقائق اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کونئی بنیادوں پر استوار کریں۔ اب محض دفاعی تعاون یا وقتی مفادات کے بجائے اقتصادی روابط، توانائی، معدنی وسائل اور تجارتی سرگرمیوں کو ترجیح دینا ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔ تاہم ضروری ہے کہ یہ روابط صرف بیانات، ملاقاتوں یابند کمروں میں ہونے والی بات چیت تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی منصوبوں اور زمینی حقائق میں بھی ان کا واضح اظہار ہو۔ مضبوط تعلقات کا اصل پیمانہ مشترکہ منصو بے،سرمایہ کاری اور عوامی سطح پر مثبت اثرات ہوتے ہیں۔ دوسری جانب دہشتگردی کا مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کیلئے ایک سنگین چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس معاملے میں امریکہ کا کردار اور ذمہ داری 2بنیادی وجوہات کی بنا پر اہم ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں امریکہ کا چھوڑا گیا جدیداسلحہ مختلف شدت پسند گروہوں کے ہاتھوں میں پہنچ چکا ہے، جو خطےمیں بدامنی اور تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی سیکورٹی اداروں کی رپورٹس بھی اس خطرے کی نشاندہی کر چکی ہیں کہ یہ اسلحہ دہشتگردی کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سلامتی کیلئے بھی خطرناک ہے۔ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ امریکہ پاکستان میں معدنی وسائل کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے، خصوصاً ایسے وسائل جنہیں عالمی معیشت میں کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے پاکستان،بالخصوص بلوچستان میں پائیدار امن ناگزیر ہے۔ بد قسمتی سے وہاں سرگرم مسلح تنظیمیں، جو جدید ہتھیاروں کے استعمال سے تخریبی کارروائیاں کر رہی ہیں، ترقی اور سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔ جب تک امن و استحکام قائم نہیں ہوتا، معاشی امکانات کو عملی شکل دینا ممکن نہیں ہوگا۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ امریکہ افغانستان میں چھوڑےگئے اسلحے کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرے۔ یا تو اس اسلحے کو واپس لینے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں یا افغان حکومت کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ یہ ہتھیار دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہوں۔ اسی طرح بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کے خلاف تعاون اور عملی مدد فراہم کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاک امریکہ تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور علاقائی امن بنیادی ستون بن سکتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک عملی اقدامات، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کو بنیاد بنائیں تو یہ تعلقات نہ صرف دو طرفہ سطح پر بلکہ پورے خطے کے استحکام اورخوشحالی کیلئے بھی سود مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے ایران کو جوہری معاہدے پر آمادہ کرنے کیلئے محدود فوجی کارروائی پر غور کی خبریں سفارتی دباؤ کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ اگر چہ اسے محدود کار روائی قرار دیا جا رہا ہے تا ہم عسکری تاریخ بتاتی ہے کہ محدود حملے اکثر غیر متوقع رد عمل کو جنم دیتے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی فوجی یا سرکاری تنصیبات کونشانہ بنانے کا اقدام نہ صرف خود مختاری کے اصولوں کو چیلنج کرتا ہے بلکہ خطے میں رد عمل کی ایک زنجیر بھی شروع کر سکتا ہے۔ ایران نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ جنگ کا خواہاں نہیں مگر حملے کی صورت میں بھر پور جواب دیا جائے گا۔ یہ کشیدگی 2 دار الحکومتوں کے درمیان تناؤ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کیلئے ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ خلیجی ریاستیں،مشرقی بحیر ہ روم، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا سب اس کشمکش کے ممکنہ اثرات کی زد میں آسکتے ہیں۔ اگر ایران کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو رد عمل صرف جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہے گا۔ توانائی کی ترسیل، عالمی تجارت، بحری راستے اور تیل کی منڈیاں فوری دباؤ میں آسکتی ہیں جسکے اثرات عالمی معیشت تک پہنچیں گے۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اگر جوابی کارروائی میںخطے میں موجود فوجی اڈے یا اثاثے نشانہ بنتے ہیں تو اس تنازعے کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اتحادی ممالک بھی غیر ارادی طور پر اس تنازعے کا حصہ بن سکتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ایک علاقائی بحران کےبین الاقوامی تصادم میں تبدیل ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔پاکستان کیلئے یہ صورتحال محض خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں بلکہ علاقائی استحکام اور قومی مفادات سے جڑی حقیقت ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی، ثقافتی اور اقتصادی روابط ایک حقیقت ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون نہ صرف باہمی مفاد میں ہے بلکہ خطے کے استحکام کیلئے بھی اہم ہے۔ ایسے وقت میں پاکستان کو اصولی موقف اپناتے ہوئے ایران کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرنی چاہئے جبکہ کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں کو فروغ دینا چاہئے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ طاقت کے استعمال کی دھمکیاں سفارتی عمل کو کمزور کرتی ہیں۔ عالمی تنازعات کا تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ عسکری دبا ؤ وقتی نتائج تو دے سکتا ہے مگر پائیدار امن صرف مذاکرات اور باہمی احترام سے ہی ممکن ہے۔ اگر طاقت کے استعمال کو ترجیح دی گئی تو یہ صرف کشیدگی بڑھائے گا ۔ عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ کو اس صورتحال میں فعال کردارادا کرنا چاہیے تا کہ کشیدگی کومزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔

تازہ ترین