• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرے ایک بزرگ دوست ہر وقت اپنی جوانی کی تصویریں لیے بیٹھے رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ انکی کمنٹری بھی جاری رہتی ہے۔ گزشتہ روز وہ ایک بار پھر یہ سب احوال بیان کر رہے تھے۔

یہ تصویر دیکھو ، جب میں نے لندن میں 32 میل لمبی میراتھن ریس میں حصہ لیا تھا ، اس میں ہزاروں لوگ بھاگ رہے تھے لیکن پھر بھی میں سب سے آخر میں بہر حال نہیں تھا ۔ واقعی وہ ایک خوبصورت جوان تھے اور اتنی لمبی دوڑ کے باوجود ان کے چہرے پر تھکن کے کوئی آثار نہ تھے۔یہ دیکھو، میں جم میں ایکسر سائز کر رہا ہوں۔ ان کے ڈولے اور ان کی چھاتی دیکھ کر دل دہل سا گیا۔تم اس خوبصورت لڑکے کو پہچان سکتے ہو؟ یہ میں ہوں جو کانووکیشن میں مہمانِ خصوصی سے اپنی بی اے کی ڈگری وصول کر رہا ہے ۔ اس روز مجھے یقین سا ہوگیا کہ وہ کم از کم بی اے پاس تو ضرور ہیں۔اُنہوں نے اپنی زنبیل میں سے ایک اور تصویر نکالی’ یہ گروپ فوٹو دیکھو، صرف بیس سال پہلے کا ہے۔ اس میں جو سب سے ہینڈ سم جوان نظر آ رہا ہے وہ میں ہوں ۔ وہ صحیح کہہ رہے تھے۔اس کے بعد وہ ایک ایک کر کے میرے سامنے اپنی جوانی کی تصویروں کا ڈھیر لگاتے چلے گئے۔ اپنے کالج کے دوستوں کے ساتھ ایک سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے ، اپنی منگیتر کے ساتھ اور پھر شادی کی ڈھیر ساری تصویر یں!

پھر انھوں نے اپنی جگہ سے اٹھنے کی کوشش کی لیکن ناتوانی کی وجہ سے اٹھا نہیں گیا۔میں نے سہارا دے کر انھیں اٹھایا۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے ایک دوسرے کمرے میں گئے۔ واپسی پر ان کے ہاتھ میں خاکی رنگ کے کاغذ کے تین چار بڑے لفافے تھے۔چند قدم چلنے پر ہی ان کا سانس پھول گیا تھا۔ اب وہ لمبے لمبے سانس لے رہے تھے۔جب ان کا سانس درست ہوا تو بولے ” اب میں تمھیں تصویر کا دوسرا رخ دکھاتا ہوں۔ اور پھر انھوں نے یہ رخ دکھانا شروع کر دیا۔یہ آرتھو پیڈک سرجن کی رپورٹ ہے اور اس کیساتھ میرے دونوں گھٹنوں کے ایکسرے ہیں ۔ ڈاکٹر کہتا ہے دونوں گھٹنے نئے ڈالنا پڑیں گے۔اس پر مجھے غالب کی دور بینی پہ شک ہوا جس نے بازار سے دل و جاں لانے کی بات تو کی تھی، گھٹنوں کا کہیں ذکر نہیں کیا تھا۔یہ رپورٹ پالما نالوجسٹ کی ہے جس کے مطابق میری سانس کی نالیاں سکڑ گئی ہیں اور پھیپھڑوں کی لچک کم ہو گئی ہے۔ انھوں نے پہلا سگریٹ ایش ٹرے میں بجھانےاور نیا سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا:ڈاکٹر کہتا ہے اب آپ باقی عمر مشین پر سانس لیں گے۔ اب میرے سامنے ایک اور رپورٹ تھی اور بزرگوار فرما رہے تھے یہ میرے پروسٹیٹ کا الٹرا ساؤنڈ ہے جو انلارج ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر کہتا ہے فورا آپریشن کروالیں ورنہ آپ نکاسی آب کے لیے ترستے رہ جائیں گے !

اس دوران ان کا پوتا چائے لے آیا ۔ انھوں نے ایک گھونٹ چائے کا لیا اور اس کیساتھ ہی تکلیف کے احساس سے اپنی بتیسی منہ سے نکال کر میز پر رکھ دی۔ میں نے پوچھا کیا چائے دانتوں میں پھنس گئی تھی؟ برا سامنہ بنا کر بولے ”میاں، منہ میں دانت ہی نہیں ، مسوڑھے بھی ہوتے ہیں جو ان نقلی دانتوں کی وجہ سے زخمی ہو چکے ہیں ۔ میں نے عرض کی نئے دانت لگوالیں۔ بولے ”میاں، ایک نیا دانت ایک لاکھ روپے میں لگتا ہے اور منہ میں بتیس دانت ہوتے ہیں، جبکہ ہم میاں بیوی کی تو بتیسی بھی مشترکہ ہے۔ ہم باری باری کھانا کھاتے ہیں۔ میرے اس دوست کا سب کچھ زوال پذیر تھا لیکن حس مزاح ابھی تک برقرار تھی۔پھر انھوں نے مجھے گردوں کی رپورٹ دکھائی جو یہ اطلاع دے رہی تھی کہ ان کا ایک گردہ بیکار ہو چکا ہے، وہ نکالنا پڑے گا۔ ہارٹ کی رپورٹ کے مطابق ان کے جسم کا یہ عضو کسی بھی وقت ریسٹ کرنےکیلئے رک سکتا ہے اور یوں دل کی یہ ” آرام طلبی اس دنیا سے کوچ کا باعث بن سکتی ہے‘‘۔ ڈاکٹروں نے انھیں السر کا مریض بھی قرار دیا تھا۔ اس کے علاوہ ان تمام امراض کی نشاندہی کی گئی تھی جو ابھی تک دریافت ہو چکےہیں یا دریافت ہونا باقی ہیں۔

وہ مجھے اپنی زندگی کی تصویر کے دونوں رخ دکھا چکے تو انھوں نے مجھے مخاطب کیا اور بولے میں اپنے حسن اور جوانی پر بہت مان کیا کرتا تھا۔ میرا خیال تھا کہ میں کبھی بوڑھا نہیں ہوں گا، کبھی کمزور نہیں ہوں گا، میری خوبصورتی کبھی ماند نہیں پڑے گی۔ اب میری ناتوانی دیکھو، یہ زندگی تو نہیں جو میں گزار رہا ہوں ۔ بے غیرتی ہے جو برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ پھر انھوں نے اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے پچکے ہوئے گال مزید پچکاتے ہوئے کہا یہ میری شکل دیکھو، اگر تم نے کبھی زندگی میں بجو نہیں دیکھا تو مجھے دیکھ لو ۔ وہ اپنی ہجو بیان کرتے کرتے دوسروں کی ہجو پر بھی اتر آئے اور بولے:گزشتہ روز ایک شادی کی دعوت میں ایک بوڑھی عورت سے میری ملاقات ہوئی جو مجھ سے بھی زیادہ بدصورت تھی۔ میری شکل وصورت کا آدمی بھی اس کا چہرہ زیادہ دیر تک نہیں دیکھ سکتا تھا مگر وہ میرے قریب آئی اور ناز و ادا کے ساتھ بولی ” آپ نے مجھے پہچانا نہیں ؟ ‘‘میں نے بے رخی سے کہا نہیں، اس نے شرماتے اور اپنے دوپٹے کا پلو اپنی انگلیوں سے مسلتے ہوئے کہا ” میں شازیہ ہوں“۔ اب میں تمھیں کیا بتاؤں، یہ شازیہ کون تھی ؟ یہ وہ تھی جو میرے ساتھ کالج میں پڑھتی تھی اور کالج کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی۔ میں اس پر دل و جان سے عاشق تھا اور اس سے شادی کرنا چاہتا تھا مگر دونوں کے والدین نہیں مانے۔ اس کے بعد انھوں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہا میں بہت دنوں سے سوچ رہا ہوں کہ کسی خوبصورت مرد اور کسی خوبصورت عورت کو بوڑھا اور بدصورت ہونے کی منزل تک نہیں پہنچنے دینا چاہئے۔میں نے عرض کیا ” یہ تو فطرت کی منشا کے خلاف ہے۔ بولے میں جانتا ہوں لیکن میرے پاس اس کا حل ہے؟ میں نے پوچھا وہ کیا؟ کہنے لگے انھیں وہ وقت آنے پر گولی ماردینی چاہیے ۔ آخر آپ لوگ لنگڑے گھوڑے کو بھی تو گولی مار دیتے ہیں۔

اب میں بزرگوار کو کیا بتاتا کہ آپ کی رائے آپ اور آپ جیسے دوسرے لوگوں کے حوالے سے تو صحیح نہیں لیکن وقت کے ان فرعونوں اور قارونوں کے حوالے سے اس پر ضرور غور ہو سکتا ہے جو اپنے اندھے اختیارات اور بے پناہ دولت کے بل بوتے پر خدا کے اس قانون کو بھول جاتے ہیں کہ ایک دن یہ سب کچھ ان کیلئے بیکار ہو جائے گا۔ وہ جیناچاہیں گے اور جی نہیں سکیں گے، وہ مرنا چاہیں گے اور مر نہیں سکیں گے!

بزرگوار کی آخری بات نے اگر چہ مجھے اداس کر دیا تھا تاہم میں نے سوچا کہ اگر انھوں نے اپنی طاقت کے زمانے میں آنے والی ناتوانی ، خوبصورتی کے زمانے میں بدصورتی، جوانی کے زمانے میں بڑھاپے اور اختیارات کے زمانے میں لاچاری کے بارے میں سوچا ہوتا تو وہ آج اتنے مایوس نظر نہ آتے۔ بہار کے بعد خزاں نے آنا ہی ہوتا ہے اور گوخزاں کے بعد پھر بہار آتی ہے لیکن انسان پر آنے والی خزاں کے مقدر میں کوئی بہار نہیں ہوتی!

تازہ ترین