آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ اگر کسی سادہ سی بات کو گھما پھرا کر انگریزی میں بیان کیا جائے تو اُس کا زیادہ رعب پڑتا ہے۔ مثلاً بچپن سے ہم سنتے آئے ہیں کہ کچھ پانے کیلئے، کچھ کھونا پڑتا ہے، لیکن اسی بات کو اگر انگریزی میں یوں بیان کیا جائے کہ Law of Equivalent Exchange ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کوئی بھی چیز اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اس کے بدلے میں کچھ دے نہ دے، تو ہم خواہ مخواہ متاثر ہو جائینگے حالانکہ یہ کوئی نیا فلسفہ نہیں، ہماری ماؤں نے یہ بات ہمیں تب ہی سمجھا دی تھی جب ہم گھٹنوں کے بل چلا کرتے تھے، لیکن کسی نے اسے یوں آفاقی قانون بنا کر پیش نہیں کیا تھا۔ اِس قانون کا اطلاق ہر پل ہماری زندگیوں پر ہوتا ہے، ہمارا ہر فیصلہ، ہمارا ہر انتخاب، اِس قانون کے تابع ہے۔ آپ نے وزن کم کرنا ہے، مگر ’کٹوے‘ کا گوشت بھی پسند ہے، چُپڑی اور دو دو نہیں ہو سکتیں، یہ ممکن نہیں کہ آپ رات بارہ بجے گوجرانوالہ کے سیالکوٹی دروازے سے ’ادھی رات کا کھانا‘ کھا کر واپس آئیں اور صبح وزن تین کلو کم ہوا ہو۔ وزن اسی صورت میں کم ہو سکتا ہے اگر آپ شام چھ بجے کے بعد کچھ نہیں کھائیں گا یا پھر دو گھنٹے جم میں مزدور کی طرح پسینہ بہائیں گے۔ اِس دنیا میں مفت میں کچھ نہیں ملتا، چربی دو گے تو فٹنس لو گے۔
دوستوں اور رشتہ داروں سے تعلق نبھانے میں بھی یہی قانون برائے مساوی تبادلہ لاگو ہوتا ہے۔ ہم اکثر کڑھتے ہیں کہ فلاں موقع پر دوست نے میرا ساتھ نہیں دیا یا فلاں رشتہ دار نے شادی پر ہمیں نہیں بلایا مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کی غمی خوشی کے موقع پر ہم نے کیا برتاؤ کیا تھا، اگر کسی کےکڑے وقت میں ہم فقط اپنا انسٹاگرام ہی اسکرول کرتے رہے تو یہ توقع رکھنا حماقت ہے کہ وہ آپ کے مشکل وقت میں ساتھ دے گا۔ باقی باتیں چھوڑیں، سوشل میڈیا کی معیشت اسی مساوی تبادلے پر کھڑی ہے، آپ کسی کی تصویر کو ’لائک‘ کریں تو ہی وہ شخص آپ کی اگلی تصویر پر دل بنائے گا۔ ویسے کبھی کبھار خواتین کے معاملے میں یہ قانون باطل ہو جاتا ہے۔ شُتر بے مہار مرد، خواتین کی پوسٹس کو تو دل و جان سے پسند کرتے ہیں، چاہے اُن میں دو ٹکے کا فلسفہ ہی کیوں نہ بیان ہواہو، اور بدلے میں انہیں ٹھینگا بھی نہیں ملتا۔ اِس قانون کا بہترین اطلاق سرکاری محکموں میں ہوتا ہے، اگر وہاں آپ بغیر کسی سفارش کے اپنا کام نکلوانے چلے جائیں تو موقع پر موجود کلرک آپ کی فائل کو یوں دیکھےگا جیسے کوئی ماہرِ آثارِ قدیمہ موہنجودڑو سے ملنے والے کسی برتن کو دیکھتا ہے اور پھر اُس میں دنیا جہان کے اعتراضات لگا کر آپ کو واپس کر دے گا اِلّا یہ کہ آپ نیوٹن کے قوانین حرکت کے تحت اپنی فائل پر ’بیرونی قوت‘ صرف کریں اور اسے مطلوبہ ’توانائی‘ فراہم کرکے پہیے لگا دیں۔
اِس قانون کی سب سے عمدہ بات یہ ہے کہ یہ سب پر یکساں انداز میں لاگو ہوتا ہے، کوئی بھی بندہ، چاہے وہ جس قدر بھی سیانا یا کائیاں کیوں نہ ہو، اِس قانون سے بچ نہیں سکتا۔ محبت کے تعلق میں بھی یہی قانون کارفرما ہے جبکہ ہم سنتے ہیں کہ محبت تو بے لوث ہوتی ہے۔ بے شک کچھ تعلقات بے لوث ہوتے ہیں لیکن اگر آپ تعلقات کو نبھانا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی انا سے دستبردار ہونا پڑے گا، یہ ممکن نہیں کہ آپ کی انا بھی قائم رہے اور تعلق بھی خوشگوار چلتا رہے۔اِس دنیا میں آپ جو بھی فیصلہ کریں گے اُس کی ایک قیمت ہوگی جو چکانی پڑے گا۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ”جو ہوگا دیکھا جائے گا لیکن پھر دیکھا نہیں جاتا۔“ سو زندگی میں جو بھی چیز آپ نے لینی ہو، اسے لینے سے پہلے خود سے پوچھیں کہ اِس کے بدلے آپ کس بات سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ اگر آپ کو انا عزیز ہے تو آپ کو اچھے تعلق کو ’سرنڈر‘ کرنا پڑے گا، اگر آپ کو شہرت چاہیے تو پرائیویسی کو خیر باد کہنا پڑے گا، اگر آپ کو دس سال میں کمپنی کا سی ای او بننا ہے تو انتھک محنت تو کرنی ہی پڑے گی مگر ساتھ میں اپنے وقت کی قربانی بھی دینی پڑے گی جو بصورتِ دیگر آپ اپنے پیاروں کے ساتھ گزار سکتے تھے۔ لہٰذا جب بھی آپ کوئی فیصلہ کریں تو پہلے اُس فیصلے کی قیمت کا تعین کریں اور پھر یہ حساب لگائیں کہ کیا یہ قیمت مناسب ہے! اِس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں کہ آپ حسابی کتابی بن جائیں اور کسی کو ایک کپ چائے پلانے سے پہلے بھی دس مرتبہ سوچیں کہ اِس میں میرا کتنا فائدہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ طرزِ زندگی احمقانہ ہی کہلائے گا۔ دانشمندی اِس میں ہے کہ صرف کوئی بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے حساب لگائیں اور سوچیں کہ اِس فیصلے کے عوض آپ جو چھوڑ رہے ہیں کہیں وہ مہنگا سودا تو نہیں! مگر یہ سوچ محبت پر لاگو نہیں ہوتی جو نہ بارٹر سسٹم پر چلتی ہے اور نہ ہی اُس میں بہی کھاتہ رکھا جاتا ہے۔ سوچنا صرف یہ ہے کہ کہیں آپ پیسے کے عوض جوانی، انا کے بدلے میں محبت یا کیرئیر کے عوض عزت نفس تو دستبردار نہیں ہو رہے!یہ دنیا ایک بہت بڑا شاپنگ مال ہے اور یہاں ہر چیز پر اُس کی قیمت درج ہے۔ آپ جو چاہیں اٹھا لیں لیکن یاد رکھیں کہ باہر نکلتے وقت کیش کاؤنٹر پر آپ کو اس کی پوری قیمت چکانی پڑے گی۔ قانونِ مساوی تبادلہ اٹل ہے، کیونکہ قدرت ادھار نہیں کرتی، وہ نقد حساب چکاتی ہے۔