سیاسیات کی فصیح اصطلاحات اور بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایک ریاست کی حقیقی پہچان اسکی اس صلاحیت سے ہوتی ہے کہ وہ کس طرح ایک سوچے سمجھے، فعال اور پیشگی منصوبے کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال اور عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بناتی ہے۔ تاہم، بدقسمتی سے پاکستان کا موجودہ حکومتی ڈھانچہ تیزی سے ایک ایسی صورتِ حال میں ڈھل چکا ہے جسے سیاسی اصطلاح میںگورننس بائی ڈیفالٹ ہی کہا جا سکتا ہے۔اس ڈیفالٹ موڈ کا سب سے بھیانک اور تکلیف دہ اظہار ہماری معیشت کے دیوالیہ پن کے ساتھ بار بار کی چھیڑ چھاڑ میں نمایاں ہے۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کی 24 ویں مداخلت کا سامنا کر رہا ہے،یہ کوئی معمولی عدد نہیں بلکہ ایک ایسی گہری ساختی بیماری کی نشاندہی کرتا ہے جس کا علاج ہم برسوں سے ٹال رہے ہیں۔ ہماری معیشت ایک ایسی "رینٹ سیکنگ" معیشت بن چکی ہے جو صرف مخصوص مراعات یافتہ طبقے اور طاقتور لابیوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے وضع کی گئی ہے۔ہم بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے کو لیں، جو اب 2 ٹریلین روپے کی فلک بوس سطح کو چھو رہا ہے۔ اسے حل نہ کرنے کی وجہ وسائل کی کمی نہیں،بلکہ وہ سیاسی مصلحتیں اور سبسڈیز کا وہ جال ہے جو بااثر افراد کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ یو این ڈی پی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں اشرافیہ کو دی جانے والی مراعات سالانہ تقریباً 17 ارب ڈالر قومی معیشت سے نکل جاتی ہیں۔ یہ مارکیٹ کی ناکامی نہیں، بلکہ ڈیفالٹ پر چلنے والی ریاست کا ایک باقاعدہ شعوری ڈیزائن ہے، جہاں بوجھ ہمیشہ مڈل کلاس اور غریب طبقے پر ڈالا جاتا ہے۔اس ساختی جمود کی جڑیں ہماری سول سروس کے زوال میں بہت گہری پیوست ہیں۔ ماہرِ عمرانیات میکس ویبر نے جس عقلی و قانونی بیوروکریسی کا تصور دیا تھا، پاکستان میں اس کی جگہ اب ایک ایسے ماڈل نے لے لی ہے جہاں پیشہ ورانہ مہارت کے بجائے سیاسی وفاداری اور جی حضوری کو ترجیح دی جاتی ہے۔ آج کی دنیا ڈیجیٹل تجارت، کلائمیٹ فنانس اور پیچیدہ عالمی سفارت کاری کی دنیا ہے، مگر ہم اب بھی ان افسران پر انحصار کر رہے ہیں جنہیں حیرت انگیز تواتر کے ساتھ محکمہ صحت سے آئی ٹی اور وہاں سے فنانس میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ تعیناتیوں کا یہ میوزیکل چیئر کھیل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بھی افسر نہ تو کسی اصلاحاتی عمل کی ملکیت لے سکے اور نہ ہی اپنے شعبے میں مہارت حاصل کر سکے۔
سماجی نقطہ نظر سے دیکھیں تو اس بغیر وژن کی حکمرانی نے ریاست اور شہری کے درمیان موجودسماجی معاہدے کو تقریباً تباہ کر دیا ہے۔ پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچوں کا اسکولوں سے باہر ہونا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ ایک شعوری پالیسی انتخاب ہے جو ڈیفالٹ میں کیا گیا۔ جب ریاست تعلیم کیلئےجی ڈی پی کا 2 فیصد سے بھی کم مختص کرتی ہے اور دوسری طرف مراعات یافتہ طبقے پر نوازشات کی بارش کرتی ہے، تو وہ دراصل اپنے مستقبل سے دستبردار ہو رہی ہوتی ہے۔ ابنِ خلدون نے اپنے شہرہ آفاق ’مقدمہ‘ میں خبردار کیا تھا کہ جب حکمران طبقہ اجتماعی عصبیت اور عوامی فلاح کے بجائے صرف اپنی بقا کو ترجیح دے، تو ریاست زوال کے آخری مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے۔ آج ہمارے لاکھوں باصلاحیت نوجوانوں کا مایوس ہو کر ملک چھوڑنا اس ڈیفالٹ نظام پر ایک حتمی اعلانِ لاتعلقی ہے۔ماحولیاتی بحران، خاص طور پر ہر سال انڈس بیسن اور پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لینے والی زہریلی اسموگ، اس حکومتی نااہلی کا سب سے تازہ اور واضح استعارہ ہے۔ اسموگ کوئی موسمی اتفاق یا قدرتی آفت نہیں بلکہ دہائیوں کی غیر منظم شہری ترقی، ہریالی کے خاتمے اور ایندھن کے معیار کو بہتر بنانےسے مسلسل انکار کا منطقی نتیجہ ہے۔ جب دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتیں اپنے قومی حسابات میں گرین جی ڈی پی کو شامل کر رہی ہیں، ہمارا ردِعمل صرف عارضی گرین لاک ڈاؤنز اور اسکولوں کی چھٹیوں تک محدود ہے ۔
سیاسی طور پر ہماری پارلیمنٹ، جسے اسٹرٹیجک فیصلوں کا مرکز ہونا چاہیے تھا، محض وقتی سیاسی چالوں اور عددی کھیل کی تماشہ گاہ بنا دی گئی ہے۔ قانون سازی کے معیار میں مسلسل گراوٹ اس نظام کا فطری نتیجہ ہے جہاں ’کھیل کے اصول ‘ضرورت اور مصلحت کے مطابق بدل دیے جاتے ہیں۔ جب اہم ترین آئینی ترامیم عوامی بحث یا پارلیمانی کمیٹیوں کی جانچ پڑتال کے بغیر رات کی تاریکی میں منظور کی جاتی ہیں، تو ملک کا قانونی ڈھانچہ بھی اتنا ہی ناقابلِ اعتبار ہو جاتا ہے جتنی کہ اس کی معاشی پالیسیاں۔ یہی وہ غیر یقینی صورتحال ہے جسکی وجہ سے کوئی بھی مقامی یا غیر ملکی سرمایہ کار یہاں طویل مدتی منصوبہ بندی کرنے سے کتراتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بند گلی سے نکلنے کا کوئی راستہ موجود ہے؟ اس مہلک چکر کو توڑنےکیلئے پاکستان کو پرانے خول سے نکل کر ایک ترقیاتی ریاست بننا ہوگا۔ اس کیلئے صرف میثاقِ معیشت کے کھوکھلے نعرے کافی نہیں بلکہ طاقت کے توازن کی بنیادی ڈھانچہ سازی کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک ایسی ماہر بیوروکریسی کی ضرورت ہے جو ٹیکنالوجی اور جدید علوم سے لیس ہو، ہمیں اشرافیہ کی ان 17 ارب ڈالر کی سبسڈیز کے خاتمے کیلئے جرات مندانہ فیصلے کرنے ہوں گے اور صوبائی دارالحکومتوں میں قید اختیارات کو حقیقی معنوں میں نچلی سطح (Local Government) تک منتقل کرنا ہوگا۔حقیقی حکمرانی اور ڈیفالٹ گورننس میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اصل حکمرانی کے لیے اگلے دس دنوں کے بجائے اگلی دہائی کی منصوبہ بندی کرنے کی جرات درکار ہوتی ہے۔ اتفاقیہ اور حادثاتی بقاکی گنجائش اب تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت ، تیزی سے بدلتی عالمی آب و ہوا اور عالمی سپلائی چین میں ہونے والی تبدیلیوں کے اس جدید دور میں، ڈیفالٹ سیٹنگز پر چلنے والی ریاستیں خود بخود متروک ہو کر تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہو جاتی ہیں۔