مردان میں ماربل کی کان میں 17 دن تک پھنسے رہنے والے مزدور عبدالوہاب نے داستان سنادی۔
عبدالوہاب کی 17 دن میں بارش نے کیسے مدد کی؟ اس دوران ماں کی یاد آئی تو کیا ہوا؟ کان میں وضو کیسے کرتا رہا،نماز کے اوقات کا کیسے اندازہ ہوتا تھا؟ مزدور کو ماربل کی کان سے جس دن ریسکیو کیا گیا تب کیا ہوا؟ مہمند کے اس بہادر مزدور کی کان میں 17 روز تک پھنسے رہنے کی لمہ بہ لمحہ داستان جیو نیوز سامنے لے آیا۔
عبدالوہاب نے بتایا کہ یہ واقعہ جس وقت پیش آیا تھا، عصر کے ساڑھے چار بجے تھے، پس منظر مجھے سب یاد ہے، میں اس وقت بےہوشی کی حالت میں بالکل نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں کان میں پھنس گیا تو میں نے ہمت نہیں ہاری بالکل ریلیکس اور ٹھیک تھا، میں 17 دن اس ملبے کے نیچے تھا، چیلنج تو تھے مگر میں نے ہار نہیں مانی۔
عبدالوہاب نے یہ بھی بتایا کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ انشاء اللّٰہ اس جگہ سے صحیح سلامت نکلوں گا، مجھ پر ایک سیکنڈ کے لئے بھی بےہوشی کی حالت نہیں آئی، میں نے 5 وقت کی نماز پڑھی۔
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ دن ہے یا رات لیکن نماز پڑھتا تھا، میں نے اپنے لیے ایک ٹارگٹ سیٹ کیا تھا، مطلب فجر کی نماز میرا ایک ٹارگٹ تھا، دوسری نمازیں دل کی تسلی پر پڑھتا تھا، میں نے اس دوران نوافل بھی پڑھے اور ذکر بھی کیا۔
عبدالوہاب نے بتایا کہ میرے پاس صرف اور صرف پانی کا سسٹم تھا بارش کا پانی، جس جگہ پر ہم کام کرتے تھے اس جگہ پر پانی کی بوندیں آتی تھیں، بارش ہوئی تھی، جس سے پانی کی جو مقدار تھی، وہ بڑھ گئی تھی اور روٹی کا تو کوئی چانس نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ میرے لئے سب لوگ محترم ہیں، گھر والے ایسے ہوتے ہیں، جن کے ساتھ زندگی گزرتی ہے، ماں بھی یاد آتی تھی باپ بھی یاد آتا تھا، میں رویا بھی تھا جب ماں یاد آئی۔
میری ماں ان دنوں بیمار تھی، ماں اسپتال میں علاج کے لیے تھی، میں سوچ رہا تھا کہ ان کا علاج ہو جائے۔
عبدالوہاب نے کہا کہ میں نے اس دوران ہمت اور امید کا ساتھ نہیں چھوڑا، میں کہتا تھا کہ انشاء اللّٰہ 10 دن بعد، 20 دن بعد، مہینہ بعد صحیح سلامت نکلوں گا، میں جس وقت اس جگہ سے نکلنے والا تھا میں نے آوازیں دیں، میری آوازیں اللّٰہ نے ریسکیو کے لوگوں تک پہنچائیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب اس جگہ سے نکل گیا تو اس وقت میں بالکل نارمل تھا، میں جس جگہ میں رہ رہا تھا وہاں پر چلنے پھرنے کی جگہ نہیں تھی، میں صرف اور صرف وضو کے لیے نکلتا تھا، میرے پاس پانی زیادہ ہوتا تو میں وضو کرتا۔
عبدالوہاب نے کہا کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا وہ جگہ بہت خطرناک تھی، اس جگہ بار بار میں اٹھ سکتا تھا کبھی کبھی میں چکر لگاتا، میرے پاس جگہ کم تھی پاؤں میں کمزوری نہ ہو اور پاؤں رک نہ جائیں اس لیے میں چلتا پھرتا تھا۔
کان کن نے یہ بھی کہا کہ یہ کام بہت سخت ہے ٹھیکیدار کو مزدوروں کا خیال رکھنا چاہیے۔