• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بسنت کا تہوار سردی کے خاتمے اور بہار کی آمد کی علامت ہے ۔ دیکھا جائے تو بسنت گزر چکی ہے اور لاہور سے سردی بھی اُڑ چکی ہے اب اس موضوع پر کالم لکھنا گویا لکیر پیٹنے والی بات ہے ۔ لیکن کیا کریں کہ اخبار کی تازہ خبر کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے خلاف درخواستوں کی سماعت جاری ہے۔ حالیہ سماعت کے موقع پر عدالت میں رپورٹ جمع کرائی گئی ہے کہ اس بسنت پر لاہور میں 17 اموات ہوئی ہیں۔

پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق کرنٹ لگنے سے تین افراد ، درختوں سے گر کر دو افراد جبکہ 12افراد چھتوں سے گر کر ہلاک ہوئے۔زخمی افراد کی تعداد الگ ہے۔ اگرچہ امسال پنجاب گورنمنٹ نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایات پر مثالی حفاظتی اقدامات کیے مگر لاہوریوں کا کیا کریں جو بسنت سے یعنی پتنگ بازی سے قلبی لگاؤ رکھتے ہیں ۔ واضح رہے کہ لاہوریوں کے لیے بسنت کوئی عقیدت کا استعارہ نہیں ہے بلکہ اس نام یا دن سے وابستہ پتنگ بازی ہے جس پر وہ جان نثار کرنے سے بھی نہیں کتراتے۔ ہر سال بسنت کے موقع پر روایتی مباحث کا آغاز ہو جاتا ہے۔ سب سے بڑا اعتراض یہ اٹھایا جاتا ہے کہ بسنت ہندوؤں کا تہوار ہے لہٰذا ہم کیوں منائیں ؟ میرا خیال ہے کہ بسنت موسم بہار کی آمد کا علاقائی تہوار ہے جس کا بنیادی مقصد میلے ٹھیلے اور مسرت کا اظہار ہے۔

ہمارے پنجاب نے خاص طور پر لاہور نے اس موسمی خوشی کے اظہار کو پتنگ بازی سے جوڑ کر منفرد بنا دیا ہے۔ جہاں تک ہندوؤں کا تعلق ہے تو ان کا تہوار بسنت پنچمی کے نام سے موسوم ہے جس پر وہ علم کی دیوی کی پوجا پاٹ کرتے ہیں۔ ان کا مذہبی تہوار مخصوص مہینے اور دن کے ساتھ فکس ہے جبکہ ہم اس دن یا تاریخ کا تعین اپنی سہولت کے مطابق کرتے ہیں یعنی فکس نہیں ہے ۔ یوں علاقائی کے علاوہ کوئی دوسری مماثلت نہیں ہے لہٰذا اس موقع پر پتنگ اڑاتے ہوئے کسی قسم کا احساس گناہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم پتنگ بازی کے بدلتے رجحانات کے زہریلے پن سے چشم پوشی برت لیں۔

صرف لاہور میں 17افراد کی ہلاکت کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اگرچہ ان اموات کا ذمہ دار کوئی دوسرا نہیں ہے۔ ازخود چھتوں، درختوں سے گرنا ذاتی غفلت کے سوا کچھ نہیں تا ہم اگر اس کا سبب پتنگ بازی بھی ہے تو اگلی بسنت کے لیے اس پہلو سے پہلو تہی اختیار نہیں کی جانی چاہیے ۔ خدا کا شکر کہ موٹر سائیکل پر حفاظتی راڈ لگانے سے اس مرتبہ گلے پر ڈور پھرنے جیسے خونیں واقعات رپورٹ نہیں ہوئے لیکن 17 افراد کی ہلاکت نے اس کھیل پر پھر سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکومتی کارندے یا پولیس ہر گھر کی چھت پر جا جا کر لوگوں کی حفاظت نہیں کر سکتے لہٰذا اگلے برس اگر بسنت پر پتنگ بازی جاری رکھنی ہے تو پتنگ بازی کو چھتوں سے نیچے اتارنا ہوگا۔ قبل ازیں اس کھیل کو میدانوں یا پارکوں تک بھی محدود کیا گیا مگر خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہوئے کیونکہ دھاتی ڈور کا استعمال مسلسل جاری رہا اب اگر اس کھیل کو اور پتنگ بازی کی صنعت کو زندہ رکھنا ہے تو اس کھیل کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانا ہوگا ۔ میری تجویز ہے کہ اس سال اختیار کئے گئے تمام تر حفاظتی اقدامات کے ساتھ پتنگ بازی کو گھروں کی چھتوں سے نکال کر لاہور رنگ روڈ پر منتقل کر دیا جائے۔

واضح رہے کہ لاہور رنگ روڈ نے شہر کو تمام اطراف سے گھیر رکھا ہے اور سڑک بھی قریبی آبادیوں سے قدرے بلندی پر ہے۔ اگر ایک یا دو دن کیلئے لاہور رنگ روڈ کو عام ٹریفک کیلئے بند کر کے صرف پیدل لوگوں کو رسائی دی جائے تو اس کھیل کے شوقین افراد اور فیملیز دو دو چار چار کلومیٹرز کے فاصلے پر موجود انٹرچینج سے اپنی سہولت کے مطابق داخل ہو کر پتنگ بازی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

یہاں نہ کوئی گرنے کا احتمال ہوگا اور نہ دیگر حادثات کا خطرہ۔ اب سوال یہ ہے کہ لاہوری رات کو کیا کریں؟ تو اس کیلئے مختلف باغات میں نمائشیں لگائی جا سکتی ہیں۔ بازار، پلازے، مارکیٹیں سجائی جا سکتی ہیں۔ سالانہ سیل میلے کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ گھروں کی چھتوں ، بالکنیوں پر مہمانوں کو مدعو کیا جا سکتا ہے۔ بغیر پتنگ بازی کے کلچرل تقریبات منعقد کی جا سکتی ہیں۔ پتنگ بازی کی طرح اگر ہم بسنت کو کسی طور شجر کاری سے بھی جوڑ دیں تو کیا ہی اچھا ہو۔ مہمان ایک دوسرے کے گھر کھٹے میٹھے تحفے تحائف کی بجائے کم از کم ایک عدد پھولدار گملا ضرور لے کر جائیں۔

تصور یہ کریں کہ یہ پودا آپ کے گھر موسم بہار کا سندیسہ لے کر آیا ہے ۔اس رواج سے ہم نہ صرف اپنے ارد گرد ماحول کو خوشگوار بنا سکیں گے بلکہ اگلی نسل کو پودوں سے محبت کا سبق بھی دے سکیں گے۔ آخری بات یہ ہے کہ ہمیں ثقافتی تقریبات کو صرف ثقافتی نظر سے ہی دیکھنا چاہیے۔

ثقافتی سرگرمیوں سے معاشرے میں دولت کا ارتکاز کم ہوتا ہے پیسہ ایسے لوگوں تک پہنچتا ہے جو سارا سال انتظار میں رہتے ہیں ۔ایسے کھیلوں اور تقریبات کو محفوظ بنانا بھی ہمارے اپنے ہی اختیار میں ہے۔ آئیے اپنے اس اختیار کو استعمال میں لائیں اور اگلے برس بسنت کو اس قدر محفوظ بنائیں کہ ایک بھی جان ضائع نہ ہو۔

تازہ ترین