جنرل ضیاء نے امریکی صحافی جان میکگلن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ ایران ہمارا ہمسایہ ہے ہمیں اسکی ہمسائیگی پر فخر ہے اور ہم ایران کو تنہائی کا شکار ہرگز نہیں ہونے دیں گے‘‘۔یہ وہی وقت تھا جب ایرانی انقلاب کے رد عمل کے طور پر جی سی سی وجود میں آئی تھی ، پاکستان امریکہ کے ساتھ تھا اور ایران عراق جنگ میں صدام کو مکمل امریکی اور جی سی سی ممالک کی مدد حاصل تھی ۔ پاکستان ان تینوں کا حلیف تھا جو کہ آپس میں زبر دست حریف تھے ۔پاکستان نےایران کو تنہا نہیں چھوڑا تھا بلکہ مختلف امور میں معاونت کی تھی ، فرخ میر کی کتاب ہاف ٹروتھ کا مطالعہ اس حوالے سے بہت مفید ہے۔ جنرل ضیاء نے ایران کو تنہا عراق کے مقابلے میں کیوں نہیں چھوڑا ؟ قوموں کے امور میں یادداشت کی بہت اہمیت ہوتی ہے ۔ عراق عرب دنیا کا وہ پہلا ملک بنا جس نے جولائی 1972 میں بنگلادیش کو تسلیم کر لیا پھر 1973 میں عراقی سفارت خانے سے بڑے پیمانے پر اسلحہ برآمد کیا گیا جو بلوچستان میں پاکستان دشمن عناصر میں تقسیم کرنا تھا ،بھٹو نے اس پر صدر نکسن کو خط لکھا جس میں انڈیا ، افغانستان ، سوویت یونین اور عراق کا نام مجرم کے طور پر بیان کیا ۔ بعد میں بھی عراق کی یہ شرارتیں بلوچستان میں چلتی رہیں ۔ اس حوالے سے کرش افرایم کی ایران عراق وار اور لوری میلروئی کی اسٹڈی آف ریونج میں بہت تفصیلات موجود ہیں ۔ ایران نے ٹینکر وار میں عراق پر بالا دستی پاکستان کی بدولت ہی قائم کی تھی۔ میں نے ایک بار ایک ایرانی سفارتکار سے پوچھا کہ آیت اللہ خامنہ ای اپنے خطبوں میں کشمیر کا ذکر کیوں کرتے ہیں تو اس نے جواب دیا کہ وہ جنرل ضیاء کے دور میں دی گئی پاکستانی مدد نہیں بھولے ۔ واضح سی بات ہے کہ سفارتی امور میں ہر امکان کو استعمال کیا جاتا ہے اور بڑے سے بڑے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جہاں جو قومی مفاد میں ہو وہ کیا جاتا ہے اور پاکستان آج بھی یہ صلاحیت بدرجہ اتم رکھتا ہے اور اب تک پاکستان ہی وہ واحد مسلمان ملک ہے جسکا ایران نے شکریہ ادا کیا ہے ۔یہ بھی سنیے ، یہ 30 اگست 1981 کا دن تھا ۔ ایران کے وزیر اعظم محمّد جواد بنوہر کے دفتر میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہو رہا تھا جس میں ایران کے صدر محمّد علی رجاعی بھی موجود تھے کہ اچانک دھماکہ ہو گیا ، ایرانی صدر اور وزیر اعظم سفر آخرت پر اپنے چند ساتھیوں سمیت روانہ ہو چکے تھے ۔ اس سے کوئی دو ماہ قبل 28 جون 1981 کو ایران میں اسلامک ریپبلکن پارٹی کے اجلاس کے دوران دھماکہ میں ایران کی اعلیٰ سطح کی 74 شخصیات جن میں آیت اللہ خمينی کے بعد انقلاب کی سب سے اہم شخصیت چیف جسٹس ایران آیت اللہ بہشتی بھی شہید کئے جا چکے تھے ۔خیال تھا کہ وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر اعظم کے قریبی ساتھی مسعود کشمیری بھی چل بسےہیں مگر کچھ عرصے بعد ایرانی انٹیلی جنس حیران رہ گئی جب ان کے علم میں آیا کہ مسعود کشمیری تو جعلی پاسپورٹ پر ایران سے فرار ہو چکا ہے اور اس نے ہی مجاہدين خلق کے ایما پر اپنے بریف کیس میں بم نصب کرکے وزیر اعظم کے دفتر تک پہنچایا تھا اور بم پھٹنے سے قبل بہانہ بنا کر چلا گیا تھا ۔ چنانچہ یہ تو تاریخ ہے کہ ایران میں انقلاب کے بعد قائم ہوئی حکومت کو اس قسم کے سانحات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس وقت آیت اللہ خمینی جیسی قد آور شخصیت موجود تھی اور انہوں نے ان سانحات کے باوجود انقلاب کو گرنے نہیں دیا مگر اب اس شہادت کے بعد انکی سطح کی شخصیت سر دست نظر نہیں آ رہی اور اسی وجہ سے حملہ کا آغاز انکو ہدف بناکر کیا گیا اور اسکے ساتھ ہی صدر ٹرمپ اور نيتن یاہو یہ توقع کرنے لگے کہ ایران میں حکومتی نظم و نسق تتر بتر ہو جائیگااور حکومت مخالف گروپ معاملات سنبھال لیگا ۔ انکی امیدوں کا مرکز مجاہدین خلق ہی تھے اور ابھی تک ہیں اور اسکی وجہ یہ ہے کہ کچھ واقعات حملےسے قبل ایک تسلسل کے ساتھ وقوع پذیر ہو رہے تھے ، مجاہدین خلق کی سربراہ مريم رجاوی نے کچھ وقت قبل ایران میں تبدیلی اقتدار کیلئے دس نکاتی روڈ ميپ پیش کیا پھر اس بات کو ثابت کرنے کی غرض سے کہ وہ اقتدار پر قبضہ کر سکتے ہیں امریکی و اسرائیلی حملہ سے کوئی چار روز قبل دعوے کئے گئے کہ مجاہدین خلق کے سو سے زیادہ افراد نے سپریم لیڈر کے دفتر پر حملہ کیا ہے تا کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ اگر عمومی حالات میں ہم یہ کر سکتے ہیں تو جنگی حالات میں کیا کچھ نہیں کر سکتے ؟پھر اس تنظیم نے عين حملے کے روز عبوری ایرانی حکومت کا بھی اعلان کر دیا ۔مگر تادم تحریر ایران میں کسی عوامی بغاوت کی کیفیت نہیں اور ٹرمپ کی جانب سے نئی ایرانی قیادت سے بات چیت پر رضامندی کا بیان شاید اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ہی آیا ہے کیونکہ ابھی تک ایران میں زمین پر معاملات انکی توقع کے مطابق نہیں بگڑ سکے ۔ حملے سے تین روز قبل ایرانی سفارتکاروں سے ملاقات ہوئی تو محسوس ہوا کہ ایران غیر مرکزیت کی طویل جنگ لڑنے کی حکمت عملی طے کر چکا ہے ویسے بھی اب وہاں یہ تصور مضبوط ہو چکا ہے کہ ہماری جس اعلیٰ ترین شخصیت کی جان جانے کا ہمیں دھڑکا تھا وہ تو چلی گئی اب شخصیات کی سطح پر پریشانی موجود نہیں ، وہ تیزی سے عوامی بغاوت کے خطرے سے بھی اپنے آپ کو محفوظ خیال کررہے ہیں ۔ ان کی بس یہ خواہش ہے کہ الیکٹرانک وار فیئر اور فضائی دفاعی نظام میں جو ممالک مدد دے رہے ہیں یا دے سکتے ہیں وہ مدد فراہم کرتے رہیں ، جنگ وہ خود لڑ لینگے ۔ ایرانیوں کا خیال ہے کہ اگر وہ موجودہ نظام اور اپنی تیل کی دولت پر کنٹرول قائم رکھنے میں برقرا رہے تو وہ کامیاب رہیں گے اب ایران میں موجودہ حکومت کی توقعات کے مطابق صورتحال رہتی ہے یا بدل جاتی ہے بس پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ ۔