تاریخ گواہ ہے کہ پاک افغان سرحد محض ایک جغرافیائی لکیر نہیں بلکہ نظریات، مفادات، طاقت کے توازن اور غیر ریاستی عناصر کی کشمکش کا مرکز رہی ہے۔ حالیہ کشیدگی، جسکے نتیجے میں پاکستان نے افغانستان کی سرزمین پر موجود عسکری اہداف کے خلاف آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا، اسی طویل اور پیچیدہ سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ یہ آپریشن افغان سرزمین سے بلااشتعال فائرنگ، دراندازی اور پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کے ردعمل میںہوا۔پاک، افغان تعلقات کبھی یکساں نوعیت کے نہیں رہے۔ سرد جنگ کے دور میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا۔ بعد ازاں2001 کے بعد جب نیٹوافواج افغانستان میں گھس آئیں تو پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کیخلاف عالمی جنگ کا کلیدی اتحادی قرار پایا۔2021میں طالبان کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد توقع تھی کہ سرحدی سلامتی کے مسائل میں کمی آئیگی، مگر اسکے برعکس کالعدم ٹی ٹی پی سمیت مختلف عسکری گروہوں نے افغان سرزمین کو پناہ گاہ بنا لیا۔ پاکستان بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا کہ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین کو ہمسایہ ملک کیخلاف استعمال ہونے سے روکے۔پاکستان نے اس فوجی کارروائی کوغضب للحق کا نام دیا۔ لغوی طور پر اس کا مفہوم’’حق کیلئے ردعمل‘‘ہے۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے سرحد پار موجود مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا، متعدد پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کیا اور دشمن کے کمپاؤنڈز کلیئر کیے۔ اس دوران جدید ٹیکنالوجی، ڈرون نگرانی اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا استعمال کیا گیا۔یہ حکمت عملی محدود مگر مؤثرکارروائی کی مثال ہے، جسکا مقصد وسیع جنگ نہیں بلکہ مخصوص خطرات کا خاتمہ ہے۔ پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ شہری آبادی کو کم سے کم نقصان پہنچے، تاکہ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے حوالے سے سوالات نہ اٹھیں۔بین الاقوامی قانون کے مطابق ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں Hot Persute اور Preemptive self-defense جیسے تصورات پر عالمی بحث ہو چکی ہے۔ امریکہ کی جانب سے افغانستان، دیگر علاقوں اور اب ایران میں کیے گئے آپریشنز، یا ترکیہ کی شام اور عراق میں کارروائیاں، اسی اصول کے تحت جائز قرار دی جاتی رہی ہیں۔ پاکستان بھی اسی منطق کو اپناتے ہوئے اپنے اقدام کو دفاعی اور محدود قرار دے رہا ہے۔پاکستانی بیانیے میں ترکیہ کی مثال بطور نظیر پیش کی جا رہی ہے۔ ترکیہ نے گزشتہ دہائی میں اپنی دفاعی صنعت میں نمایاں ترقی کی اور سرحد پار موجود PKKکے ٹھکانوں پربڑے پیمانے پر تسلسل کیساتھ کارروائیاں کرکےانہیں انجام تک پہنچایا ۔ ترکیہ حق بجانب تھا کہ جب تک دہشت گرد تنظیمیں ہمسایہ ملک کی سرزمین سے حملے کرتی رہیں گی، وہ اپنی سلامتی کیلئے سرحد پار کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ پاکستان میں یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ اگر ترکیہ اپنی سلامتی کیلئے ایسا کر سکتا ہے تو پاکستان بھی ایسا کرنے کا پورا حق رکھتا ہے۔اس وقت پاکستان کو امریکی صدر ٹرمپ کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے اور وہ پاکستان کے فوجی آپریشن کی تعریف بھی کرچکے ہیں ۔ اسی لیے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئےپاکستان کو ڈسنے والے سانپوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کردینا چاہیےلیکن ایسا کرتے وقت،عسکری کارروائی کو سفارتی تنہائی میں تبدیل نہ ہونے دیں۔ ہر عسکری آپریشن کا ایک داخلی سیاسی پہلو بھی ہوتا ہے۔ حکومت کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ عوام کو قائل کرے کہ کارروائی ناگزیر تھی، اسکے اہداف محدود ہیں اور یہ طویل المدتی امن کیلئےہے۔قومی بیانیہ اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب سیاسی قیادت اور عسکری ادارے ایک صفحے پر ہوں۔ تاہم اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے اس پر کھلی بحث جمہوری نظام کی مضبوطی کی علامت ہوتی ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وسیع پیمانے پر جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔ محدود اور ہدف پر مبنی کارروائی کی حکمت عملی اسی معاشی حقیقت کو مدنظر رکھ کر ترتیب دی گئی معلوم ہوتی ہے۔اگرپاکستان اس آپریشن کے ذریعے سرحدی دراندازی کو روکنے، افغان قیادت پر دبائو ڈالتےہوئےمؤثر مکالمےپر آمادہ کرنے اور عالمی برادری کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ واقعی ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔لیکن اگر کارروائی طویل تنازع میں بدل گئی، عالمی دباؤ بڑھا یا داخلی سیاسی تقسیم گہری ہوئی تو یہ موقع ضائع بھی ہو سکتا ہے۔چنانچہ پاکستان کو چاہیے کہ عسکری دباؤ کیساتھ ساتھ سفارتی چینلز بھی کھلے رکھے، سرحدی میکانزم مضبوط کرے اور انٹیلی جنس تعاون کے امکانات تلاش کرے۔علاقائی فورمز، مثلاً شنگھائی تعاون تنظیم، میں بھی اس مسئلے کو اٹھایا جا سکتا ہے تاکہ اسے دوطرفہ تنازع کے بجائے علاقائی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جائے۔آپریشن غضب للحق محض ایک فوجی آپریشن نہیں بلکہ ایک تاریخی لمحہ ہے جو پاکستان کی سلامتی پالیسی کی سمت متعین کر سکتا ہے۔ یہ لمحہ جذباتی نعروں سے زیادہ سنجیدہ حکمت عملی کا متقاضی ہے۔پاکستان کیلئے اصل سنہری موقع یہی ہے کہ وہ اس کارروائی کو ایک جامع سلامتی فریم ورک میں ڈھال دے،جہاں سرحدی تحفظ، داخلی استحکام، معاشی بحالی اور علاقائی سفارت کاری ایک دوسرے سے جڑے ہوں۔اگر یہ توازن قائم ہو گیا تو آنیوالی نسلیں اس دور کو ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر یاد کریں گی، وہ موڑ جہاں طاقت کا استعمال محض ردعمل نہیں بلکہ دیرپا امن کی بنیاد بن گیا۔