• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2026 ء کے رمضان المبارک میں امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ لبنان تک پھیل چکی ہے۔ اس جنگ میں مسلم ممالک کو شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مسلمان آپس میں لڑیں۔ اسرائیل کے وزیراعظم نتین یاہو اور امریکی صدر ٹرمپ نے بہت سوچ سمجھ کر رمضان المبارک میں ایران پر حملہ کیا۔ انہیں معلوم تھا کہ ایران کی طرف سے جوابی حملے صرف اسرائیل پر نہیں بلکہ ایران کے اردگرد موجود عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر بھی ہونگے اور پھر مسلمان آپس میں لڑیں گے۔ یہ جنگ شروع کرنیوالے فاشسٹ رمضان المبارک میں لڑی جانے والی جنگوں کی تاریخ سے واقف ہوں یا نہ ہوں لیکن مسلمانوں کو تو اپنی تاریخ معلوم ہے۔ اسلام کی پہلی جنگ غزوہ بدر کو قرآن نے یوم الفرقان یعنی فیصلے کا دن قرار دیا۔ یہ جنگ دو ہجری بمطابق 13مارچ 624 ء کو بدر حنین کے میدان میں لڑی گئی۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سربراہی میں 313مسلمانوں نے ابو جہل کے ایک ہزار سپاہیوں کے لشکر کو رمضان المبارک میں شکست دی تھی۔ غزوہ خندق پانچ ہجری بمطابق مارچ 627 ء میں لڑی گئی۔ اس جنگ کا اعلان رمضان میں ہوا تھا۔ مسلمانوں نے رمضان میں خندق کھود کر اپنا دفاعی حصار قائم کیا۔ اس جنگ میں تین ہزار مسلمانوں نے دس ہزار کے لشکر کو شکست دی۔ 710 ء کے رمضان المبارک میں طارق بن زیاد نے اندلس (اسپین) کو فتح کیا ۔ 1187ء کے رمضان المبارک میں صلاح الدین ایوبی نے جنگ حطین میں بیت المقدس کو آزاد کرایا ۔ 1973 ء میں مصر، اردن، عراق اور سوڈان نے ملکر نہر سوئز سے قبضہ چھڑانے کیلئے اسرائیل پر حملہ کیا۔ یہ جنگ بھی رمضان میں لڑی گئی اور اس جنگ میں پاکستان ایئر فورس کے 16ہوا بازوں کو مصر اور شام بھیجا گیا جنہوں نے متعدد اسرائیلی طیارے تباہ کئے۔ اس جنگ میں کامیابی کی وجہ مسلم ممالک کا اتحاد تھا ۔ اب 2026ء کے رمضان المبارک میں شروع ہونے والی جنگ پر نظر ڈالئے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اُس نے ان مسلم ممالک پر جوابی حملے کئے جن کی فضائی حدود سے ایران پر حملے ہوئے۔ اسکا ثبوت کویت کی فضا میں تباہ ہونے والے تین امریکی طیارے ہیں، تا ہم سعودی عرب نے ایران کو یقین دلا دیا ہے کہ اُسکی فضائی حدود ایران کیخلاف استعمال نہیں ہونگی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان عرب ممالک نے اپنی سرزمین پر امریکا کو فوجی اڈے بنانے کی اجازت کیوں دی؟ 1990ء میں عراق نے سعودی عرب پر حملہ کیا تو امریکا نے سعودی عرب کے دفاع کیلئے اپنی فوج وہاں بھیج دی، کئی دیگرعرب ممالک نے بھی اپنے دفاع کیلئے اپنی سرزمین پر فوجی اڈے قائم کرا دیئے۔ ان فوجی اڈوں کے رد عمل میں القاعدہ جیسی تنظیمیں پیدا ہوئیں۔ وقت گزرنے کے بعد عرب ممالک کو احساس ہو رہا ہے کہ امریکا اُن کے دفاع میں نہیں بلکہ اسرائیل کے دفاع میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے ۔ اب کسی کو شک نہیں رہنا چاہئے کہ نتین یاہو اور ٹرمپ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کو آپس میں لڑا رہے ہیں۔ ان منصوبوں کی گواہی امریکی صحافی ٹکر کارلسن دے رہے ہیں۔ ایران نے اپنے سستے ڈرون طیاروں کی مدد سے اسرائیل سمیت کچھ عرب ممالک میں 27ٹھکانوں پر جوابی حملے کئے۔ ان حملوں کو روکنے کیلئے انتہائی مہنگے میزائل استعمال کئے گئے لیکن یہ مہنگے میزائل تمام سستے ڈرون روکنے میں ناکام رہے۔ خلیج کے عرب ممالک میں بڑے نقصان کے علاوہ تیل کی قیمتوں اور اسٹاک مارکیٹوں پر بہت منفی اثر پڑا ہے ۔یہ جنگ لمبی ہو گئی تو ٹرمپ کیساتھ ساتھ مسلم دنیا میں ان کے اتحادیوں کیلئے بڑی مشکلات کھڑی ہو سکتی میں- ایران میں رجیم چینج کے خواب کی تعبیر کسی خلیجی ملک سے بھی برآمد ہو سکتی ہے۔

ایران کو خامنہ آئی کی صورت میں ایک شہید مل گیا ہے جو کئی صدیوں تک امریکا کے خلاف نفرت کی علامت بنا رہیگا۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ اس جنگ کو شیعہ سنی لڑائی بنانا چاہتے ہیں لیکن یہ جنگ کفر اور اور اسلام کی جنگ بن رہی ہے۔ اسرائیل اور امریکا کی کوشش ہے کہ ایران کے کرد اور بلوچ علیحدگی پسندوں کی مدد سے مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑادیں ۔ اگر یہ فارمولا ایران میں کامیاب ہو گیا تو کیا اسکے اثرات ترکی پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک پر نہیں پڑیں گے؟ وہ مسلمان جنہوں نے رمضان المبارک میں جنگ حطین کے ذریعہ بیت المقدس کو آزاد کرایا آج 2026ء کے رمضان المبارک میں بیت المقدس میں نماز ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ اسرائیلی فوج نے بیت المقدس کے دروازے نمازیوں پر بند کر دیئے۔ قرآن نے مسلمانوں کو تفرقہ بازی سے روکا اور کہا کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ لیکن کچھ مسلم ممالک نے تو اپنا دفاع بھی کافروں کے سپرد کر دیا۔ واضح رہے کہ قرآن سب کافروں یا غیر مسلموں کو ایک نظر سے نہیں دیکھتا ۔ قرآن کی سورۃ الممتحنۃ میں کہا گیا ہے کہ ’’اللّٰہ تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں لڑائی نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ، کہ تم ان سے نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو بلاشبہ اللّٰہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے“ قرآن کہتا ہے کہ جو تمہارے ساتھ برائی نہ کرے اُس کے ساتھ برائی نہ کرو - سورہ الانعام میں کہا گیا ’’اے مسلمانو ! تم اُن کے جھوٹے معبودوں کو بُرا نہ کہو جنہیں یہ کافر لوگ مانتے ہیں ، مبادا وہ جہالت کے باعث اللّٰہ کو بُرا کہنے لگیں‘‘۔ سورہ البقرہ میں قرآن نے مسلمانوں کو سمجھا دیا کہ یہود اور نصاریٰ اس وقت تک تم سےخوش نہ ہونگے جب تک آپ اُن کا دین نہیں اپناتے لیکن سورہ الکٰفرون میں یہ بھی کہہ دیا کہ تمہارا دین تمہارے لئے مبارک اور میرا دین میرے لئے مبارک ہو۔قرآن غیر مسلموں کے ساتھ انصاف اور رواداری کا سبق دیتا ہے لیکن سورہ آل عمران میں بار بار وارننگ دیتا کہ اے ایمان والو! اپنوں کو چھوڑ کر دوسروں کو راز دار نہ بناؤ وہ تمہارے خلاف فتنہ انگیزی میں کمی نہیں کرتے اور تمہاری تکلیف سے خوش ہوتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ غیر مسلم تم سے لڑیں تو اُن کے خلاف لڑو اور اگر امن پر مائل ہو جائیں تو آپ بھی امن پر مائل ہو جائیں ۔ میں کوئی عالم دین نہیں۔ عام سا مسلمان ہوں۔ رمضان المبارک میں قرآن کی کچھ سورتوں کا ترجمہ پڑھا تو سوچنے لگا کہ اس کتاب میں موجود ہدایات کے باوجود ہم رمضان المبارک میں ایک دوسرے سے کیوں لڑرہے ہیں ؟ ہم اپنی تاریخ سے سبق کیوں نہیں سیکھتے؟ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مسلمان کمزور ہونے کے باوجود متحد رہیں تو 313 کا لشکر ایک ہزار کے لشکر کو شکست دے سکتا ہے اور مسلمانوں کا اتحاد جنگ حطین کے ذریعہ بیت المقدس پر قبضہ ختم بھی کروا سکتا ہے۔ قرآن نے سورہ بنی اسرائیل میں کہا ہے کہ ’’جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو ہم ان میں خوشحالی میں مگن لوگوں کی اکثریت کر دیتے ہیں ۔ تو وہ احکام الٰہی کی نافرمانی شروع کر دیتے ہیں ۔ پھر ان پر حجت تمام ہو جاتی ۔ پھر ہم اسے پوری طرح برباد کر دیتے ہیں‘‘۔ 2026ء کے رمضان المبارک میں صرف ایران پر نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں پر صیہونی انتہا پسندوں نے ایک جنگ مسلط کی ہے۔ ہمیں یا تو اس جنگ کو روکنا ہے یا پھر متحد ہو کر اُن سے جنگ لڑنی ہے جن کا اصل مقصد بیت المقدس میں صیہونی عبادت گاہ بنانا ہے ۔ یہ مقصد امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیتھ کی زبان سے دنیا سُن چکی۔ یہ شخص صرف اسلام کا نہیں سیکولرازم اور اقوام متحدہ کا بھی دشمن ہے۔ مسلمانوں کے پاس دفاع کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ مسجد اقصیٰ کا تحفظ صرف فلسطینیوں اور ایران کی نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے ۔

تازہ ترین