یہ سنہ2000ءکے ابتدائی زمانے کاذکر ہے ۔ میں فلوریڈا پہنچی تھی کہ مجھے سات یونیورسٹیوں میںفیمنسٹ شاعری اور خاص کر پاکستانی خواتین کے حوالے سے بات کرناتھی اور لیکچر دیتے ہوئے میں نےکہا کہ کیسے نقشے کے ذریعے سے مشرق وسطیٰ کےممالک میں جنگ چھڑنے اور بے ضرورت دن رات لوگوں پر بم برسانے اور آرام سے زندگی گزارنے والوں کو بے گھر، بے امان اوردر بدر کرکے، حکومتوں کو تہس نہس اور عراق ،شام،لیبیا اور دیگر ممالک میں زمینی اور ہوائی حملوں کو کئی مہینوں تک چلائے رکھاگیا؟ ہر ملک کے سربراہ کو داخل زنداں کیا گیا اور جسے چاہا،کسی کو قتل کیا کسی کو پھانسی پہ چڑھایا اور سب سے قدیم ثقافت کو برباد کرکے، ہر طرح کے ذخائر اورمعدنیات پر قبضہ کرکے، امریکہ اور دیگر قوتیں، دنیا کو بتارہی ہیں کہ تمام سربراہ ، کرپٹ اور عوام نان ونفقہ کیلئے ترستے تھے۔ تباہی پھیرنے والے ان ممالک کے نظام زندگی ایسے مفلوج کر گئے کہ آج تک مضبوط نظام حکومت کا ماحول نہیں بن سکا۔ کویت پھر بھی سنبھل گیا، ادھرترکی میں کئی بار نظام حکومت کے خلاف ، نوجوانوں نے ایسے مظاہرے کیے کہ ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے مگر طیب اردوان نے طوفانی تھپیڑے کھا کربھی اقتدار قائم رکھا۔
گزشتہ دوسال سے امریکی حمایت زدہ اسرائیل، فلسطینیوں کوبلاجواز بے گھر کررہا تھا۔ لاکھوں مارے گئے، دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے اقوام متحدہ نے بار بار اس ظلم کی آگ کو برسنے سے روکنے کیلئے عالمی سطح پر آواز اٹھائی او ر اب نیتن یاہو نے اپنے ملک کو ہی عظیم بنانے اور بچے ہوئے فلسطینیوں کو فرات کے کنارے سے بھی بے گھر کرنے کیلئے ابھی تک اسپتالوں اور یتیم خانوں تک پہ ڈرونز اور بموں کی بارش میں بچوں تک کو بے کفن چھوڑ دیا۔ وہی اسرائیل جو ٹرمپ کا ساتھی تھا جس نے وادی میں امن کے معاہدے پر دستخط کرنے کیلئے زحمت نہ کی اور ٹرمپ کی مدح سرائی کرتارہا۔ ٹرمپ جب ابھی نظام حکومت چلانے کے ابتدائی مراحل میں تھا انڈیا نے پاکستان پر بغیر کسی نوٹس کے ہوائی حملے شروع کر دیئے کہ اگر ٹرمپ یہ نا دیکھ لیتا کہ پاکستان کے شاہ سوار انڈین جہازوں کو کاغذ کے پرزوں کی طرح زیر کررہے تھےکہ چند گھنٹے کی یہ گھن گرج ٹرمپ کےدخل در معقولات کے باعث انڈین جہازوں اورپرواز کاروں کو زمین پہ ڈھیر ہوتا دیکھ کر ،انڈیا ہی کی درخواست پریہ ہوائی جنگ خاموش ہوگئی اور ٹرمپ نے خود کو فتح کی منزل پہ کھڑا کرکے، پاکستان سے ضد کی کہ وہ اس جنگی جنوں کو ختم کرنے کے انعام کے طور پر عالمی سطح پر عالمی امن انعام کے لئے، اس کا نام اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے لےکر ساری دنیا کو بتائے کہ کتنے ہزار لوگوں کو قتل ہونے سے بچاکر ٹرمپ نے یہ عزت خودبخود اپنے نام کی ۔ ہر چندعالمی امن کمیٹی نے اسکی ہاؤ ہو پہ کوئی توجہ نہ دی۔ مگرٹرمپ نےپاکستانی حکام کی اتنی تعریف کی اور ساری دنیا کے سامنے پاکستان کی شخصیات کو اپنا ذاتی دوست کہتا رہا اور دنیا میں آٹھ جنگیں رکوانے اور قوموں کو زندگی بخشنے کا اعزاز خود کو دلواتا ،علی الاعلان خود کو فاتح عالم قرار دیتارہا۔
ان دس پندرہ برسوں کے جنگی تنازعات سے بس ایک ملک بچا رہا کہ وہاں مذہبی قوتیں پچاس سال سے آمریت میں نوجوانوں کو ہوا میں اڑنے نہیں دے رہی تھیں۔مہساامینی جیسی نوجوان جسکے سر پر دوپٹہ پوری طرح نہیں تھا۔ اس کوزدو کوب کر کےجیل میں ڈالا اور آخر زخموں کی تاب نہ لاکروہ فوت ہوگئی۔ پہلی دفعہ ایرانی خواتین نے اپنے بال کاٹے،سڑکوں پہ آکر دوپٹے جلانا شروع کیے۔ وہ خاتون جسے عالمی ادبی اعزاز دیاگیا تھا۔ اسکو جیل سے رہا نہ کیا اور اسکی بیٹی نے اپنی ماں کا انعام وصول کیا ۔ٹرمپ اور نیتن یاہو، ایران کی صلاحیت سے نالاںتھے اور ایٹمی سامان کی تیاریوں کی آڑ میں ایک دن دوپہر کو دونوں شیطان ایک ہوکرحملہ آور ہوئے اور ایٹمی الزامات لگاتے ہوئے اسکولوں کی بچیوں کی بسوں کے علاوہ بارہ شہروں پر بیک وقت بم گراتے خوش ہوتے رہے اور اس مضبوط نظام کو، آیت اللہ خامنہ ای جسے39سال سے چلا رہے تھے ، فنا کرنے کے درپے تھے۔ ٹرمپ اور یاہو نے اپنی فورسز کو کئی مہینوں سے آقا آیت اللہ کے نشانات تلاش کرنے کے لئےلگا رکھا تھا آخر ایک دن صبح، ایسے بم پھینکے کہ آیت اللہ کے پورے خاندان کے علاوہ98افراد جو اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ انکو زیر زمین ہی مارڈالا۔
دنیا بھر کے مسلمان اتنے بڑے حادثے کو برداشت نہ کرسکے اور بہت سےشمالی علاقوں میں کرفیو لگانے کی نوعیت تک آگئی۔ ابھی ٹرمپ کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ پارلیمنٹ سے پوچھے بغیر وہ ایسے اقدامات نہیں کرسکتا مگر اسکے ساتھ دوسرا شیطان بھی دیکھا اور ساری دنیا نے یہ زور آوری دیکھی۔ دنیا بھر میں مظاہرے جاری رہے اور ابھی اسرائیلی کارپردازان پھر ایک مرتبہ صدر کے محل پہ حملہ آور ہوئے۔ یہ مضبوط شیعہ حکومت88افراد کی کمیٹی پہ مشتمل تھی۔ یقین ہے وہ جلد ہی بن جائےگی اور یہ دونوں ظالم پھر حملہ آور ہوں گے ۔ ٹرمپ اب بار بار کہہ رہا ہے کہ درمیان کا راستہ نکالنا چاہئے۔