• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹینکر پر حملہ، عراق نے تیل کی بندرگاہیں بند کر دیں

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

عراق میں ایک فیول ٹینکر پر حملے کے بعد آئل پورٹ پر تمام آپریشن مکمل طور پر معطل کر دیے گئے، جبکہ تجارتی بندرگاہیں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔

عراق کی جنرل کمپنی برائے پورٹس کے سربراہ فرحان الفرتوسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ٹینکر عراق کے صوبے بصریٰ میں واقع امِ قصر نامی بندرگاہ سے تیل لوڈ کر کے روانہ ہوا تھا جب اسے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

اس واقعے میں عملے کا 1 رکن ہلاک ہوا جبکہ 38 افراد کو بچا لیا گیا ہے، جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

عراقی بندرگاہی سیکیورٹی حکام نے اس سے قبل بتایا تھا کہ عراقی فیول آئل لے جانے والا غیر ملکی ٹینکر اس وقت شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا جب اسے دھماکا خیز مواد سے ایرانی کشتیوں نے نشانہ بنایا۔

میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فرحان الفرتوسی نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات سے لدا ٹینکر لوڈنگ کے عمل کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا۔

فرحان الفرتوسی نے یہ بھی بتایا کہ یہ ٹینکرز عراقی ساحل سے تقریباً 30 میل (48 کلومیٹر) کے فاصلے پر موجود تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید