عراق نے فیول ٹینکر پر حملے کے بعد تمام آئل ٹرمینلز پر آپریشن مکمل طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عراق کی جنرل کمپنی برائے پورٹس کے سربراہ فرحان الفرتوسی نے آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تجارتی بندرگاہیں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔
عراق کی جنرل کمپنی برائے پورٹس کے سربراہ فرحان الفرتوسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 2 غیر ملکی ٹینکر عراق کے صوبے بصریٰ میں واقع امِ قصر نامی بندرگاہ سے تیل لوڈ کر کے روانہ ہوئے تھے جب انہیں حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
اس واقعے میں عملے کا 1 رکن ہلاک ہوا جبکہ 38 افراد کو بچا لیا گیا ہے، جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
عراقی بندرگاہی سیکیورٹی حکام نے اس سے قبل بتایا تھا کہ عراقی فیول آئل لے جانے والا غیر ملکی ٹینکرز اس وقت شعلوں کی لپیٹ میں آ گئے جب انہیں دھماکا خیز مواد سے ایرانی کشتیوں نے نشانہ بنایا۔
میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فرحان الفرتوسی نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات سے لدا ٹینکر لوڈنگ کے عمل کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا۔
فرحان الفرتوسی نے یہ بھی بتایا کہ یہ ٹینکرز عراقی ساحل سے تقریباً 30 میل (48 کلومیٹر) کے فاصلے پر موجود تھا۔