• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ کے بعد مذاکرات، ایران کی پوزیشن مضبوط یا کمزور؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی خبریں سامنے آئی ہیں، تاہم زمینی حقائق اس معاملے کو نہایت پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری ہیں، لیکن ایرانی حکام نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے اسے عالمی تیل کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

باخبر سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور مصر نے حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطہ قائم کیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کے مؤقف میں واضح فرق کے باعث جنگ بندی کے امکانات ابھی بھی کمزور ہیں۔

28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد جن میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو نقصان پہنچا، ایران نے اپنی شرائط مزید سخت کر لی ہیں، ایران اب صرف جنگ بندی نہیں بلکہ ایسی بعد از جنگ صورتِ حال چاہتا ہے جس میں اس کی سیکیورٹی اور معاشی مفادات کی ضمانت دی جائے۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ اسے دوبارہ حملوں سے بچاؤ کی ضمانت چاہیے، پابندیوں میں نرمی اور نقصانات کا ازالہ ضروری ہے، آبنائے ہرمز میں نئی شرائط نافذ کی جا سکتی ہیں۔

آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، ایران کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک کارڈ بن چکا ہے، اس علاقے میں کشیدگی کے باعث عالمی تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے۔

اگرچہ امریکا کا دعویٰ ہے کہ ایران کی 90 فیصد میزائل صلاحیت تباہ ہو چکی ہے، مگر ایران نے حالیہ حملوں سے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

ناٹنز نیوکلیئر فیسلیٹی پر حملے کے بعد ایران نے اسرائیل کے شہروں پر میزائل داغے، جس سے درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

امریکا اب بھی ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا چاہتا ہے، تاہم اطلاعات کے مطابق اب میزائل پروگرام پر کچھ نرمی دکھائی جا رہی ہے، جس کے تحت ایران کو محدود تعداد میں میزائل رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

ایران کو امریکا پر اعتماد نہیں، کیونکہ ماضی میں مذاکرات کے دوران بھی حملے کیے گئے، یہی وجہ ہے کہ ایران اب زیادہ سخت اور محتاط حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس وقت کمزور ہونے کے باوجود ایک اہم اسٹریٹجک پوزیشن میں ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ کی وجہ سے، تاہم عالمی طاقتیں ایران کو اس حد تک مضبوط دیکھنے کے لیے تیار نہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید