• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا اور اسرائیل نے عراقچی اور قالیباف کو عارضی طور پر ہدف کی فہرست سے نکال دیا

امریکا اور اسرائیل نے عارضی طور پر دو ایرانی عہدیداروں وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کو ہدف کی فہرست سے نکال دیا۔

امریکی جریدہ کے مطابق امریکی حکام نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے عارضی طور پر دو سینئر ایرانی عہدیداروں کو اپنے ہدف کی فہرست سے نکال دیا ہے تاکہ وہ ممکنہ امن مذاکرات کی تلاش میں رہیں۔

حکام نے بتایا کہ ایرانی پارلیمانی اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو چار یا پانچ دنوں کے لیے ہدف کی فہرست سے ہٹایا گیا ہے کیونکہ صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا دروازہ کھول دیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ترکی، پاکستان اور مصر سے تعلق رکھنے والے ثالث جلد امریکا اور ایران کے مذاکرات کاروں سے ملاقات کے لیے زور دے رہے ہیں تاکہ جنگ کو روکنے کے بارے میں بات چیت کی جا سکے۔

دوسری طرف حکام کا کہنا ہے کہ کامیابی کے امکانات کم ہیں کیونکہ امریکا اور ایران کے مطالبات کے درمیان بڑا فرق ہے۔

ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا سے کوئی بات چیت نہیں ہورہی۔

غیرملکی میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ امریکا مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیج رہا ہے، ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ امریکا سے مذاکرات نہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید