• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کی حکومت کو فوری گرنے کا خطرہ نہیں: امریکی انٹیلیجنس

امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹس کے مطابق مسلسل امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران کی حکومتی قیادت اب بھی مضبوط ہے اور فوری طور پر حکومت کے خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے واقف ذرائع نے بتایا ہے کہ متعدد انٹیلی جنس رپورٹس میں یکساں تجزیہ سامنے آیا ہے کہ ایرانی نظام اب بھی قائم ہے اور حکومت کو عوام پر کنٹرول حاصل ہے۔

ذرائع کے مطابق تازہ ترین انٹیلی جنس رپورٹ چند روز قبل مکمل کی گئی جس میں کہا گیا کہ تقریباً 2 ہفتوں سے جاری امریکی اور اسرائیلی بمباری کے باوجود ایران کی سیاسی قیادت کا ڈھانچہ برقرار ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے پہلے دن یعنی 28 فروری کو ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت کے باوجود ایرانی مذہبی قیادت میں اتحاد برقرار ہے۔

ایرانی علماء کی اعلیٰ کونسل نے حال ہی میں خامنہ ای کے بیٹے مجتبی خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر قرار دیا ہے۔

امریکا اور اسرائیل نے ایران میں فضائی دفاعی نظام، جوہری تنصیبات اور اعلیٰ فوجی قیادت کو نشانہ بنایا ہے، ان حملوں میں ایران کی طاقتور فورس پاسداران انقلاب کے کئی اعلیٰ کمانڈر بھی مارے جا چکے ہیں، تاہم انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق آئی آر جی سی اور عبوری قیادت اب بھی ملک کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں اور سیاسی دباؤ کے باعث اشارہ دیا ہے کہ امریکا جلد اپنی بڑی فوجی کارروائی ختم کر سکتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اگر ایران کی سخت گیر قیادت برقرار رہی تو جنگ کا قابلِ قبول خاتمہ تلاش کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے ممکنہ طور پر زمینی فوجی کارروائی اور اندرونی عوامی احتجاج درکار ہو گا، جبکہ امریکی انتظامیہ نے ایران میں فوج بھیجنے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا ہے۔

ادھر امریکی انٹیلی جنس نے یہ بھی اندازہ لگایا ہے کہ عراق میں موجود ایرانی کرد گروپس فی الحال ایرانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف مؤثر جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید