8 مارچ عالمی سطح پر خواتین کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس میں فخر کا جزو بھی شامل ہوتا ہے۔ بیداری کی تحریک چند سو خواتین سے بڑھ کر ہزاروں تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان میں ہم نے ضیاءالحق کے زمانےمیں بھی جلوس نکالےعورتوں کے نغمے گائے، اسٹریٹ تھیٹر کیے۔ یہ سب کچھ پاکستان کے تمام شہروں میں ہوتا رہا ہے۔ دفعہ 144 کے باوجود خواتین نعرے لگاتی چلتی تھیں۔
مبارک ہو فرزانہ، طاہرہ اور شبانہ ان چند عورتوں سے ڈر کر اسلام آباد پولیس اور حکومت نےان خواتین کو نہ صرف اٹھا لیا بلکہ ان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔یہ کوئی نئی بات نہیں مگر یہ حکومت صرف اسلام آباد ہی میں ڈری ہوئی تھی۔ ورنہ ملک بھر میں نوجوان لڑکیوں کے ساتھ مجھ جیسی بزرگ خواتین بھی شامل تھیں اور کہیں کی پولیس نے دفعہ 144 کا بہانہ نہیں کیا۔
ہم سب ترقی اور امن پسند خواتین توقع کر رہی تھیں کہ اس عالمی دن کی تکریم میں پاکستان میں جو 9مئی کے جرم میں جو خواتین ڈیڑھ سال سے جیلوں میں بند ہیں، ان کو بھی کم از کم ایک دن آزادی منانے کو چھوڑ دیا جائے گا۔ ساتھ ساتھ ایران میں عالمی انعام یافتہ خواتین جو اپنی تحریر کے باعث زندان میں ہیں ان کو آزاد کر دیا جائیگا کہ مذہبی درشتی کا زمانہ 47سال سے ایران میں جاری تھا۔ توقع تھی کہ جیسے سعودی بادشاہت نےخواتین کیلئے نوکری اور آزادی کے دروازے کھولے ہیں۔ شاید اس کا اثر ایران پہ بھی ہو کہ تمام نوجوان ایرانی نسل ذہنی اور مذہبی آزادی چاہتی ہے۔ ہمارے شمالی علاقہ جات میں جرگہ کے ذریعہ مقدمات اور جائیداد کی تقسیم کی جاتی ہے۔ ہر چند ہم جیسے بوڑھے جرگہ سسٹم کو مقامی کونسلوں کی حیثیت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ عوام اپنے علاقے کی صفائی، تعلیم اور صحت کے معاملات میںشامل ہوں۔اس طرح پوری آبادی کو شامل کرنے سے احساس ذمہ داری بچوں سے لے کر استادوں تک میں پیدا ہو اور اپنے غسل خانے صاف رکھنے اور باتھ روم سے نکل کر ہاتھ دھونے کی عادت پڑے۔
8 مارچ کو منانے کیلئے 40مرد اور 40خواتین موجود تھیں۔اسلام آباد کے ایک چھوٹے سے تھانے میں ان سب کو ٹھونس دیا گیا اور معافی نامے کی شرائط سے لے کر، طرح طرح کے بہانے بنا کر رات دو بجے تک ان سارے لوگوں کو پھنسا کے رکھا۔ یہ ہے خلاصہ قانون کی پاسداری کا۔ ان تمام پولیس کی عورتوں اور مردوں سے پوچھا جاتا ہے کہ تم لوگ 8مارچ کو خواتین کا دن منانے کے خلاف ہو تو ایک بھی مخالفت میں نہ بولتا۔ایران کے موجودہ حالات اورمذہب کی صدیوں پرانی تشریح کو آج کے اصلاح پسند ایرانی علامہ اور دانشوروں کے مقابل لاکر یہ تجزیہ کیا جائے کہ اسلام میں اس زمانے کو یاد کرو جب خواتین بھی مسجد میں نماز پڑھتی اور حضرت عائشہ اور حضرت خدیجہ بھی تشریح مذہب کرتے ہوئے ، عورت اور مرد کی مساوی اہمیت بیان کرتی تھیں اور حضرت زینب نے جس طرح یزید کے دربار میں تقریر فرمائی۔اس مذہبی مقدس تشریح کو آج کے دانشوروں اور 1992ءمیں اصلاح پسند ایرانی مشاورت کو قابل عمل سمجھتے ہوئے،یہ اعلان کیاجائے کہ بنیادی حقوق کی مساوات بھی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ عورتوں پر پابندی لگا کر ان کی بلوغت اور ذہنی ترقی کو معکوس نہیں کر سکتے ہیں۔
ایسی ہی کوشش فروغ فرخ زاد کی شاعری پر تنقید کرنیوالوں نے بھی کی تھی کہ آج اس کی شاعری میں نسائی ضرورتوں کا جس طرح بیان کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں اس کی شاعری کے تراجم پڑھے اور پڑھائے جاتے ہیں۔
دور جانے کی ضرورت نہیں۔ غزہ کے علاقے میں ہزاروں خواتین کو بیدردی سے بچوں سمیت ہلاک کیا گیا۔ مگر آنسوئوں نے ان کے حوصلے پست نہیں کیے۔ اس وقت بھی ایران میں آیت اللہ کی شہادت پہ غم و غصہ یہ بتا رہاہے کہ امریکہ اور اسرائیل جیسے چنگیزوں کو ایرانی پسند نہیں کرینگے۔ رضا شاہ پہلوی کے دور کو تمام سنجیدہ حلقوں نے ناپسند کیا تھا۔47سال کی اس مذہبی آمریت کو شکنجہ ڈھیلا کرنا پڑے گا۔ بہت دور جانے کی ضرورت نہیں، گزشتہ تین سال سے طالبان نے افغانی آزادی اور مساوات پسند عورتوں کیلئے تعلیمی ادارے بند کر کے بچوں کی ولادت میں بھی لیڈی ڈاکٹروں پر پابندی لگادی۔ یہ کونسی انسانیت ہے۔ گزشتہ تین سال سے عورتیں چھپ کر بچوں کو پڑھا رہی ہیں اور نقاب پہن کر سریلے نغمے چھپ چھپ کر سنا رہی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک نے بھی اس وحشی عمل کو برداشت کیا اور اب جب عالمی امن پسندوں نے طالبان کی مسلسل خون کی ہولی اور حملوں کو ناپسند کیا ہے۔ پھر بھی ابھی تک اسکول اور یونیورسٹیوں کوپہلے کی طرح آزاد اور علم کے فروغ کیلئے،مساوی سلوک کیلئے دنیا بھر کی خواتین اور دانشور شور مچا رہے ہیں۔مگر طالبان کی حکومت اپنی مائوں اور بہنوں کو انسانیت کے خانے سے الگ کر کے، بچے پیدا کرنے کی مشین بنا کر خوش ہیں۔ پاکستان کے جرگوں اور شمالی علاقوںمیں بچوں کی پیدائش کو قابو میں رکھنے کے عالمی شور و غوغا کو سمجھنے کی اہمیت کو بھی ہماری مساجد کے علما نمازیوں کو نہیں سمجھاتے ۔ اگر وہ اس ضرورت کی اہمیت کو سمجھتے تو بنگلہ دیش کے مولویوں کی تعلیمات کہ ’’گھر جا کر گولی کھا لینا‘‘ کے سبق کو پاکستان میں بھی آبادی قابو میں رکھنے کیلئے عملدرآمد کیا جا سکتا تھا۔ ہماری حکومت آئے دن علما کو بلا کر، کبھی نہیں کہتی کہ بچوں اور لڑکیوں کےساتھ ہونے والی زیادتیوں کو قابو میں کرنے کی تجویز پر عمل کریں۔ اسمبلی میں بیٹھ کر، سرکاری ہدایات میں ان عوامل پہ عملدرآمد اور آدھی آبادی قابو میں رکھنے پہ فخر محسوس کریں۔