• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم دے دیا۔

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق سید مراد علی شاہ کی گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، اس موقع پر چھوٹے آبادگاروں پر خصوصی توجہ کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب نے تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ مجموعی ہدف کو پورا کرنے کیلئے خریداری کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے۔

صوبائی وزیر نے بریفنگ میں بتایا کہ خریداری کےلیے 9 لاکھ 73 ہزار 900 میٹرک ٹن کے مجموعی ہدف مقرر کیا گیا، امدادی قیمت 3500 روپے فی 40 کلو گرام ہے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ضلع جامشورو میں 23,150 میٹرک ٹن ہدف، اب تک 450 میٹرک ٹن گندم خرید کی گئی۔

صوبائی وزیر نے یہ بھی کہا کہ گندم کی خریداری کا عمل جاری ہے اور کاشتکاروں تک رسائی بڑھا رہے ہیں، مقررہ اہداف حاصل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں۔

دوران اجلاس وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے ہی گندم خریداری کی جائے، تمام اضلاع میں گندم کی خریداری مراکز فوری متحرک کیے جائیں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ کاشتکاروں کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے جبکہ اپنا باردانہ استعمال کرنے والے ہاریوں کو معاوضہ دیا جائے۔

سید مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ منظور شدہ نرخ کے مطابق معاوضہ دیا جائے تاکہ آبادگاروں کی حوصلہ افزائی ہو، سندھ گندم آبادگار سپورٹ پروگرام میں شامل چھوٹے کاشتکاروں سے گندم خریداری جاری ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ گندم کی خریداری میں کسی قسم کی سست روی برداشت نہیں کی جائے گی، محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو فوری طور پر خریداری تیز کرے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تمام اضلاع اپنے نظام کو فعال بنائیں اور بلا تاخیر ہدف حاصل کریں، کم کارکردگی والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جائے۔

انہوں نے گندم خریداری کے عمل میں شفافیت اور کارکردگی پر زور دیا اور متعلقہ حکام کو منڈی کی صورتحال پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی تاکہ ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی نقل و حرکت روکی جائے۔

مرا د علی شاہ نے ہدایت کی کہ منڈی کے استحکام کےلیے اقدامات تیز کیے جائیں، غذائی تحفظ اور قیمتوں کے استحکام کے لیے گندم کی خریداری کا ہدف ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے آبادگاروں سے رابطہ بڑھایا اور مسائل حل کیے جائیں، زراعت ایک ترجیحی شعبہ ہے اور ہم ہاریوں کے مفادات کا تحفظ کریں گے، غذائی تحفظ یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

قومی خبریں سے مزید