یہ 2007 کی بات ہے ، نواز شریف جلاوطنی ختم کرکے وطن عزیز لوٹ رہے تھے اور مسلم لیگ ن کیلئے مشرف دور کی آخری آزمائشوں میں سے ایک کا سامنا تھا ۔ میں سابق صدر پاکستان جسٹس رفیق تارڑ مرحوم اور اس وقت کے مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکرٹری جنرل اقبال جھگڑا کے ساتھ زیرو پوائنٹ سے گرفتار ہو گیا اور ہمیں آب پارہ تھانے لے جایا گیا میری گرفتاری کچھ ٹی وی چینلز پر براہ راست نشر ہو گئی ، میں نے کسی نہ کسی طرح پولیس والوں کی نظربچا کے اپنا موبائل فون اپنے پاس ہی رکھا ہوا تھا ۔اس وقت نہال ہاشمی بھی مشکل کا شکار تھےمگر اس مشکل میں مجھے سب سے پہلے خیریت کا فون نہال ہاشمی کی جانب سے ہی موصول ہوا تھا ۔ نہال ہاشمی سے مشرف دور کی آمریت میں رابطہ قائم ہوا ۔ اس وقت مسلم لیگ ن نے پہلی بار خارجہ امور کا شعبہ قائم کرکے اسکی سربراہی کی ذمہ داری میرے سپرد کی تھی۔
اسلام آباد اور کراچی میں اس حوالے سے آنا جانا لگا رہتا تھا جبکہ لاہور میں تو میں رہائش پذیر ہوں ۔ کراچی میں سابق صدر ممنون حسین، سینٹر مشاہد اللہ خان ، نہال ہاشمی ، خواجہ طارق نذیر وغیرہ متحرک ترین تھے ۔ مشرف دور میں اندر باہر ہونے کی آنکھ مچولی بھی چلتی رہی مگر کسی کے پایہ استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی ۔ بہرحال مشرف دور کا خاتمہ ہوا اور مسلم لیگ ن کے کارکنان نے سکھ کا سانس لیا ۔ اس دوران اس بات کا چرچا ہونے لگا کہ کراچی میں جس طرح 1997 کے انتخابات میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں مسلم لیگ ن حاصل کرنےمیں کامیاب ہو گئی تھی،اس صورتحال کو بحال کرنے کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اور خیال غالب ہے کہ اسی مقصد کو حاصل کرنے کی غرض سے کراچی سے مسلم لیگ ن کے متحرک افراد بلکہ کارکنان مختلف سرکاری عہدوں پر متمکن ہوتے چلے گئے ۔ ممنون حسین تو صدر پاکستان کے منصب تک پہنچ گئے جبکہ مشاہد اللہ خان سینیٹر اور وفاقی وزارت تک پہنچ گئے ۔ اسی طرح سے نہال ہاشمی بھی سینیٹ کے رکن بنا دیئے گئے ۔ ایک دن میں کراچی میں ایک تعلیمی ادارے کے مہمان کے طور پر بحریہ کے شیلے میں ساحل سمندر پر ٹھہرا ہوا تھا ۔ یو ای ٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر قریشی بھی وہاں موجود تھے ۔ میں نے نہال ہاشمی کو فون کیا کہ میں یہاں پر ہوں ۔ یہ جگہ کراچی سے کافی فاصلے پر ہے مگر نہال ہاشمی تھوڑی ہی دیرمیں تشریف لے آئے اور آتے ہی سوئمنگ پول کی جانب دیکھ کر کہنے لگے کہ یار یہ تو تیراکی کیلئے خوب جگہ ہے وکلا والا کوٹ سائیڈ پر رکھا اور دھڑام سے سوئمنگ پول میں کود گئے اور میں یہ دیکھتا رہا کہ اس شخص کی بیساختگی اور سادگی سینیٹر بننے کے بعد بھی اسی طرح قائم ہے ۔ جب گورنر سندھ کی تبدیلی کی خبریں گردش کرنے لگیں تو میں نے دس دسمبر 2025ءکو اپنے کالم میں لکھاکہ مسلم لیگ ن کو چاہئے کہ وہ کارکنوں میں سے کسی کو اس منصب پر فائز کرے اور اس میں سب سے پہلے نہال ہاشمی کا نام تحریر کیا کیوں کہ ممنون حسین کے گورنر بننے کے بعد مسلم لیگ ن کا حقیقی کارکن اس منصب پر فائز ہوا ہے جسکی وفاداری منصب سے مشروط نہیں ہے ۔
جب نہال ہاشمی پر کچھ عرصہ قبل مشکل وقت آیاتو پارٹی کے اندر بھی انکے مخالف متحرک ہو گئے مگر میری ان سے جب بھی بات ہوئی تو ہمارا اس پر اتفاق رہا کہ نواز شریف کبھی اپنے آپ سے کسی کو دور نہیں کرتے اور نہ ہی وہ اپنے کارکنان کو بھولتے ہیں اس لئے کسی اور کی مخالفت کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ اب وہ گورنر سندھ کے منصب پر متمکن ہیں اور اس حقیقت سے سب آشنا ہیں کہ سدا بادشاہی صرف رب کی تو جو اس نے منصب عطا فرمایا ہے جب تک اس پر موجود ہیں تو اس وقت تک مخلوق کی بہتری کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہونا چاہئے ۔ سندھ کا ایک بہت افسوس ناک مسئلہ ہندو برادری کو جبری شادیوں کی صورت میں درپیش ہے ۔ گورنر سندھ کو چاہئے کہ وہ صوبائی حکومت کی مشاورت سے فوری طور پریہ مسئلہ حل کرنے کیلئے ایک میکانزم تشکیل دیں اور کھیل داس کوہستانی ، وشال پالیانی جیسے لوگوں کی مدد سے ہندو برادری کو اس صورت حال سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ اسی طرح سے کاروباری برادری کو بھی وہاں پر مشکلات درپیش ہیں ۔ صوبائی حکومت تو اپنے امور جانے مگر وفاقی محکموں جیسے وزارت خزانہ ، ایف بی آر وغیرہ سے منسلک مسائل کو حل کرنے کی غرض سے گورنر ہاؤس میں پورا نظام موجود ہونا چاہئے ، اسی طرح سے لسانی و مسلکی گروہوں کے امور بالخصوص کراچی میں بہت بار افسوس ناک رخ اختیار کرلیتے ہیں تو ان گروہوں میں باہمی خیر سگالی کو برقرار رکھنے کیلئے بھی گورنر ہاؤس کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ اسی طرح سے جو لوگ مشرف دور میں متحرک تھے مگر پھر ناراض ہو گئے جیسے ناصر الدین محمود وغیرہ ان کو منا کر واپس لانا ہوگا، اب وہاں پر لیاقت آرائیں اور منور رضا انتقال کر چکے ہیں اگر گورنر سندھ ان مرحومین کے گھر جائیں تو کارکنان کو احساس ہوگا کہ نہ تو ان کو پارٹی بھولی ہے اور گورنر بھی ان میں سے ہی ہیں ۔ ممنون حسین جب صدر پاکستان کے منصب پر منتخب ہوئے تھے تو میں نے کالم تحریر کیا تھا حق بہ حق دار رسید اور آج نہال ہاشمی کی گورنری پر بھی یہ ہی کہوں گا کہ حق بہ حق دار رسید ۔