• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ببرک کارمل، جن کا حقیقی نام سلطان حسین تھا، کے والد محمد حسین ہاشم افغان فوج میں میجر جنرل اور صوبہ پکتیا کے سابق گورنر تھے،ان کا شمار کابل کے امیر ترین خاندانوں میں ہوتا تھا،کیمونزم سے متاثر ہوئے تو اپنا نام ببرک کارمل رکھ لیایعنی "محنت کشوںکا دوست"۔ان اشتراکی نظریات کے سبب انکے والدنےلاتعلقی کااعلان کردیا۔کابل یونیورسٹی میںباغیانہ سرگرمیوں کی پاداش میں ببرک کارمل کو ظاہر شاہ کے دور میں جیل کی ہوا کھانا پڑی،اسیری کے دوران ببرک کی ملاقات میر اکبر خیبر سے ہوئی،رہا ہونے کے بعد ان دونوں نے PDPAکی بنیاد رکھی۔ببرک کارمل 1965ء میں افغان پارلیمنٹ کے رُکن منتخب ہوئے۔1967ءمیںجب پارٹی دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی تو ببرک کارمل نے PDPAکے پرچم دھڑے کی قیادت کی اور پرچم پارٹی نے 17جولائی 1973ء کو ظاہر شاہ کی عدم موجودگی میں اقتدار پر قبضہ کرنے میں سردار داؤد خان کی مدد کی،تاہم جلد ہی دونوں کے راستے الگ ہوگئے۔27اپریل1978ء کو سردار داؤد خان کا تختہ اُلٹ کر”انقلاب ثور“برپا کرنے میں بھی ببرک کارمل کا نمایاں کردار رہا۔نور محمد تراکئی نے شروع میں ببرک کارمل کو انقلابی کونسل کا ڈپٹی چیئرمین بنایا مگر بعد ازاں جان چھڑانےکیلئےچیکوسلواکیہ میں سفیر بنا کربھیج دیا۔بعد ازاں ببرک کو برطرف کرکے کابل طلب کیا گیا مگر وہ جان بچانے کیلئے روپوش ہوگئے۔سویت یونین کی پولٹ بورو نے نور محمد تراکئی کےبعدحفیظ اللہ امین کا بھی کام تمام کردیا اور 27دسمبر1979ء کو روسی افواج کابل میں داخل ہوگئیں تو ببرک کارمل کی قسمت جاگ اُٹھی،انہیں روسی بیساکھیوں کے ذریعے تخت پر لابٹھایا گیا۔ ببرک کارمل نے کابل میں حالات سدھارنے کی کوشش کی مگر افغان روسی کٹھ پتلی کو قبول کرنے پرتیار نہ تھے۔ برک کارمل نے سب کیلئےعام معافی کا اعلان کیا اور سیاسی مخالفت کی بنیاد پر قتل عام روکنے کا وعدہ کیا مگر یہ سب دکھاوا تھا کیونکہ افغان خفیہ ادارے ”خاد“کے نئےچیف ڈاکٹر نجیب اللہ کی سربراہی میں مخالف سیاسی دھڑے ”خلق“ کے کامریڈوں کو چن چن کر قتل کیا جا رہا تھا۔جب سویت یونین کی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں تو امریکہ انقلاب ایران کے بعد تہران کے سفارتخانے میں پھنسے یرغمالیوں کے معاملے میں اُلجھا ہوا تھا۔ابتدائی طور پرکارٹر انتظامیہ نے روسی مداخلت پر کوئی خاص توجہ نہ دی،دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی کو بہتر سمجھا۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرنے کی پاداش میں روس پر چند کاغذی پابندیاں عائد کیں۔امریکی مصنفہ روزینے کلاس نے لکھا ہے کہ ”امریکہ نے پے در پے معمولی نوعیت کے چند سیاسی اور معاشی اقدامات کئے۔“مثلاً، خلیج فارس کے تحفظ کیلئےسریع الحرکت فورس کی تشکیل (گویااس پہلے ہی اقدام سے واضح ہو گیا کہ روس خلیج فارس میں نہ آئے تو وہ افغانستان میں رہ سکتا ہے) سالٹ ٹو کے معاہدے سے کنارہ کشی۔ کیف (Kiev)میں امریکی قونصل خانے کے قیام سے اجتناب‘ اسی طرح نیویارک میں سوویت قونصل خانہ بھی نہیں کھلے گا۔ ثقافتی و تجارتی وفود پر پابندی، اہم امریکی ٹیکنالوجی کی سہولت کا خاتمہ، امریکی سمندر میں مچھلی کے کاروبار کے حقوق میں کمی، پالتو جانوروں کے لئے 17 ملین ٹن غلے کے معاہدہ کی منسوخی اور 1980ء میں ماسکو اولمپکس گیمز کا بائیکاٹ۔امریکی مصنفہ روزینے کلاس نے اپنی تصنیفRevisited Afghanistan The Great Game کے صفحہ نمبر 64پر لکھا ہے کہ یہ پابندیاں سوچے سمجھے بغیر جلد بازی میں عائد کی گئی تھیں‘ کچھ بے فائدہ تھیں‘ آخر کار بہت سے اقدامات واپس لے لئے گئے۔ امریکن ڈپلومیسی لڑکھڑاہٹ‘ بزدلی‘ بے ربطی‘ تناقض اور دلاسا کا مجموعہ تھی۔ ایسی مریل‘ لاغر اور بے جان ڈپلومیسی سے متمرد‘سرکش اور بے لگام روس کو قابو نہیں کیا جاسکتا تھا۔فرانسیسی فوجی افسر کاؤنٹ الیگزینڈر ڈی مارن چس Count De Marenches جو فرانسیسی خفیہ ادارے کے سابق ڈائریکٹر ہیں اور بعد ازاں امریکی صدر رونالڈ ریگن کے مشیر بھی رہے، انہوں نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”The Evil Empire“ میں افغانستان پر روسی جارحیت کی پہلے سے ہی خبر دیدی تھی۔کاؤنٹ ڈی مارن چس کی عظمت کا اندازہ اس بات لگائیے کہ انکی کتاب (The Evil Empire) کے پہلے ایڈیشن کی 6لاکھ کاپیاں صرف فرانس میں فروخت ہوئیں۔ امریکی صدر ریگن نے ایک شام کیلیفورنیا میں اس عظیم المرتبت مصنف کو خصوصی دعوت پر مدعو کیا کاؤنٹ ڈی مارن چس نے بھی اپنی کتاب ”The Evil Empire“میں امریکی تذبذب کا ذکر کیا ہے۔وہ اس کتاب کے صفحہ نمبر 102پر لکھتے ہیں کہ جب روسی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں تو مغرب کی خفیہ ایجنسیاں حیران و ششدر تھیں اس لئے انہوں نے افغان مزاحمت کاروں کی کوئی مدد نہ کی۔ مغربی دنیا غفلت کی نیند سو رہی تھی کیوں کہ وہ ہمیشہ اپنی عادت کے مطابق بے خبر ہوتی ہے۔ اس کے خفیہ ادارے اپنے فرائض ادا نہیں کر پاتے یا اکثر اوقات ان کی سنی نہیں جاتی۔ صورت حال جو بھی ہو مغربی مدبرین کو بہر حال ان پریشان کن صداقتوں سے پالا پڑتا ہے۔روس حملے کے بعد یورپ اور امریکہ کے الیکٹرانک میڈیا نےافغان حریت پسندوں سے متعلق ”افغان باغی“ کے مکروہ الفاظ استعمال کرنا شروع کر دیئے۔ جب میں فرانسیسی ریڈیو یا بی بی سی کو افغان باغی کہتے ہوئے سنتا ہوں تو بول اٹھتا ہوں کہ یہ الفاظ کتنے المناک ہیں؟ کتنے کربناک ہیں۔ 1940ء میں فرانس کو روندا گیا تو بی بی سی کی وقیع نشر گاہ ہمارے لئے امید کی کرن تھی آج وہی بی بی سی آزادی کے افغان متوالوں کو افغان باغی کہہ رہی ہے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں جب فرانس پر جرمنی کا قبضہ تھا تو آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والے فرانسیسی باغی تھے....؟

تازہ ترین