• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پروفیسر خالد اقبال جیلانی

عیدالفطر کا دن اس اعتبار سے بےحد اہم ہے کہ آغاز اسلام سے آج تک عید منائی جا رہی ہے۔ یہ دن اسلامی اجتماعیت اور اتحاد و اتفاق کا آئینہ دار ہے۔ اتفاق و اتحاد کی اہمیت کے پیش نظر اسلام نے مختلف عبادات میں اجتماعیت کی روح کو برقرار رکھا ہے۔ روزانہ پانچ وقت نماز ادا کرنے کے لئے مسلمان ایک مسجد میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ عمل فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ایک ہی وقت میں قیام و رکوع، سجدہ و سلام، اسلامی یک جہتی اور ہم آہنگی کا تاثر دیتا ہے۔

عید الفطر کے موقع پر تمام مسلمان عبادت کے لئے عید گاہ میں جمع ہوتے ہیں۔ سب کی زبانوں پر تکبیر الٰہی، تحمید، تسبیح سبحانی اور تہلیل ِ وحدانی کے ایک ہی کلمات جاری ہوتے ہیں۔ اللہ کے حکم سے مہینہ بھر کے روزے رکھ کر اللہ کے فرماں بردار بندے اس کی رحمت و مغفرت کی لو لگائے عید گاہ آتے ہیں۔ 

اس روح پرورسماں اور پُرکیف منظر کو دیکھ کر مسلمان دلی مسرت محسوس کر تا ہے اور ارباب فکر یہ سوچتے ہیں کہ جس طرح مسلمان عید گاہ کے اس مقام پر یکجا ہیں، کاش زندگی کے ہر مرحلے اور حیات ایمانی کے ہر موڑ پر اسی طرح متحدو متفق ہوجائیں تو ان کے تمام مسائل بآسانی حل ہوسکتے ہیں۔

کامیابی حاصل کرنے کا دارو مدارامّت کے اتحاد و اتفاق اور مسلمانوں کی آ پس کی محبت و یگانگت پرہی ہے۔ موجودہ دور اور حالات میں زندگی کے متنوع مسائل حل کرنے کے لئے ہمیں دین و سیاست، معیشت و تعلیم ، سائنس و ٹیکنالوجی اور عسکری و دفاعی شعبوں میں متحد اور پیہم کوشش اور جد و جہد کی اشد ضرورت ہے۔

ورنہ نتیجہ خاطر خواہ نہ ہوگا۔ اس وقت وحدتِ امّت کا شعور مسلمانوں کو دنیا کے مختلف حصوں میں ان کے دینی بھائیوں اور عالم اسلام کے ساتھ پیش آنے والے کفر کی عالمی طاقتوں کے ظالمانہ برتاؤ پر بے قرار اور بے چین کیے ہوئے ہے۔ دنیا والے اس بے قراری اور بے چینی کو مختلف نام دے رہے ہیں لیکن در حقیقت یہ دینی اخوت اور محبت کا فطری تقاضا ہے۔ اسی طرح اسلام نے انسانی اخوت کا نظریہ بھی پیش کیا ہے جسے امّت نے عملی شکل دی ہے۔

عید الفطر کا یہ موقع دونوں نوعیت کے رشتوں کو فروغ اورتقویت دینے کا متقاضی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’یہ تمہاری امّت ایک امّتِ واحدہ ہے‘‘۔ (سورۂ انبیاء ۹۲) تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں جیسے ایک انسانی جسم اپنے تمام اعضاء کے ساتھ متحد ہوتا ہے بعینہ پوری امت تمام مسلمانوں کے ساتھ متحد وجود کی حیثیت رکھتی ہے۔

رمضان المبارک کا مہینہ جو کل اختتام پذیر ہو ا در اصل عبادت و ریاضت ، تزکیۂ نفس اور حصول تقویٰ کا مہینہ تھا اور یہی کچھ عبادت کی غرض و غایت بھی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جو تمہارا اور تم سے پہلے لوگوں کا خالق ہے، تاکہ تم (عباد ت کے ذریعہ) تقویٰ حاصل کر سکو‘‘ (سورۃالبقرہ ۲۱)

معلوم ہوا کہ اسلامی عبادات کی اصل غرض و غایت حصولِ تقویٰ ہے جس کے ذرائع نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ تقویٰ، اخلاص، توکل علیٰ اللہ اور صبر و شکر بھی ہیں۔ جن کا تعلق انسان کے دل سے ہے اور یہ وہ عبادات ہیں جو اسلام کی روح اور تمام اعمال کا جوہر ہیں۔ لہٰذا اس دن خوشی کا اظہار کرنا دینی و ملّی شعار ہے۔ 

خوشیاں آتی اور گزر جاتی ہیں مگر سرور و انبساط کے اس ہجوم میں اس پہلو پر بھی غور کرنے کی زحمت گوارا کریں کہ ہر دن کی طرح عید کا دن بھی گزر جاتا ہے، لیکن امّت کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ انہیں حل کرنے کی ذمہ داری مسلمانوں کے دوشِ ناتواں پر باقی رہتی ہے۔ 

یہی نہیں بلکہ ہر نئی عید نئے مسائل اور نئے چیلنجز لے کر آتی ہے۔ جیسا کہ اس رمضان اور عید پر بھی امّت کو کفر اور شرک کی عالمی قوتوں کی جانب سے اپنی بقا ، سلامتی اور اتحادو اتفاق کے چیلنجز کا سامنا ہے، لہٰذا آج کی عید کے دن کا تقاضا یہ ہے کہ پوری امّت اورہر ہر ایمان والا دلوں کی کدورتوں کو بھلا کر، فرقہ واریت کی تفریق کو اپنے پاؤں تلے روندکر اللہ کی رسی، قرآن کو اجتماعی طور پر تھام کر بلا تفریق مسلک و مشرب متحد ہو کر آگے بڑھیں اور ایک دوسرے کو پیا ر ومحبت کے ساتھ گلے لگائیں۔ آج کے دن باہمی رنجشوں اور اختلافات کو فراموش کر کے اور لسانی و علاقائی تقسیم کو پس پشت ڈال کر محبت و اخوت ،دینی اور ملی بھائی چارگی کا پیغام عام کریں۔

عید کی مسرتوں کے حقیقی حق دار وہی لوگ ہیں جنہوں نے رمضان المبارک کا دل سے احترام کیا، اس کے تقدس کا حق ادا کیا، اس کے دنوں کو روزوں ، تلاوت ِ قرآن دیگر عبادات اور صدقہ وخیرا ت سے معمور کیا اور اس کی راتوں کو تراویح، قیام اللیل ، ذکر و اذکار اور دعا و مناجات سے زندہ اور منور کیا۔ ماہِ صیام کا قومی اور ملی فائدہ یہی ہے کہ صاحب توفیق مسلمانوں کے دل میں اپنی قوم کے مفلس اور محروم افراد کی عملی ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو۔ 

اسی لئے صدقۂ فطر کو مشروع قرار دیا گیاہے۔ صدقۂ فطر کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہمارے غریب، محتاج اور نادار بھائی بھی عید کی خوشیاں اور مسر تیں خرید کر ہمارے ساتھ اتفاق و اتحاد اور محبت و یگانگت کی لڑی میں بند ھ جائیں۔ انہیں اپنے بچوں کے لئے عید کی تیاری کے لئے در در کی خاک نہ چھاننی پڑے۔ گویا خوشی اور شادمانی کے اس مبارک دن جسد واحد کی شکل اختیار کرلیں۔ اس سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ اسلام نے اخوت و ہمدردی، مواسات و خبر گیری اور اتحاد و تعاون کے مسئلہ کو کتنی اہمیت دی ہے۔

ہمیں آج کے دن سب سے پہلے اپنی رمضان کی نیکیوں اور عبادات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا واقعی ہم اپنے روزوں، نمازوں، تلاوت قرآن اور دیگر عبادات کے ذریعہ رمضان کا حق ادا کرسکے یا نہیں۔ اگر حق ادا کرسکے تو پھر اس سے زیادہ مسرت اور خوشی کی کوئی اور بات ہو ہی نہیں سکتی اور اگر حق ادا نہیں کر سکے تو پھر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ سالِ آئندہ رمضان میں بشرطِ زندگی اپنی کوتاہی کی تلافی کرنے کی پوری پوری کوشش کریں گے۔ 

اسلامی اصولوں اور قرآنی احکامات کے ساتھ مضبوط و مستحکم اور استوار کرنے کا عزم صمیم کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ اب ہماری بقا ، سلامتی اور غلبہ دین کا کوئی راستہ نہیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ (آمین)

اسپیشل ایڈیشن سے مزید