• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کولن پاول، امریکا کا سابق سیکرٹری آف اسٹیٹ تھا۔ اس نے ان پندرہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کا اشتراک عمل دیکھتے ہوئے جس میں بچیوں کے اسکول پہ بم مارنے سمیت ظالمانہ ڈر ونز اور ایران کے شہروں اور انسانی آبادی پہ بے تحاشہ حملوں اور ایران کی عظیم شخصیت آیت اللہ خامنہ ای، ان کے خاندان اور دیگر رہنمائوں کو زمین میں دفن کرنے کے حملوںاور پندرہ دن سے مسلسل بمباری کو دیکھ کر، تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جو کچھ اسرائیلی فوج اور نیتن یاہو نے کیا ہے، اس کا انجام یہ نظر آرہا ہے کہ اسرائیل بطور ملک اب نہیں رہ سکے گا۔امریکہ کے ساتھ ان پندرہ دن میں مساوی شریکِ بمباری ہونے کے بعد اسرائیل بطور ملک قائم نہیں رہ سکےگا۔ کولن پاول نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اب امریکہ پہ ایک بوجھ بن کر رہ جائیگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ ابھی تک مصر ہے کہ میرے ساتھ کچھ ممالک مل جائیں توآبنائے ہرمز کا محاصرہ ختم کر کے، ایران کو شکست دے سکتا ہوں۔ اس وقت دنیا کے تمام ممالک نے ٹرمپ کا ساتھ دینے سے گریز کیا ہے اور اب پندرہ دنوں کے بعد، ایرانی حکومت نے پاکستان کی حمایت کا شکریہ بھی ادا کرتے ہوئے، گہرے روابط کی توقع کی ہے کہ ایران تو وہ ملک ہے جہاں فردوسی، فارسی کے عظیم شعرا اور فلسفی خاص کرشاہنامہ عالمی سطح پر ہر زبان میں ترجمہ ہوا ہے۔ عظیم شعرا ، محققین اور مذہبی رہنمائوں کی قبور تک 6ہزار سال سے یونیسکو اور سارے عالمی اداروں اور مذہبی رہنمائوں کے حضور سجدہ ریز ہونےکیلئے ہزاروںطائفے ہر مہینے آتے اور مزارات پر حاضری دیتے ہیں۔

برطانیہ تک نے کہا ہے کہ ہمارے ملک کاجنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ، دنیا کی ساری اقوام کو انسانیت کا سبق دینے کا فیصلہ ہے۔

ان پندرہ دنوں میں ایران نےجس طرح حملے کیے ہیں۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ ا یران کے سالار، بہت دانشمند اور موقع محل دیکھ کر فوج کو حملہ آور ہونے کا کہتے ہیں۔ ٹرمپ بار بار کہہ رہا تھا ’’ایران غریب ملک ہے، اس کا اسلحہ تو چند دن میںختم ہو جائے گا‘‘۔ اس نے47سال سے مربوط اور مستحکم نظام کا اندازہ نہیں کیا تھا ۔ پھر ٹرمپ کو شہ دینےکیلئے مسلمانوں کا ازلی دشمن، جو لاکھوں فلسطینیوں کو زیر زمین کرنے کے بعد بھی جنگ نہیں جیت سکا تھا، وہ اپنی خصلت کی آگ میں امریکہ کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ اب کوئی پوچھے وہ چھ انگلیوں والا منحوس نیتن یاہو کہاں ہے۔ یہودی یہ بتا نہیں رہے کہ وہ ہلاک ہو چکا ہے۔

مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن سینکڑوں ایرانی خاندانوں کو اور مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک پہ بم برسا کر مطمئن ابھی تک نہیں ہوا تھا۔ ایرانی سالار ان کی حکمت کو وہ سمجھ ہی نہ سکا تھا۔ ٹرمپ تو اول فول بولنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ۔ امریکی خود اس کی حرکتوں اور خود کو عظیم سمجھنے کی رعونت سے نفرت کر رہے ہیں۔ امریکہ ایک زمانے تک ساری دنیا کے لوگوں کی پناہ گاہ بنا رہا۔ ٹرمپ نے آتے ہی ملکی سالمیت میں دراڑ ڈال دی۔ کبھی وہ وینزویلا پہ حملہ آور ہوتا، کبھی سوڈان پہ اور دو نسلوں سے آباد ایشیائی قوموں کے لوگوں میں نفرتیں پھیلانے کیلئے کبھی ویزے بند کرتا، کبھی غریب بیکار افریقی ملکوں کے لوگوں کو ملک بدر کرنے کے نعرے لگاتا، امریکہ میں امن پسند لوگوں کے بچوں پہ گولیاں چلواتا مشکل سے سال گزارا تھا۔ سوچتا ہو گا کہ پاکستان تو اب میرا مطیع ملک ہے۔ اسے ایمان کی قوت اور جمعیت کا اندازہ ہی نہیں تھا۔

ٹرمپ پہ کوئی شرمندگی کی لہر ابھی تک نہیں نظر آرہی ہے۔ ایران کے خصوصی بنائے گئے سجیل میزائل نےبہت کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کی کامیابی کے باعث دنیا کے بیشتر ملکوں نے ٹرمپ کو جنگ میں شریک ہونے سے قطعی طور پر انکارکیا ، نیٹو جیسے ادارے نے بھی ایران کے ساتھ جنگ کرنے پہ آمادگی ظاہر نہیں کی۔ بتایا گیا ہے کہ 30لاکھ لوگ بے گھرہوگئے کئی ہزار مارے گئے۔ ٹرمپ کہہ رہا ہے کہ ہم نے ایران کا بحری اور دفاعی نظام بالکل تباہ کر دیا ہے۔ یہ سب کیوں جاری ہے کہ ایک طرح سے یہ جنگ ساری دنیا کی مخالفت کے بعدتو بند ہو جانی چاہیے ۔ انسانوں کو مارنے کا یہ رویہ ٹرمپ کو بدلنا پڑے گا۔

ایران کے واقعات لکھتے ہوئے مجھے شمالی علاقہ جات میں پاکستان کی بہادر افواج کا طالبان کے جتھوں، ہتھیاروں اور اسلحہ کے ذخائر کو تباہ کرنے کے واقعات، جسکی کامیابی کاسارا کریڈٹ ہماری فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل کی کامیاب منصوبہ بندی کو جاتا ہے۔ یہ فتنہ ابھی تک پوری طرح قابو میں نہیں آیا ہے بلکہ صوبہ بلوچستان اور کے ۔پی میں ان کے اڈوں اور مراکز کو نشانہ بنانے کے باوجود، یہ فتنہ روز کئی علاقوں کو تباہ کر رہا ہے۔ چین نے بھی کہا ہے کہ اس طرح کے فتنوں کو جلد ختم کیا جائے۔

ابھی یہ حال ہے کہ ایران اور اسرائیل ، ایک دوسرے پر بے تحاشہ بمباری کر رہے ہیں۔ جنگ بند کرنے کی بات پہ دونوں ملک صحیح جواب نہیں دےرہے۔ اسرائیل ایران کے اسکولوں کے بچوں پر بمباری کر رہا ہے۔’’ٹرمپ سے پوچھو جنگ کب بند ہو گی۔‘‘ کسی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں ۔ تیل اور گیس کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں۔ اللّٰہ رحم کرے۔

تازہ ترین