23 مارچ 1940کا دن۔لاہور کی فضا میں ایک عجیب سی تازگی، ایک غیر معمولی تحرک اور ولولہ انگیزی تھی۔ منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) کی جانب ہر گلی، ہر سڑک، ہر موڑ پر لوگوں کا ایک سمندر امڈتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ دور دراز علاقوں سے قافلے، آنکھوں میں خواب اور دلوں میں ایک ہی تڑپ لیے آگے بڑھ رہے تھے۔آزادی کی تڑپ۔وہ کوئی عام اجتماع نہ تھا، وہ ایک قوم کی بیداری کے تاریخی لمحات تھے۔ہر طرف ”مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ“”لے کے رہیں گے آزادی، بن کے رہے گا پاکستان“کے نعرے گونج رہے تھے۔ ہر آنکھ میں امید کی چمک تھی۔ جب قائدِ اعظم محمد علی جناح اسٹیج پر تشریف لائے تو فضا نعروں سے گونج اٹھی۔ ”قائد اعظم زندہ باد!“،”پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ!“یہ نعرے صرف الفاظ کا مجموعہ نہ تھے، یہ ایک نظریہ تھا، ایک اعلان تھا کہ برصغیر کے مسلمان اب اپنی تقدیر خود لکھنے کا عزم کر چکے ہیں۔قرارداد پیش کی گئی۔ الفاظ سادہ مگر انتہائی اثر انگیز تھے۔ اس میں ایک ایسے وطن کا تصورپیش کیا گیا تھا جہاں مسلمان آزادی کے ساتھ، اپنی مرضی اور منشا کے مطابق اپنے دین، ثقافت اور روایات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ جیسے ہی قرارداد کی منظوری کا اعلان ہوا، پورا میدان پرجوش نعروں سے گونج اٹھا۔ لوگ ایک دوسرے کو گلے لگا رہے تھے، آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے، اور لبوں پر شکر کے کلمات۔آج جب ہم 23 مارچ کے اس ولولہ انگیز دن کو کو یاد کرتے ہیں تو وہ منظر آنکھوں کے سامنے تازہ ہو جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس جذبے، اس عزم اور اس اتحاد کو برقرار رکھ سکے؟موجودہ پاکستان ایک مختلف دور سے گزر رہا ہے۔ عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے دھارے، خطے میں کشیدگی اور اندرونی چیلنجز،یہ سب ہمارے پیشِ نظر ہیں۔ مگر ہم اپنے جغرافیے کو دیکھیں تو آج بھی پاکستان اسی اہم مقام پر کھڑا ہے جہاں وہ 1940 میں ایک امید کے طور پر ابھرا تھا۔پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اسے عالمی سطح پر ایک اہم ترین ملک کے مقام پر فائز کرتی ہے۔ چین، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھنے والا پاکستان خطے کے اہم ترین اسٹیک ہولڈر کے طور پر عالمی برادری کیلئے اہم ترین کردار کا حامل ملک بن چکا ہے۔ گوادر کی بندرگاہ، اقتصادی راہداری اور علاقائی روابط یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی اہمیت وقت کے ساتھ کم نہیں ہوئی بلکہ مزید بڑھ رہی ہے۔ تاہم کامیابی اس وقت ملتی ہے جب قوم مواقع کو پہچاننے اور اس سے مستفید ہونے کیلئے نہ صرف پر عزم ہو بلکہ اس کیلئے عملی اور ذہنی طور پر تیار بھی ہو۔1940 کے منٹو پارک میں موجود لوگ شاید وسائل میں کمزور، مگر ارادوں میں مضبوط ترین تھے۔ آج ہمارے پاس وسائل بھی ہیں، تعلیم بھی، ٹیکنالوجی بھی۔مگر کیا ہمارے اندر وہی جذبہ ہے؟
کیا ہم اسی اتحادکے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں؟آج کا پاکستان اگر اپنے اندرونی استحکام کو مضبوط کرے، اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن بنائے اور اپنی نوجوان نسل کو صحیح سمت دے تو اس عروج کی طرف بڑھ سکتا ہے جسکا خواب 23 مارچ 1940 کو دیکھا گیا تھا۔جب میں اس منظر کو چشمِ تصور سے دیکھتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے وقت کا پہیہ رک گیا ہو، اور وہ لوگ آج بھی وہیں کھڑےپرچم اٹھائے، نعرے لگاتے، ایک آزاد وطن کے خواب کو حقیقت بنتا دیکھ رہے ہوں۔اگرچہ پاکستان گزشتہ کچھ برسوں سے اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔معاشی پریشانیاں ہر آنے والے دن کو مشکل سے مشکل ترین بنا رہی ہیں۔سیاسی بحران طویل ہوتے جا رہے ہیں اور انہی سیاسی بحرانوں نے اندرونی تقسیم کا تاثر نمایاں کیا ہے پھر بھی انہی بحرانوں کے دوران گزشتہ برس بھارت کی طرف سے کی گئی اشتعال انگیزی نے پوری قوم کو یکجا کر دیا تھا۔یہ اس قومی اتحاد کا ہی نتیجہ تھا کہ بھارت جیسے جارح مزاج ملک کی اسرائیلی پشت پناہی کے باوجود وہ درگت بنی تھی کہ پوری دنیا میں اس کا تمسخر اُڑایا گیا۔آج ایران امریکہ اسرائیل جنگ میں اگرچہ پاکستان براہِ راست اسٹیک ہولڈر نہیں لیکن اسکی جغرافیائی اور عالمی اہمیت اس تنازعے میں پاکستان کے اہم ترین کردار کو اجاگر کر رہی ہے۔اگرچہ اس سال موجودہ عالمی صورتحال کے تناظر اور توانائی کی بچت کے پروگرام کے تحت مسلح افواج کی پر جوش پریڈ اور قومی تقریبات منسوخ کر دی گئیں ہیں لیکن پھر بھی یہ دن اسی روایتی جوش و ولولے اور عزمِ نو کا متقاضی ہے جس کا عہد 23مارچ 1940کو کیا گیا تھا۔تاریخ فراموش کرنے کیلئے نہیں بلکہ مستقبل کی راہیں متعین کرنے کیلئے سمت کا اشاریہ ہوتی ہے۔یومِ پاکستان صرف ایک تاریخ نہیں، یہ ایک احساس ہے۔ ایک یاد دہانی ہے کہ ہم نے کس جذبے کے ساتھ یہ ملک حاصل کیا تھا، اور ہمیں اسے کس عزم کے ساتھ آگے لے جانا ہے۔آج ہمیں پھر اسی جوش، اسی ولولے اور اسی اتحاد کی ضرورت ہےتاکہ پاکستان نہ صرف اپنے مسائل پر قابو پا سکے بلکہ دنیا میں ایک باوقار، مضبوط اور خودمختار ریاست کے طور پر ابھرے۔
(مصنف جناح رفیع فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہیں)