• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’نظام بدلنا‘‘ وطن عزیز کا مقبول ترین سیاسی نعرہ ہے یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے ’’نیا پاکستان‘‘ بنانے کا وعدہ کرکے حکومت حاصل کی لیکن محض چہرے اور نام تبدیل ہوئے، نظام کو بیخ و بن سے نہ اُکھاڑا جاسکا۔ نظام کے کَل پُرزوں کی بات کریں تو سب سے زیادہ پولیس کا نظام اور افسر شاہی کا قبلہ درست کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں۔ عوام اور حکام دونوں کا منشا تو یہی ہے کہ تھانہ کلچر اور بیوروکریسی میں اصلاحات کی جائیں مگر بنیادی خواہش کے برعکس حقیقی مطمح نظر یکسر مختلف ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پولیس ان محافظ بنے اور سرکاری افسر خود کو پبلک سرونٹ سمجھیں مگر حکمرانوں کا ہدف یہ ہوتا ہے کہ پولیس انکی چوہدراہٹ برقرار رکھنے کیلئے ہر ناجائز کام کرے جبکہ سول سرونٹ انہیں قانونی موشگافیوں میں اُلجھانے اور فائلوں کے سقم دکھانے کے بجائے ہر حکم کی تعمیل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ تبدیلی سرکار یعنی عمران خان کے دور میں بیوروکریسی کی اصلاحات کیلئے بنائی گئی کمیٹی کامیاب ہوسکی اور موجودہ دور میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں قائم بیوروکریسی اصلاحاتی کمیٹی سے کسی کارہائے نمایاں کی توقع بھی کم ہی ہے۔ اگر پولیس کی بات کریں تو حکمرانوں کا طریقہ واردات یہ ہے کہ اپنی مرضی کے پولیس افسر تعینات کرنے کے بعد عوام کو مطمئن کرنےکیلئے چند ماڈل پولیس اسٹیشن بنادیئے جاتے ہیں ،فرنٹ ڈیسک جیسے نمائشی اقداماتک کئے جاتے ہیں یا پھر پولیس کی وردی تبدیل کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ تھانہ کلچر بدل گیا ہے۔عید سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ نے چند سول سرونٹس کی درخواستوں پر جو فیصلہ صادر کیا ہے ،وہ نہ صرف پورے نظام کی حقیقت بیان کرنےکیلئے کافی ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نظام کی تبدیلی کے نعرے لگانے والے منتخب عوامی نمائندے کتنے غیر سنجیدہ ہیں۔

پاکستان میں 22ویں گریڈ کو سول سروس کی معراج سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ گریڈ 21سے22میں ترقی کا فیصلہ وزیراعظم کی سربراہی میں قائم High-Powered Selection Board(HPSB) کرتا ہے۔ 5مارچ 2025ء کو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں اس بورڈ نے 36افسروں کو گریڈ 22میں ترقی دینے کی منظوری دی تاہم جن سینئر افسروں کو نظر انداز کیا گیا، ان کا خیال تھا کہ متعلقہ قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے سیاسی بنیادوں پر من پسند افسروں کو ترجیح دی گئی ۔چنانچہ کئی افسروں نے اسلام آبا دہائیکورٹ رجوع کیا۔ ان میں سے صرف ایک سول سرونٹ جن کا تعلق پولیس سروس سے ہے ان کا مقدمہ اور اس پر ہائیکورٹ کا فیصلہ آپکے سامنے رکھنا چاہوں گا۔ جب وزیراعظم عمران خان کو اپریل 2022ء میں رُخصت ہونا پڑا تو پنجاب بھی سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوگیا تب فیصل شاہکار انسپکٹر جنرل پنجاب تھے۔ پی ڈی ایم اور تحریک انصاف کے درمیان اقتدار کی کھینچا تانی کے باعث انہوں نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے درخواست کی وہ پنجاب میں فرائض انجام دینے سے قاصر ہیں لہٰذا کسی اور جگہ تعینات کردیا جائے ۔انہیں تاحکم ثانی کام جاری رکھنے کو کہا گیا۔ بعدازاں فیصل شاہکار اقوام متحدہ میں خدمات سرانجام دینے کیلئے منتخب ہوگئے، پنجاب میں وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے اسمبلی تحلیل کردی تو دسمبر2022ء میں عامر ذوالفقار خان کو آئی جی پنجاب تعینات کردیا گیا۔تب پنجاب میں محسن نقوی نگران وزیراعلیٰ جبکہ وفاق میں شہبازشریف وزیراعظم تھے ۔بعد ازاں صورتحال مزید مخدوش ہوگئی ۔عامر ذوالفقار توقعات پرپورا نہ اُتر سکے تو 25جنوری 2023ء کواس عہدے سے ہٹا کر OSDبنادیئے گئےاور ہنوزکھڈے لائن ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ میں شاید یہ اپنی نوعیت کی انوکھی مثال ہے کہ اس قدر سینئر افسر مسلسل تین سال سے تعیناتی کا منتظر ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس انعام امین منہاس نے ان کی پٹیشن پر نہ صرف OSDرکھنے کو غیر قانونی قرار دیا ہے بلکہ انہیں ترقی نہ دینے کے معاملے پر بھی ناانصافی کی نشاندہی کی ہے۔وہ لکھتے ہیں’’عامر ذوالفقار خان کا کیس بورڈ کی غیر معقول فیصلہ سازی کی شاید سب سے واضح مثال ہے۔بورڈ نے بیک وقت یہ ریکارڈ کیا کہ متعلقہ افسر کی Performance Evaluation reportsاورTraining Evaluation reportsقابل قبول ہیں مگر اسکے باوجود اسے دیانتداری کے ضمن میں ’’D‘‘گریڈ دیا گیاساتھ ہی کہا گیا کہ اہم عہدوں پر تعیناتی کے دوران اسکا طرز عمل شفاف نہیں رہا اور وہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی طرف مائل رہے۔‘‘آگے چل کر جج صاحب نے سوال اُٹھایا کہ ان الزامات کے ثبوت کیا ہیں ؟کیا سروس ریکارڈ میں کوئی ایسی چیز موجود ہے؟کوئی محکمانہ انکوائری ہوئی ہو،ACRمیں کسی قسم کی کوئی چیز رپورٹ ہوئی ہو Performance Evaluation Reportsیا پھر Confidential Reports Annual میں کسی ایسی بات کی نشاندہی کی گئی ہو۔اگر ایسی کوئی بات رپورٹ نہیں ہوئی تو پھر جونیئر افسروں کو ترقی دیکر سینئر افسروں کو نظر انداز کیوں کیا گیا؟سوال تو یہ بھی ہے کہ ایک ایسا افسر جو شاندار کریئر کا حامل ہے جس نے ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس کے طور پر کام کیا،جسے آئی جی اسلام آباد تعینات کیا گیا ،پھر آئی جی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹرویز پولیس لگایا گیا اور جس نے پنجاب میں انسپکٹر جنرل پنجاب کے طور پر خدمات سرانجام دیں ،اسے آپ نااہل تو قرار نہیں دے سکتے اگر Integrityکے ضمن میں کوئی شکایت تھی تو ان اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیوں کیا گیا؟اگر ان عہدوں پر تعیناتی کے دوران اسکی Integrityپر سوالات کھڑے ہوئے تو پھر سروس ریکارڈ میں اسکی نشاندہی کیوں نہ کی گئی ؟معزز عدالت نے عامر ذوالفقار خان کو OSDرکھنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور دو مرتبہ نظر انداز ہونے کے بعد عائد پابندی کو ختم کرتے ہوئے بورڈ کو 22ویں گریڈ میں ترقی دینے کے معاملے پر ازسر نو غور کرنے کا حکم دیا ہے ۔یہ بھی کہا کہ سنی سنائی باتوں پر انحصار کرنے کے بجائے ترقی کیلئے غیر موزوں قرار دینے کی صورت میں ٹھوس وجوہات بیان کی جائیں لیکن اس پورے نظام کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔شاید اب انکی ریٹائرمنٹ میں چند ہی ماہ باقی ہیں ،اگر سول سرونٹس کو سیاسی جماعتیں یوں پسند ناپسند کے خانوں میں تقسیم کردیں گی تو پھر سول سرونٹ نہیں انکے ذاتی ملازم باقی رہ جائیں گے۔

تازہ ترین