امریکی صدر ٹرمپ کے ایرانی پاور پلانٹس پر 5 دن تک حملے روکنے کے باوجود اسرائیلی فوج نے اگلی ہدایات تک ایران پر حملے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
عرب میڈیا الجزیرہ کی ویب سائٹ کے مطابق تاحال اسرائیلی حکام نے صدر ٹرمپ کے اعلان پر باضابطہ تبصرے سے گریز کیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نہ اس فیصلے کو سراہ رہے ہیں، نہ اس پر تنقید کر رہے ہیں۔
مقبوضہ غرب اردن سے الجزیرہ کی رپورٹر نے لکھا ہے کہ بند دروازوں کے پیچھے تل ابیب میں یہ انڈر اسٹینڈنگ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کوئی ڈیل اسرائیلی مفادات کے خلاف نہ ہو۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہونے والی سفارتکاری کوششوں پر اپنی رپورٹ میں قطر کے نیوز چینل الجزیرہ نے لکھا ہے کہ پاکستان، مصر، ترکیے، سعودی عرب، اومان اور قطر کے رابطے جاری ہیں۔
ان سب کا مقصد ان سفارتی راہداریوں کو کھولنا ہے جو جنگ شروع ہونے کے بعد سے بند ہیں، سب ہی جنگ بندی کے لیے کوشاں ہیں، لیکن الجزیرہ نے لکھا ہے کہ اسرائیل اس سارے معاملے میں غیر متوقع ردعمل دینے والا کردار ادا کرسکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نہ صرف متحارب گروپوں، بلکہ مشرق وسطیٰ اور اس کے دارالحکومتوں میں معاملات بگاڑ سکتا ہے۔